Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 6213 articles
Browse latest View live

Gaza Little Paralysed Girl Needs Urgent Help

$
0
0
Seven-year-old Maha is paralyzed below the neck down following an airstrike in Gaza. Her mom, her dad and four sisters were reported killed in the same airstrike, which injured several of her sisters. Doctors at al-Shifa hospital say the girl needs urgent surgery abroad to try to recover nerve function in her upper limbs. 

Maha, who can still move her head, gazes at people around her and listens ...to all they say. An aunt and several relatives are staying with her at al-Shifa hospital's pediatric ward. 

Maha has been waiting for several weeks to be allowed to leave Gaza and seek treatment abroad. Coordinating the referral of patients abroad remains a complicated process that involves various stakeholders in the coastal enclave, which has been under closure since 2007.  

Photo: © UNICEF / Eyad El Baba

Imran Khan's Political Future

منی لانڈرنگ.......Money laundering

$
0
0

Money laundering is the process whereby the proceeds of crime are transformed into ostensibly legitimate money or other assets.[1]However, in a number of legal and regulatory systems the term money laundering has become conflated with other forms of financial crime, and sometimes used more generally to include misuse of the financial system (involving things such as securities, digital currencies such as bitcoin, credit cards, and traditional currency), including terrorism financing, tax evasion and evading of international sanctions. Most anti-money laundering laws openly conflate money laundering (which is concerned with source of funds) with terrorism financing (which is concerned with destination of funds) when regulating the financial system.[2]

سیاہ دھن کو سفید دھن میں تبدیل کرنے کا مکروہ دھندہ  

منی لانڈرنگ ایک ایساعمل ہے جس کے ذریعے سیاہ دھن کو سفید دھن میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ غیر قانونی اسلحہ کی خرید و فروخت، اسمگلنگ، منظم مجرمانہ سرگرمیاں بشمول نشہ آور ادویات کی غیر قانونی خرید و فروخت اور فحش کاری کے ذریعے غیر قانونی طور پر پیسے کی بڑی مقدار کمائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح غبن،، بھتہ خوری، اندرون خانہ ٹریڈنگ، رشوت اور کمپیوٹر فراڈ اسکیموں کے ذریعہ بھی کثیر منافع کمایا جاتا ہے۔جب کسی مجرمانہ کارروائی کے ذریعے بہت ساری دولت کمائی جاتی ہے تو ایسی دولت کمانے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کی مجرمانہ کارروائی نہ کسی کی نظر میں آئے اور نہ ہی کمائے جانے والے پیسے کی غیر قانونی حیثیت عیاں ہو اور نہ ہی ان کی اپنی نشاندہی ہوسکے اس لئے مجرم اپنی غیر قانونی طور پر کمائی ہوئی دولت کا ناجائز ذریعہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے پیسے کو ایک جگہ سے کم توجہ حاصل کرنے والی دوسری جگہ منتقل کرکے اس کی ابتداء کو چھپانا چاہتے ہیں۔

 منی لانڈرنگ کی قانونی حیثیت اپنی نوعیت کے اعتبار سے منی لانڈرنگ خود بھی ایک غیر قانونی سرگرمی ہے کیونکہ اس کے ذریعے غیر قانونی طور پر کمائی گئی دولت کی بڑی تعداد کو مختلف جگہوں پر منتقل کرکے اس کی غیر قانونی نوعیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے زیر زمین اقتصادی سرگرمیوں کے دیگر پہلووں کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ کا اندازاً تخمینہ اس مضمون میں دیا جارہا ہے تاکہ مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکے۔ منی لانڈرنگ کا عالمی حجم ایک اندازے کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق 1996 میں پوری دنیا میں ہونے والی منی لانڈرنگ کا مالیاتی حجم عالمی جی ڈی پی کا دو سے پانچ فیصد تھا اس تخمینے سے پتہ چلتا ہے کہ پوری دنیا میں ہونے والی منی لانڈرنگ کی مالیت 590 ارب ڈالر سے 1.5 کھرب ڈالر کے درمیان ہے جبکہ اول الذکر مالیت اسپین کی پوری معیشت کی مالیت کے برابر ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اپنی مخفی نوعیت کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ ساری دنیا میں ہونے والی منی لانڈرنگ کی مجموعی مالیت کا کوئی حتمی تخمینہ پیش کیا جاسکے۔ منی لانڈرنگ کا پہلا مرحلہ ابتدائی مرحلے میں جسے پلیسمنٹ کہتے ہیں منی لانڈرنگ کرنے والا اپنی رقم کو مالیاتی نظام میں متعارف کراتا ہے اس مرحلے میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پورے سیاہ دھن کو ناقابل توجہ چھوٹی چھوٹی تعداد میں تقسیم کردے اور اس کے ذریعے مختلف االنوع مالیاتی مصنوعات خریدنے کے ساتھ ساتھ کچھ مقدار بینک میں ڈپازٹ کی جائے اس کے بعد وہاں سے ساری رقوم نکلواکر کسی دوسرے مقام پر یہی عمل دہرایا جائے۔ 

دوسرا مرحلہ جب سیاہ دھن مالیاتی نظام میں داخل کردیا جاتا ہے تو دوسرے مرحلے یعنی لیئرنگ کا آغاز ہوتا ہے اس مرحلے میں کالے دھن کو مختلف سرمایہ کاری کے منصوبوں میں لگا کر اور پھر نکال کر یا مختلف کرنسیوں میں بار بار تبدیل کر اکے کالے دھن کو ابتدائی ذریعے سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ منی لانڈرنگ کرنے والا پیسوں کی دنیا کے مختلف بینکوں میں ترسیل بھی کرتا ہے ۔

