Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 6213 articles
Browse latest View live

ساٹھ برس پرانی تازہ کہانی.....

$
0
0


یہ کہانی اس سال کی ہے جب ڈاکٹر طاہر القادری پیدا ہوچکے تھے اور عمران خان کی پیدائش میں ابھی ایک سال باقی تھا۔
ایران میں جواں سال رضا شاہ پہلوی کی بادشاہت نئی نئی تھی۔ شاہ نے 1951 میں عوامی دباؤ کے تحت عام انتخابات کروائے جن کے نتیجے میں قوم پرست رہنما محمد مصدق وزیرِ اعظم بن گئے۔
 
محمد مصدق نے سب سے پہلے تو دو تہائی پارلیمانی اکثریت کے بل بوتے پر وزیرِ دفاع اور بری فوج کے سربراہ کی نامزدگی کے اختیارات شاہ سے واپس لے لیے۔ پھر شاہی خاندان کے سالانہ ذاتی بجٹ میں کمی کر دی، پھرشاہی زمینیں بنامِ سرکار واپس ہوگئیں۔

زرعی اصلاحات کے ذریعے بڑی بڑی جاگیرداریوں کو کم کر کے کسانوں میں ضبط شدہ زمینیں بانٹنے کا سلسلہ شروع ہوا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایرانی تیل پر اینگلو ایرانین کمپنی کا 40 سالہ اختیار ختم کر کے تیل کی صنعت قومیا لی۔
چنانچہ ایسے خطرناک محمد مصدق کو چلتا کرنے کے لیے شاہ، برطانوی انٹیلی جینس ایم آئی سکس اور امریکی سی آئی اے کی تکون وجود میں آئی اور مصدق حکومت کے خاتمے کا مشترکہ ٹھیکہ امریکی سی آئی اے نے اٹھا لیا۔ سی آئی اے نے اس پروجیکٹ کے لیے دس لاکھ ڈالر مختص کیے اور یہ بجٹ تہران میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف کرمٹ روز ویلٹ کے حوالے کر دیا گیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں اچانک مصدق کی پالیسیوں پر تنقید میں تیزی آگئی۔ ملک کے مختلف شہروں میں چھوٹے چھوٹے مظاہرے شروع ہوگئے۔ از قسمِ راندۂ درگاہ سیاست دانوں کا ایک اتحاد راتوں رات کھڑا ہو گیا جس نے ایک عوامی ریفرینڈم کروایا۔

ریفرینڈم میں حسبِ توقع 99 فیصد لوگوں نے مصدق حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور ان نتائج کو کچھ مقامی اخبارات نے یہ کہہ کر خوب اچھالا کہ مصدق حکومت کا اخلاقی جواز ختم ہو چکا ہے۔ جب وزیرِ اعظم مصدق نے اس اچانک سے ابھرنے والی بے چینی کو مسترد کر دیا تو پھر کام میں اور تیزی لائی گئی۔
تہران کے ایک مقامی دادا شعبان جعفری کو شہری باشندے منظم کرنے اور رشیدی برادران کو تہران سے باہر کے ڈنڈہ بردار قبائلی دارالحکومت پہنچانے اور ان کے قیام و طعام کے لیے وسائل فراہم کیے گئے۔ دارالحکومت میں ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی جلوس روز نکلنے لگے۔ بازاروں میں مصدق کے حامیوں کی دوکانیں نذرِ آتش ہونے لگیں۔ تصادم شروع ہوگئے۔ 15 روز کے ہنگاموں میں لگ بھگ تین سو لوگ ہلاک ہوئے اور مصدق مخالفین نے سرکاری عمارات کو گھیر لیا۔

ایران میں شورش

رشیدی برادران کو تہران سے باہر کے ڈنڈہ بردار قبائلی دارالحکومت پہنچانے اور ان کے قیام و طعام کے لیے وسائل فراہم کیے گئے۔ دارالحکومت میں ہزاروں افراد پر مشتمل احتجاجی جلوس روز نکلنے لگے۔ بازاروں میں مصدق کے حامیوں کی دوکانیں نذرِ آتش ہونے لگیں۔ تصادم شروع ہوگئے۔