 تیسرا مرحلہ اپنی غیرقانونی ذرائع سے کمائی ہوئی رقم کو پہلے دو مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزار کر منی لانڈرنگ کرنے والا اپنی رقم کو تیسرے مرحلے میں لاتا ہے جسے ہم اصل کی جانب واپسی کہتے ہیں یعنی وہ رقم کو دوبار میعشت میں جائز حیثیت سے داخل کردیتا ہے منی لانڈرنگ کرنے والا ناجائز رقم کو جائیدادوں، تعیش کے اثاثوں یا پھر عمومی کاروبار میں لگاتا ہے منی لانڈرنگ کی منزل آخری مرحلے میں ضروری نہیں کہ ناجائز رقوم مختلف ممالک کے مالیاتی نظاموں سے ہوتی ہوئی واپس اسی ملک کے مالیاتی نظام میں داخل کی جائے جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا ایسے ملک کی معیشت یا مالیاتی نظام غیر مستحکم ہونے یا اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع زیادہ موجود نہ ہونے پر رقوم کسی تیسرے ملک میں بھی جائز حیثیت سے لگائی جاسکتی ہے۔

 منی لانڈرنگ کے معیشت پر اثرات جہاں تک منی لانڈرنگ کے کلی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا تعلق ہے تو منی لانڈرنگ کی وجہ سے کسی بھی معیشت میں زر کی طلب و رسد میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ آئے گا، غیر ملکی ترسیلات زر کی آمد میں عدم استحکام رہے گا، زر مبادلہ کی شرح غیریقینی کیفیت کا شکار رہے گی اور اس کے ساتھ ساتھ ناجائز رقوم کی بہت بڑی تعداد میں آمد کی وجہ سے قانونی مالیاتی معاملات پر بھی اس کے منفی اثرات پڑیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ منی لانڈرنگ کے کامیاب ہونے کی صورت میں غیر قانونی طور پر رقوم کمانے والے کا حوصلہ بڑھ جائے گا جس کی وجہ سے دوسروں کو بھی اس عمل کو کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ پاکستان میں منی لانڈرنگ کی روک تھام پاکستانی حکومت اینٹی منی لانڈرنگ بل 2010 پاس کر چکی ہے، دنیا میں منی لانڈرنگ کی روک تھام کے ذمہ دار عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور ایسے ہی ایک اور ادارے ایشن پیسفک گروپ کی جانب سے بل کی کچھ مندرجات پر اعتراض اٹھائے جانے کے بعددونوں ایوانوں میں پاس ہونے سے قبل بل کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا اور کچھ ترامیم بھی کی گئی تھیں۔

 نئے بل کے تحت جو کوئی بھی منی لانڈرنگ کا جرم کرے گا اسے قید کی سزا سنائی جائے گی جو ایک سال سے کم نہیں ہوگی اور دس سال تک بڑھائی جاسکے گی جبکہ دس لاکھ روپے تک جرمانے کا بھی مستحق ہوگا اور مزید یہ کہ منی لانڈرنگ میں استعمال ہونے والے اثاثوں اور رقوم کی ضبطی اس کے علاوہ ہوگی۔ بل میں یہ بھی درج ہے کہ اس قانون کو رو سے کسی بھی کمپنی کا ڈائریکٹر یا ملازم منی لانڈرنگ کے جرم میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف بھی جرم ثابت ہونے پر تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

In Solidarity with Gaza : Gaza Million March Karachi, Pakistan

$
0
0




Gaza Million March Karachi, Pakistan

مسلم لیگ نواز کدھر ہے.......

$
0
0


پچھلے ہفتے کے بعد سے حیران کن واقعات جن میں چند ایک بالخصوص حیرت انگیز ہیں۔ احتجاجی دھرنوں اور ان کے ساتھ منسلک مقاصد کے حصول کے لیے اپنایا جانے والا لائحہ عمل ان میں سے ایک ہے۔ تشدد کے پیٹ سے جمہوریت کا دھیما بچہ کیسے جنم لے گا۔ تاریخ اور دنیا بھر میں موجود تحقیق اور دانش مندی اس پر جو رائے رکھتی ہے تحریک انصاف اور حضرت قادری خود کو اس پر بھاری سمجھتے ہیں۔

تحریک انصاف دس لاکھ کے بجائے چند ہزار لوگوں کے ساتھ اسلام آباد کیوں پہنچی۔ ڈاکٹر قادری کو کینیڈا سے کس چیز نے دوسری مرتبہ پاکستان کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ ان دونوں واقعات کا آپس میں تعلق نہ بھی ہو تب بھی جس تیزی سے انھوں نے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیا وہ بھی حیرانی کا باعث ہے۔
عمران خان ایک ہزار سے زیادہ نشستوں پر مبنی انتخابات میں سے دو شریفوں کو گریبان سے پکڑ کر کس قاعدے کے تحت نکالیں گے کہ وزیر اعظم کی کرسی بھی خالی ہو جائے اور نظام مکمل درہم برہم اور تباہ بھی نہ ہو۔ یہ حیرت کا پہلو بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ عین ممکن ہے جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہوں کچھ اور اوسان خطا کر نے والے واقعات رونما ہو چکے ہوں۔ عمران خان ریڈ زون کو پار کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد بھی کر سکتے ہیں۔ مگر حالات جس طرف جا رہے ہیں اس میں سے فساد کے بغیر کوئی خاص نتیجہ برآمد ہونے کی امید کم ہے مگر سب سے بڑی حیرانی مسلم لیگ نواز کی سیاسی نااہلی ہے۔
یہ بات میں کئی کالمز میں بیان کر چکا ہوں کہ جو حکومتیں بہترین کارکردگی پر بجا طور پر فخر کرتی ہیں وہ سیاسی چیلنجز کو احسن طریقے سے نمٹا لیتی ہیں۔ نواز لیگ نے 2013 کے انتخابات کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کی کھدائی کے بجائے عوامی فلاح کے حقیقی منصوبے بنائے ہوتے تو آج ان کے قدم گڑھے کے کنارے پر نہ تھرتھراتے۔ لیکن سیاسی طور پر ناقص کارکردگی سے بڑھکر حماقت مسلم لیگ کو بطور سیاسی جماعت غیر فعال کرنا ہے۔

یہ جانتے بوجھتے ہوئے یا اس انداز کا نتیجہ ہے جو نواز شریف نے وزیر اعظم بننے کے بعد اپنایا۔ شاید یہ دونوں عناصر نے اس میں اپنا کردار ادا کیا ہو مگر حاصل ایک ہی ہے۔ نواز لیگ اس مشکل وقت میں بطور سیاسی جماعت آپ کو کہیں نظر نہیں آتی۔ یہ ایک غیر معمولی پہلو ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کو جب بھی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا انھوں نے اپنی جماعتوں کو بطور فصیل استعمال کیا۔ سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات اور بدعنوانی کے الزامات پر پیپلز پارٹی جماعتی قوت کو بروئے کار لا کر ان کے لیے تحفظ کا باعث بنی۔

وہ ایک طاقت ور صدر تھے مگر جب حالات خراب ہوئے تو جماعت آگے اور وہ پیچھے تھے۔ ایم کیو ایم الطاف حسین پر حالیہ مشکل وقت میں ان کے لیے سب سے موثر سیاسی ہتھیار ثابت ہوئی۔ پاکستان میں احتجاج ہو یا اپنے قائد کے نقطہ نظر بیان کر نے کا معاملہ ہر جماعت کے ممبران وہ چپو فراہم کرتے ہیں جن کے ذریعے کشتی مشکل پانیوں میں سے نکالی جا سکتی ہے۔ وہ عسکری آمر جو طاقت کے تمام ہتھیاروں سے لیس ہوتے ہیں سیاسی منجدھار میں پھنسنے کے بعد جماعتوں کو ڈھال بناتے ہیں۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو ایک جماعت بنانی پڑی۔

جنرل مشرف کے لیے ق لیگ کارآمد ثابت ہوئی۔ ضیاء الحق کے لیے جماعت اسلامی، مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی مخالف جماعتیں کارآمد سیاسی اثاثہ بنی۔ پاکستان تحریک انصاف کا لائحہ عمل اس دیرینہ حقیقت کی ایک اور بڑی مثال ہے۔ اپنی تمام تر مقناطیسی شخصیت اور قد کاٹھ کے باوجود عمران خان کو اپنی سیاسی قوت بڑھانے کے لیے تحریک انصاف کو بنانے اور بعد میں نشو و نما دے کر ایک ایسے قلعہ میں تبدیل کرنا پڑا جس میں وہ اب بیٹھ کر اپنے مخالفین پر حملے بھی کر سکتے ہیں اور وزیر اعظم بننے کی دیرینہ خواہش کو پورے کرنے کے لیے منصوبہ بندی بھی کر سکتے ہیں۔ افراد یا گروہ چاہے کتنے ہی طاقت ور ہوں سیاسی پلیٹ فارم ان کی بنیادی اور سب سے اہم ضرورت ہے۔
میاں نواز شریف نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ مرکزی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بلائے کئی سال ہو گئے ہیں۔ وہ پچاس ممبران جو اصولی طور پر اس جماعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں پاکستان کے ہر حصے میں ہر کسی سے مل کر شکایتیں کرنے اور خاموشی سے منہ بسورے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر کسی کی زبان پر ایک ہی شکایت ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے خود کو جماعت سے اتنا دور کر دیا ہے کہ پاکستان میں رہتے ہوئے بھی وہ ان سے اتنے دور لگتے ہیں کہ وہ پاکستان سے دور ہوں۔

وہ مشاورت جو کسی زمانے میں جماعت کے اندر مختلف معاملات پر سامنے لانے کا بندوبست کرتی تھی اب کور کمیٹی کے ہاتھ میں ہے۔ کور کمیٹی کے اراکین اسحاق ڈار، پرویز رشید، شہباز شریف، خواجہ سعد رفیق اور کبھی کبھار چوہدری نثار وہ لوگ ہیں جو وزیر اعظم سے ویسے ہی ہر وقت ملتے رہتے ہیں۔ مگر وہ مشورے جو قریبی پیاروں سے ہٹ کر بطور سیاسی لیڈر نواز شریف صاحب کو سننے چاہئیں اب صرف نجی محفلوں میں گپ شپ کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس وقت نواز شریف اور شہباز شریف سیاسی میدان میں ہونے کے باوجود نہتے کھڑے ہیں۔ عمران خان کی طرف سے ہر دوسرے لمحے ان کو گھروں سے نکال کر ملک سے بھگا نے کی بات ہوئی ہے اور اس کا جواب صرف ٹی وی ٹاک شوز پر سننے میں آتا ہے۔ سیاسی کارکن اور درمیانی قیا دت گوجرانوالہ میں مخالفین پر پتھر مار کر اپنا غصہ نکالنے پر مجبور ہیں۔ حقیقت میں وہ اپنے لیڈر سے دور پرے پہاڑ پر کھڑے ہو کر اس کی درگت بنتا ہوا دیکھ رہی ہے۔

یہ ناممکن ہے کہ میاں نواز شریف کو پارٹی سے حاصل کردہ تحفظ کی اہمیت کا احسا س نہ ہو مگر اپنی جماعت کو اس کے باوجود سرد خانے میں ڈال کر بے جان کر دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ یا تو میاں نواز شریف، عمران خان کی طرف سے پھینکے جانے والے پتوں کی کاٹ اور اثرات کو بھانپ نہیں رہے اور وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ فوج کے ساتھ ظاہرا ان کے اچھے تعلقات کے بعد ان کی کرسی کو کوئی خطرہ نہیں۔ یا پھر عمران خان کی دھمکیوں کو محض بڑھکیں سمجھ کر نظر انداز کر رہے ہیں۔ یا پھر وہ اس مرتبہ اپنے اقتدار کو سیاسی کیریئر کی آخری قسط سمجھ کر طاقت میں رہنے یا نہ رہنے کی فکر سے آزاد ہو چکے ہیں۔