چنانچہ رضا شاہ پہلوی کو مصدق حکومت کی رٹ ختم ہونے پر ریاست بچانے کے لیے مجبوراً مداخلت کرنا پڑی اور 16 اگست 1953 کو جنرل فضل اللہ زاہدی کو عبوری وزیرِ اعظم نامزد کرکے معزول محمد مصدق کو نظر بند کر دیا گیا۔اگلے روز تہران ایسا نارمل تھا گویا یہاں 24 گھنٹے پہلے کسی کی نکسیر تک نہ پھوٹی ہو۔

اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اس وقت محمد مصدق کی کہانی بیان کرنے کا مقصد آخر کیا ہے اور اس کا آج کے پاکستان سے کیا تعلق ہے؟ کیا میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ موجودہ سیاسی ہنگام سی آئی اے اور ایم آئی سکس کی سازش ہے؟
بخدا قطعاً نہیں۔ دنیائے سازش میں پرانا نیا کچھ نہیں ہوتا۔ فارمولا اگر مجرب و موثر ہو تو 60 برس بعد بھی کام دے جاوے ہے۔ حکومتوں کی تبدیلی کے منصوبے ایم آئی سکس اور سی آئی اے وغیرہ کی میراث تھوڑی ہیں۔ ایسے منصوبے تو ثوابِ جاریہ کی طرح کہیں کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی وقت تھوڑی 
بہت ترمیم کے ساتھ حسبِ ضرورت استعمال کر سکتا ہے۔

اب جو ہو سو ہو مگر میں پاکستان تحریکِ انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کا بطورِ خاص شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مورخ کا کام خاصا آسان کر دیا ہے۔

یہ محتسب، یہ عدالت تو اک بہانہ ہے
جو طے شدہ ہے وہی فیصلہ سنانا ہے

وسعت اللہ خان


حکومت کے پاس کیا بچا ہے؟.....

$
0
0


پاکستانی فوج کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کور کمانڈرز کانفرنس نے اتوار کی شام ایک ہنگامی اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’طاقت کا استعمال مسئلے کو مزید پیچیدہ کرے گا لہٰذا وقت ضائع کیے بغیر عدم تشدد کے ساتھ بحران کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے۔‘
مبصرین اس بیان کا مطلب یہ لے رہے ہیں کہ پاکستانی فوج نے ملک میں جاری سیاسی بحران میں براہ راست مداخلت کرتے ہوئے اپنا وزن بظاہر حکومت مخالف جماعتوں کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔

پاکستانی فوج کے اس بیان کے بعد بھی فریقین ابھی تک اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے یہ بیان جاری ہونے کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی امور عرفان صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزیراعظم کے استعفٰے پر کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
عرفان صدیقی وزیراعظم کے ان چند معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں جن سے وزیراعظم مسلسل رابطے اور مشورے میں رہتے ہیں۔ عرفان صدیقی اتوار کے روز وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہونے والے اس اجلاس میں بھی شامل تھے جس میں اس بحران پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

عرفان صدیقی نے بتایا کہ حکومت نے ابھی تک کسی بھی فورم یا موقع پر وزیراعظم کے مستعفیٰ ہونے کے امکان پر غور نہیں کیا اور نہ ہی اس موضوع پر کسی بھی جماعت سے مذاکرات کا ارادہ ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے نائب سربراہ شاہ محمود قریشی نے صحافیوں کو اتوار کی شام بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات فی الحال خارج از امکان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفے یا رخصت پر چلے جانے کے علاوہ کوئی اور تجویز ان کی جماعت کو احتجاج سے نہیں روک سکے گی۔
اگر حکومت احتجاجی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر نہ لا سکے اور اس کے پاس مظاہرین کو وزیراعظم ہاؤس پر دھاوا بولنے سے روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کا آپشن بھی موجود نہ ہو تو اس کے پاس کیا امکانات باقی رہ جاتے ہیں؟

یا تو مظاہرین کے ہاتھوں حکومت کی رٹ کا بالکل خاتمہ، یعنی ملک میں حکمرانی کا سنگین بحران اور دوسرا نواز شریف کے استعفے یا رخصت پر چلے جانے پر بات چیت۔
حکومت اب ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہے جس میں سے اپنے لیے کامیابی کا کوئی راستہ نکالنا کسی معجزے سے کم نہیں ہو گا۔

آصف فاروقی

 

یہ محمد علی جناح کا پاکستان ہے؟

Javed Hashmi

$
0
0

Muhammad Javed Hashmi  b. January 1, 1948), is a senior conservativefigure, political scientist and geostrategist who presides over the Pakistan Movement for Justice (PTI) which is led by sportsman-turned politician Imran Khan. He was elected to the post of Central President on March 2013 by the electoral college of the party.