وجہ جو بھی ہو مسلم لیگ نواز غیر متحرک، غیر فعال اور سیاسی طور پر منجمد ہو چکی ہے۔ قیادت کور کمیٹی کو اپنا بہترین اور واحد اثاثہ سمجھ کر فیصلہ سازی اور مشاورت 8۔10 ہاتھوں تک محدود کر بیٹھی ہے۔ عمران خان کی طرف سے بنائے ہوئے گھیرے کا حلقہ اگر تنگ ہوتا جا رہا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ مسلم لیگ کی بطور سیاسی جماعت موجودہ کیفیت ہے۔ ان حالات میں اگر نواز شریف اور شہباز شریف کو بڑا دھچکا لگا تو بطور سیاسی جماعت مسلم لیگ ان کی مدد کو نہیں آ پائے گی کہنے کو عمران خان کی مہم جوئی نواز شریف کی حکومت کے خلاف ہے مگر اس تمام معاملے میں مسلم لیگ نواز نامی جماعت کی غیر موجودگی نے اسکو دو افراد پر مرکوز کر دیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ میاں نواز شریف سے اپنے لیے اپنی جماعت کو ’’کھڈے لائن‘‘ لگا کر کھڑا کیا ہے۔

Talat Hussain

Experts clean Big Ben clock faces

$
0
0
A specialist technical abseil team clean and inspect one of the four faces of the Great Clock, otherwise known as Big Ben, at the Houses of Parliament, in central London, as they undertake essential maintenance and cleaning of the four faces.

Rescue and relief operations continue in the state of Bihar after heavy rains and floods

$
0
0
Aerial photo shows houses in a residential area partially submerged by monsoon floods at Nalanda district of Bihar, India. Rescue and relief operations continue in the state of Bihar after heavy rains caused landslides and floods in many parts of India.

سول نافرمانی کا اعلان......Imran Khan calls for civil disobedience

$
0
0


 جب لوگ سڑکوں پر نکل آئیں تو عقل و خرد پر مبنی تجزئیے پس پشت چلے جاتے ہیں، ہنگاموں اور بپھرے ہوئے جذبوں کے سیلاب میں معقولیت سب سے پہلا شکار ہوتی ہے''۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے لانگ مارچ، مطالبات اور طرز عمل کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے مگر چار روز سے حکمران، سیاستدان، دانشور اور تجزیہ کاروں کا انداز فکر کیا ہے؟ اک گو نہ بیخودی مجھے دن رات چاہئے۔

یہ دعویٰ اور خواہش اپنی جگہ کہ فلاں، فلاں اتنا بڑا ہجوم اسلام آباد میں لا بٹھائے تو کیا ہو؟ مگر سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد کی دو شاہراہوں پر علامہ اور کپتان کے پرجوش، پرعزم ا ور ثابت قدم کارکنوں کا قبضہ ہے۔ دونوں لیڈر دس لاکھ افراد اکٹھے نہ کرسکے مگر ان کی موجودہ جمع پونجی بھی مایوسی، اضطراب اور جذبات کی رو میں بہہ کر ریڈ زون کا ’’تقدس‘‘ پامال کرنے اور موجودہ سیاسی بندوبست کا تیا پانچہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ماڈل ٹائون جیسا کوئی انسانی المیہ رونماہوا تو مداخلت سے ہر قیمت پر گریز کی علمبردار قوتوں کو اپنا فرض ادا کرنے پڑیگا جس کا احساس سراج الحق، خورشید شاہ اور الطاف حسین کو تو شاید ہے مگر جن کا سب کچھ دائو پر لگا ہے انہیں نہیں یا کم ہے ورنہ چار روز سے بے نیازی دیکھنے کو نہ ملتی۔

عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کا اعلان میری ناقص رائے میں نہ کوئی غیر سنجیدہ حرکت ہے نہ دھرنے سے جان چھڑانے اور چھوٹی موٹی رعایت لے کر پسپا ہونے کی باعزت تدبیر۔ یہ کور کمیٹی میں طویل بحث مباحثے کا نتیجہ اور موجودہ سیاسی نظام سے چمٹے رہنے کے خواہش مند اپنے ساتھیوں کو احتجاج کے سمندر میں دھکا دینے کی چال ہے۔

بجا کہ تحریک انصاف نے سول نافرمانی کے لئے مناسب ہوم ورک نہیں کیا ،صنعتکاروں ، تاجروں اور سرمایہ کاروں کی موثر تائید و حمایت اسے حاصل نہیں اور عام آدمی بھی بجلی، گیس کا بل نہ دے کر گھر کا کنکشن کٹوانے کا متحمل نہیں۔1977ء میں پی این اے نے سول نافرمانی کا اعلان احتجاجی تحریک کے دوران اس وقت کیا جب کاروبار ریاست عملاً معطل تھا اور حکومت مفلوج و بےبس عوام لیڈر شپ کی بات ماننے پر تیار اور بھٹو کی ظالمانہ معاشی و اقتصادی پالیسیوں کے سبب صنعتکاروں ، تاجروں اور سرکاری ملازمین کی اکثریت سول نافرمانی پر آمادہ مگر اس کے علاوہ بھی کچھ عوامل ایسے ہیں جو اس اعلان سے حکومت کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر سکتے ہیں۔

عالمی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف اور بین الاقوامی برادری ایک معقول لیڈر کی طرف سے جو امریکہ و یورپ میں بھی جان پہچان رکھتا ہے سول نافرمانی کے اعلان کو سنجیدگی سے لے گی۔ سرمایہ کار بھی حکومت کی مدد سے ہاتھ کھینچ سکتے ہیں، آئی ایم ایف کے وفد کا دورہ اسی تناظر میں منسوخ ہوا ہے، سٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات واضح ہیں جبکہ تحریک انصاف کے حامی اور حکومت کے مخالف صنعتکاروں ،تاجروں اور سرمایہ کاروں کا طرز عمل بھی فیصلہ کن ہو گا‘‘ خیبر پختونخوا کی حکومت نے وفاقی محاصل اور بجلی و گیس کے بل کی وصولی سے انکار کردیا تو میزائیے کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام وزارت خزانہ کی مشکلات کئی گنا بڑھ جائیں گی اور قومی معیشت کا خسارہ 500 ارب سے کئی گنازیادہ ہو گا۔ 500 ارب روپے خسارے کا تخمینہ حکومتی اکابرین پیش کر رہے ہیں۔

یہ اعلان تحریک انصاف اور عمران خان کے لئے ایک چیلنج اور آزمائش بھی ہے لوگوں کو سرکاری ٹیکس، بجلی گیس کے بل نہ دینے کا اعلان کر کے اخلاقی اور قانونی طور پر خیبر پختونخوا کی حکومت اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی رکنیت برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ حکومتی محاصل اور بل ادا کرنے سے انکار مگر خود قومی خزانے سے تنخواہیں، مراعات اور سہولتیں حاصل کرتے رہنا وہ دو عملی ہو گی جو عمران خان کے لئے تباہ کن ہوسکتی ہے۔ اب فی الفور اسمبلیوں سے استعفے اور کے پی کے حکومت کے خاتمے میں تحریک انصاف کی بچت ہے شاید عمران خان نے یہی مقصد حاصل کرنے کے لئے کور کمیٹی سے ذو معنی فیصلہ کرایا اور پرویز خٹک اور ان کے ساتھیوں کو ناک آئوٹ کر دیا۔

میاں نواز شریف، ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان تینوں ان دنوں حالات کے جبر کا شکار ہیں اور ایک ایسی اعصابی جنگ میں مصروف جو ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ طاہر القادری اور عمران خان میاں نواز شریف کے زخم خوردہ ہیں اور ان کے کسی دعوے، یقین دہانی پر اعتبار کرنے سے قاصر۔ جو پوزیشن یہ دونوں لے بیٹھے ہیں اس سے پیچھے ہٹنا ان کے لئے سیاسی خود کشی ہے ہر گزرتے دن اور لمحے کے ساتھ یہ مصالحت اور مفاہمت کے عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں جبکہ قوت برداشت ، توازن و اعتدال اور آئین و قانون کی پابندی سے عاری اس معاشرے سے تعلق رکھنے والے اسلام آباد کی سڑکوں پر قابض سیاسی و مذہبی کارکن نامہربان موسم، مسلسل بے آرامی، حکومت کی سرد مہری اور دانشوروں کی طرف سے طنز و تضحیک کے سبب کسی وقت بھی تنگ آمد بجنگ آمد کی کیفیت سے دو چار ہو سکتے ہیں۔

کارکنوں کا زیادہ دنوں تک قیام اور عمران و طاہر القادری کے دھرنوں کا ایک دوسرے میں ادغام موجودہ سٹیٹس کو کے لئے تباہ کن نتائج پیدا کر سکتا ہے مگر تاحال حکومت کمیٹیوں کی تشکیل میں مصروف ہے اور اس کے وزراء اپنے بیانات کے ذریعے لانگ مارچ کے قائدین اور شرکاء کو اشتعال دلانے میں مشغول ۔کوئی یہ سوچنے پر تیار نہیں کہ سڑکوں پر گوشت پوست کے انسان بیٹھے ہیں فولادی مجسمے نہیں کہ زبان کے زخم سہتے رہیں گے اور کوئی ردعمل ہی ظاہر نہیں کریں گے۔ اب تک حکومت نے اپنے تساہل پسندانہ رویے، ناقص طرز حکمرانی اور اپوزیشن کے مطالبات سے چشم پوشی و بے نیازی سے بگاڑ کی راہ ہموار کی مگر اب غلطی کی گنجائش نہیں اور کسی غیر آئینی و غیر جمہوری اقدام کی راہ روکنا اس کی ذمہ داری ہے اور تاخیر نقصان دہ ہوگی۔

 مارشل لاء کے نفاذ کے بعد برطانوی اخبار ''ڈیلی ٹیلیگراف''نے لکھا  مسٹر بھٹو کو جو ملک کے واحد سربرآوردہ سیاستدان ہیں اس کارروائی کا الزام قبول کرنا چاہئے۔ اپوزیشن والے تو سارے کے سارے کمزور لوگ تھے انہیں بہتر انداز میں ہینڈل کیا جاسکتا تھا''۔ 6 جولائی 1977ء لوگ سڑکوں پر نکل آئیں تو تجزیوں اور تبصروں کی نہیں عملی اقدام کی ضرورت ہوتی ہے، ہنگاموں اور بپھرے ہوئے جذبات میں معقولیت سب سے پہلا شکار ہوتی ہے مگر کوئی سمجھے تو!

ارشاد احمد عارف
بہ شکریہ روزنامہ ''جنگ 

Imran Khan calls for civil disobedience

Supporters of fiery anti-government cleric Tahir-ul-Qadri

$
0
0
Supporters of fiery anti-government cleric Tahir-ul-Qadri, his images seen at background, take part in a protest, in Islamabad, Pakistan. Qadri led rallies  in Pakistan’s capital, demanding Prime Minister Nawaz Sharif step down over alleged fraud in last year’s election in front of  of protesters.

سول نافرمانی ملکی مفاد میں نہیں......

$
0
0


اسلام آباد میں نواز حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور دھرنے کے بعد تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے اعلان نے ہر محب وطن پاکستانی کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ اپنی زندگی کے اہم ترین خطاب میں عمران خان نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی مہم شروع کریں اور جب تک وزیراعظم نواز شریف اپنے عہدے سے استعفیٰ نہیں دے دیتے، وہ نہ ہی ٹیکس دیں اور نہ ہی بجلی اور گیس کے بل ادا کریں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں وزیر اعظم کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں لانگ مارچ کے شرکاء کے ہمراہ اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی دھمکی بھی دی ہے۔

عمران خان کے مذکورہ بیان اور دھمکیوں نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جبکہ محب وطن شہریوں، تاجروں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشنز اور کئی چیمبرز نے سول نافرمانی کے اعلان کو ملکی مفادات کے خلاف قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر زکریا عثمان نے عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے اعلان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجر برادری ٹیکس نہ دینے کی عمران خان کی اپیل مسترد کرتی ہے۔ حیرانگی اس بات پر ہے کہ تحریک انصاف جس میں اسد عمر جیسے معاشی ماہرین بھی شامل ہیں، نے عمران خان کو سول نافرمانی کی تجویز کس طرح دی جبکہ اس سے بڑھ کر حیرانگی اس بات پر ہے کہ عمران خان نے سول نافرمانی کو تحریک انصاف کی پالیسی کا حصہ بناکر اس کا اعلان کر ڈالا۔

پاکستان جہاں پہلے ہی لوگوں کا انکم ٹیکس کی ادائیگی کے معاملے میں ریکارڈ کچھ بہتر نہیں، ایسے میں عمران خان کا ٹیکس کی ادائیگی سے روکنا ملکی معیشت کی تباہی کے مترادف ہے۔ ملک کی 18 کروڑ کی آبادی میں تقریباً 17 لاکھ افراد انکم ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں جو خطے میں سب سے کم اور آبادی کا تقریباً ایک فیصد ہے۔ عید کی چھٹیوں، لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کے دوران ملکی معیشت کو اب تک 500 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال حالیہ مہینوں میں ملکی ایکسپورٹ میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث ایک ہفتے کے دوران حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے اسٹاک مارکیٹ کو تقریباً 350 ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے، حکومت جو یورو بانڈز کی کامیاب لانچنگ کے بعد ستمبر میں عالمی مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر کے اسلامک سکوک بانڈز کا اجراء کرنا چاہتی تھی، موجودہ صورتحال میں ایسا کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے جبکہ قرضوں کی واپس ادائیگی سے عمران خان کے انکار کے بیان کے بعد آئی ایم ایف نے اپنا دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔ عمران خان نے اگر سول نافرمانی کی تحریک چلائی تو اس سے خیبر پختونخوا جہاں عمران خان کی جماعت برسراقتدار ہے، سب سے زیادہ متاثر ہو گا کیونکہ صوبوں کے یومیہ اور سالانہ ترقیاتی اخراجات کا 90 فیصد وفاق سے آتا ہے جبکہ دوسرے صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا حکومت کا انحصار بھی وفاقی حکومت کے دیئے گئے فنڈز پر ہے۔
سول نافرمانی کی تحریک حکومت کے خلاف نہیں بلکہ ریاست کے خلاف تصور کی جاتی ہے۔ یہ تحریک عموماً غیر ملکی قابضین کے خلاف چلائی جاتی ہے جبکہ پاکستان کسی ملک کی نوآبادیاتی نہیں بلکہ ایک آزاد و خود مختار ایٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے، اس طرح موجودہ صورتحال میں پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

پاکستان کی تاریخ میں 4 مرتبہ مارشل لا لگ چکا ہے مگر اُس دور میں بھی کسی سیاستدان نے عوام کو سول نافرمانی پر نہیں اکسایا۔ برصغیر کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تقسیم ہند سے قبل 1930ء میں گاندھی نے برطانوی راج کے خلاف احمد آباد میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کیا تھا جس میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی رائے شامل نہ تھی جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سول نافرمانی کی تحریک اُس وقت چلائی گئی جب 70ء کے الیکشن میں حکومت نے شیخ مجیب الرحمٰن کے ملکی مفادات کے خلاف پیش کئے گئے نکات ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد شیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے عوام کو سول نافرمانی پر اکسایا اور بالآخر پاکستان اپنے مشرقی بازو سے محروم ہو گیا۔

دور حاضر میں کسی ملک کو تباہ کرنے کے لئے جنگ کی ضرورت نہیں کیونکہ اگر کسی ملک کی معیشت تباہ کردی جائے تو دشمن کو اپنے اہداف حاصل ہو جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض بین الاقوامی قوتیں مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیاء میں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے پاکستان میں سیاسی انتشار کو ہوا دینا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم اور معاشی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ ان حالات میں ہم دھرنے اور سول نافرمانی کی سیاست کرکے کہیں ملک دشمنوں کے ہاتھوں میں تو نہیں کھیل رہے؟ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ہم دنیا کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ملک کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر حکومت و مخالفین کو چاہئے کہ وہ اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں، حکومت مخالفین کو غیر جمہوری طریقہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے بجائے ان کے جائز مطالبات جن میں کچھ حلقوں میں دوبارہ گنتی، انتخابی عمل میں اصلاحات، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور نادرا میں غیر جانبدار شخص کی تقرری شامل ہیں، پر سنجیدگی سے غور اور اُن سے گفت و شنید کرے جبکہ عمران خان اور طاہر القادری کو بھی چاہئے کہ وہ وفاقی دارالحکومت کو یرغمال بنانے، وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور اسمبلیاں ختم کرنے جیسے غیر جمہوری مطالبے واپس لیں کیونکہ اگر دھرنوں اور سول نافرمانی کی سیاست شروع ہوگئی تو کل کوئی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت چند ہزار افراد کے ساتھ وفاقی دارالحکومت کا گھیرائو کر کے صدر، وزیراعظم یا آرمی چیف سے استعفے کا مطالبہ کر سکتی ہے جو کسی بھی صورت ملکی مفاد میں نہیں ہو گا۔

پاکستان اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے لیکن موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث ہماری توجہ دہشت گردوں کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ سے ہٹ گئی ہے اور آپریشن میں کامیابی کی خبریں لانگ مارچ تلے دب کر رہ گئی ہیں۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر حکومت پسپائی اختیار کرتی ہے تو یہ ایک غلط روایت ہوگی لیکن اگر حکومت نے مخالفین کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا تو ریڈ زون میں خون خرابہ ہو سکتا ہے جس سے جمہوری نظام کے لپیٹے جانے کا شدید خطرہ ہے اور اس کا تمام تر فائدہ غیر جمہوری قوتوں اور ملک دشمن عناصر کو پہنچے گا لہٰذا ملک کے عظیم تر مفاد میں بہتر یہی ہے کہ حکومت، مخالفین کو ’’فیس سیونگ‘‘ فراہم کرے تاکہ جمہوریت ڈی ریل نہ ہوسکے کیونکہ تشدد کی سیاست سے پاکستان کو تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور اس میں حکومت کا نقصان کم جبکہ پاکستان کا زیادہ ہوگا۔

اشتیاق بیگ
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

Imran Khan march into Islamabad's 'Red zone ...

$
0
0








Imran Khan in Red Zone Islamabad

Niagara Falls is illuminated by colorful lights

$
0
0
Niagara Falls is illuminated by colorful lights near the border between the United States and Canada in Washington D.C

Heavy rainfall for the past few days has affected several districts of Assam

$
0
0
Villagers sail on a boat through a flood-affected area in Ashigarh village, about 70 kilometers (44 miles) east of Gauhati, India . Heavy rainfall for the past few days has affected several districts of Assam state, flooding dozens of villages and displacing thousands.

Japanese pro-wrestler-turned-politician Kanji "Antonio" Inoki

$
0
0
Japanese pro-wrestler-turned-politician Kanji "Antonio" Inoki bows at the end of a press conference at the Foreign Correspondents' Club of Japan in Tokyo. Inoki plans to stage a two-day martial arts extravaganza in Pyongyang later this month featuring former NFL player Bob "The Beast" Sapp in an oddball attempt at sports diplomacy just as relations between North Korea and Japan are beginning to thaw.

Killing of Michael Brown : Police as authorities disperse a protest in Ferguson

$
0
0
Police begin arresting dozens of protesters on West Florissant Avenue after they refused to leave the area and some began throwing objects at officers in Ferguson, Mo, a white police officer fatally shot Michael Brown, an unarmed black 18-year old, in the St. Louis suburb.

The Ice Bucket Challenge

$
0
0
The Ice Bucket Challenge, sometimes called the ALS Ice Bucket Challenge, is an activity involving dumping a bucket of ice water on one's head to promote awareness of the disease amyotrophic lateral sclerosis (ALS) and encourage donations to research. It went viralthroughout social media during mid 2014.[1][2] In the United Kingdom, people also participate in the challenge for the Motor Neurone Disease Association.
The challenge dares nominated participants to be filmed having a bucket of ice water poured on their heads and challenging others to do the same. A common stipulation is that nominated people have 24 hours to comply or forfeit by way of a charitable financial donation.[3

Origin

The origins of the idea of dumping cold water on one's head to raise money for charity are unclear and have been attributed to multiple sources. From mid 2013 to early 2014, a challenge of unknown origin often called the "Cold Water Challenge" became popular on social media in areas of the Northern United States. The task usually involved the option of either donating money to cancer research or having to jump into cold water.[4]

One version of the challenge, which took place in New Zealand as early as July 7, 2014, involved dousing participants with cold water and then donating to a charity; for example, the Auckland Division of the Cancer Society.[5] As with similar challenges, it was usually filmed so footage can be shared online.

The National Fallen Firefighters Foundation popularized the "Cold Water Challenge" in early 2014 to raise funds as an unsanctioned spin-off of the polar plunge most widely used by Special Olympics as a fundraiser.[6] On May 20, 2014 the Washington Township, New Jersey fire department posted a video on YouTube participating in the "Cold Water Challenge" with fire hoses. Participating members of the department were subsequently punished for using fire department equipment without permission.[7]

The challenge first received increased media attention in the United States on June 30, 2014, when personalities of the program Morning Drive, which airs weekdays on Golf Channel, televised the social-media phenomenon, and performed a live, on-air Ice Bucket Challenge.[8]Soon after, the challenge was brought to mainstream audiences when television anchor Matt Lauer did the Ice Bucket Challenge on July 15, 2014 on NBC's The Today Show at Greg Norman's request.[9][10] On the same day, golfer Chris Kennedy did the challenge and then challenged his cousin Jeanette Senerchia of Pelham, NY, whose husband, Anthony, has had ALS for 11 years. A day later she did the challenge while her 6-year-old daughter filmed her in front of their house. Senerchia's network on Facebook connected with Pat Quinn, a 31-year-old in Yonkers, NY, who was diagnosed with ALS in March 2013. Quinn called upon his friends and family. Soon, his whole network was posting challenges, including family in Florida, friends in Ireland and Greece, and a bar full of locals, which was broadcast on local television.[citation needed]

Local Green Bay radio and TV personality John Maino performs the ALS Ice Bucket Challenge. 
Quinn's Facebook network overlapped with Massachusetts resident and former Boston Collegebaseball player Pete Frates, who has ALSand began posting about the challenge on Twitter.[11] Frates is a well-known patient advocate in the ALS community, having been awarded the Stephen Heywood Patients Today award in 2012 for his fundraising and advocacy work nicknamed the "Frate Train".[12] Frates' Boston College and sporting connections became an initial focus of the challenge and strengthened its focus on ALS.[13] In the following weeks,many celebrities and notable individuals also took the challenge.

The President of the United States, Barack Obama, was challenged by Ethel Kennedy but declined, opting to contribute to the campaign with a donation of $100.[14] Justin Bieber,[15]LeBron James,[16] and "Weird" Al Yankovic[17] also challenged President Obama after completing the Ice Bucket Challenge. Former president George W. Bush completed the challenge and nominated Bill Clinton.[18]

On August 21, 2014, several firefighters in Campbellsville, KY were injured by electric shock, including one critically, when the ladder they were using to spray the school band for the Ice Bucket Challenge came too close to a high-voltage power line.[19]
Rules

Within 24 hours of being challenged, participants are to video record themselves in continuous footage. First, they are to announce their acceptance of the challenge followed by pouring ice into a bucket of water. The bucket is then to be lifted overhead and poured over the participant's head. Then the participant can call out a challenge to other people.

Whether people choose to donate, perform the challenge, or do both varies. In one version of the challenge, the participant is expected to donate $10 if they have poured the ice water over their head or donate $100 if they have not.[20] In another version, dumping the ice water over the participant's head is done in lieu of any donation, which has led to some criticisms of the challenge being a form of slacktivism.[21] Many individual videos include the participant saying that they will be making a donation as well as performing the challenge.[citation needed]
 
Effects

In mid 2014, the Ice Bucket Challenge went viral on social media and became a pop culture phenomenon, particularly in the United States, with numerous celebrities, politicians, athletes, and everyday Americans posting videos of themselves online and on TV participating in the event.[3][14] According to The New York Times people shared more than 1.2 million videos on Facebook between June 1 and August 13 and mentioned the phenomenon more than 2.2 million times on Twitter since July 29.[22]Mashable called the phenomenon "the Harlem Shake of the summer".[9]

Prior to the widespread internet sensation of the Ice Bucket Challenge, public awareness of the disease amyotrophic lateral sclerosis (ALS) was relatively limited; the ALS Association state that prior to the challenge going viral only half of Americans had heard of the disease,[22]often referred to as "Lou Gehrig's disease", after baseball great Lou Gehrig who publicly revealed his diagnosis.

After the Ice Bucket Challenge went viral on social media, public awareness and charitable donations to ALS charities soared. On August 21, 2014, The New York Times reported that the ALS Association had received $41.8 million in donations from July 29 until August 21. More than 739,000 new donors have given money to the association, which is more than double the $19.4 million in total contributions the association received during the year that ended January 31, 2013.[23] Similarly, the ALS Therapy Development Institutereported a ten-fold increase in donations relative to the same period in 2014,[24] with over 2,000 donations made in a single day on August 20, 2014, while Project ALS reported a 50-fold increase.[25] In the United Kingdom, people have also been facing the challenge for the Motor Neurone Disease Association. The Motor Neurone Disease (MND) Association is the only national charity in England, Wales and Northern Ireland focused on MND care, research and campaigning.[26] MND Scotland provides care and support to everyone affected by Motor Neurone Disease in Scotland.[27]

Criticism

A number of criticisms have arisen relating to the campaign, accusing it of being self-congratulatory,[28] focusing primarily on fun rather than donating money to charity, and as an example of substituting a trivial activity for more genuine involvement in charitable activities. William MacAskill, Vice-President of Giving What We Can, suggested that the challenge encouraged moral licensing, meaning that some people might use taking part in the challenge as a substitute for other charitable acts. He also proposed that by attracting donations for ALS, the challenge was "cannibalizing" potential donations that otherwise would have gone to other charities instead.[29]

Steve-O questioned the campaign, suggesting that celebrities' videos generally forgot to share donation information for ALS charities, and that the initial $15 million dollars in funds was insignificant, given the star power of the celebrities participating. He noted that, of the videos he viewed, only Charlie Sheen and Bill Gates noted that the point is to donate money.[30]

Pamela Anderson refused to take part in the challenge because the use of animal experimentation in ALS research.[31] Members of the pro-life movement criticised the campaign because of the connection between embryonic stem cell research and ALS research.[32]

On August 22, 2014, Brian O'Neill, a physician at the Detroit Medical Center, warned that the challenge may have adverse health effects on participants, including potentially inducing a vagal response which might, for example, lead to unconsciousness in people taking blood pressure medications.[33]

Criticism also targeted the waste of water.[34]

Deadly landslide hits Japan's Hiroshima

$
0
0



Deadly landslide hits Japan's Hiroshima

نواز شریف کا استعفیٰ؟......

مذاکرا ت کے بعد پھر مذاکرات.......

Pakistan Political Crisis by Khalid Almaeena

$
0
0

In Pakistan a Mexican standoff is taking place. Opposition politician Imran Khan, who recently called off talks with the elected government of Prime Minister Nawaz Sharif, and populist cleric Tahir ul-Qadri are parked in front of Parliament in Islamabad with both demanding that Sharif quit. A range of accusations have been hurled at Sharif who won a landslide victory in the general elections of May 2013 which were given a clean chit by independent international observers judging them to be free and credible.

Both Khan and Qadri accuse Sharif of rigging the elections and of nepotism and corruption. They have declared that they will not back down until the prime minister steps down. Imran Khan has been the more vocal of the two figures against Sharif. In emotional appeals mixed with cajoling and threats, he has raised the level of opposition by alluding to more extreme measures if any demonstrators are attacked by the police. Khan specifically targeted the police chief of Islamabad warning that if any of his workers were injured, he would chase him to every corner of Pakistan.

While this drama is going on, Nawaz Sharif must be weighing his options and response. After all he is the democratically elected head of the government! It is not an easy state of affairs with rallies being planned across the country, a law and order situation to be dealt with, MQM killers on the loose in Karachi, problems in Baluchistan and a host of external difficulties. Sharif stands alone in the face of a predicament that would tax the nerves of the strongest of men. He has to overcome any fears or indecision and come up with wise solutions and sensible measures to safeguard Pakistan. At present he seems like Marshal Will Kane played by Gary Cooper in the 1952 Western classic High Noon facing his opposition alone in a confrontation that may have a decisive impact on the future of the nation. 


On the other side both Imran Khan and Tahir ul-Qadri are waiting as a third party. Meanwhile, the Pakistani army watches anxiously. Many Pakistanis believe that the army is reluctant to step in. It is already embroiled in fighting terror and guarding the country’s borders. With so much at stake, the economy on a downward trend and with chaos and the fear of uncertainty across the country, the best interests of Pakistan lie in a meaningful dialogue. Imran Khan’s party should behave like a responsible opposition. Nawaz Sharif should look into the genuine grievances of the people, instill reforms, assure transparency and weed out corrupt officials. Tahir ul-Qadri should be packed off to Canada for he has proved to be a publicity-seeking rabble-rouser and demagogue who seems only to be intent on creating chaos and destruction.

Pakistan cannot afford such turmoil especially with the dangerous situations that pose a threat to the country’s borders. The Pakistani people have suffered and endured calamities for decades. What they need is some respite, a reasonable Imran Khan and an accommodating Nawaz Sharif both of whom love their country and can offer much more to serve their nation. Let us hope and pray that they will rise to the occasion putting their country’s interests above all.

 






 
Viewing all 6213 articles
Browse latest View live