Originally a leading and senior member of Pakistan Muslim League, Hashmi served twice in federal cabinet first as the Federal Ministry of Health and as the Federal Ministry of Youth Affairs in both first and second government of former Prime ministerNawaz Sharif. After being dismissed in 1999 in a coup d'état staged by General Pervez Musharraf against Nawaz Sharif, Hashmi was appointed central president of the Pakistan Muslim League and led the League in the controversial 2002 general elections, which saw the landslide defeat of the League. In 2003, Hashmi was arrested and faced a trial on charges of treason in the Central Jail Rawalpindi after making controversial statements against Pakistan Armed Forces, and was released on 4 August 2007.[1]

In the 2008 elections, Hashmi won a record three seats out of the four contested; he only lost out to Shah Mehmood Qureshi in his home city of Multan. Hashmi won National Assembly seats from Multan, Lahore and Rawalpindi beating PML-Q leader Shaikh Rasheed Ahmad in the latter one.[2] On 20 July 2010 Hashmi suffered from Brain hemorrhage and was admitted to hospital. After recovering, he served as the Chairman of the Standing Parliamentary Committee on Foreign Affairs and but resigned after falling out with Nawaz Sharif on various political issues. He would later ascended to join the Pakistan Movement for Justice led by Imran Khan as the party president. In 2013 elections Hashmi won from both two constituency's he contested from in Islamabad and in Multan from the platform of PTI.[3]

Early career

An agriculturist by profession, Hashmi attended Punjab University where he was part of the student wing of Jamaat-e-Islami and was once accused of murder of a fellow student but was ruled not guilty by court. He took his B.Sc. in Political Science in 1969, followed byM.Sc. in 1971, and M.Phil. in 1973, in the same academic discipline from the same institution. The then Prime Minister Z.A Bhutto offered him to be High Commissioner of Pakistan in United Kingdom(UK)and in return give up agitation against the ruling PPP but he did not budge from his stance.[4] He turned to politics in 1985 and joined hands with Nawaz Sharif — who later became Prime minister.[4] From 1985 till 1988, he was elected to the National Assembly for the terms of 1985 till 1988.[4] From 1990 till 1993, Hashmi was the Minister of State for Youth Affairs, and elected as Parliamentarian for the terms of 1993–1997.[4] From 1997–1999, he served as Federal Minister for Health in Nawaz Sharif's cabinet during his second term. He was alleged for being involved in Mehran Bank Scandal along with other political heavyweights like Nawaz Sharif, Shahbaz Sharif and few more main stream politicians of that time. Allegations on Makhdoom Javed Hashmi were laid by Yousaf Advocate who had an old business conflict with Hashmi family, he alleged Hashmi's involvement in the scandal but Younas Habib who was the main character and distributed all the funds never alleged Makhdoom Javed Hashmi. Makhdoom Javed Hashmi very strongly rejected the allegations and demanded a judicial probe of the scandal involving all the top political leadership of that time. During Musharraf era,PML(Q) was in dire need of MNAs to form a coalition government, so their delegation led by Ch. shujaat went on to see him and offered him to be part of PML(Q)but Hashmi Refused to support Pervez Musharraf. For this act he had to suffer the wrath of the then president Gen. Musharraf and he remained behind the bars for 5 years. During prison days he wrote two books about his political struggle which are named as "HAAN MEIN BAGHI HUN"(yes,I am a rebel)& "TAKHTAEY E DAAR K SAAEY TALAY". .He served in united nations for some times as well.[4] These days he is serving as President Pakistan Tehreek e Insaf. Hashmi is one of the politicians in Pakistan who have never lost in an elections.

Arrest

ON 29 October 2003, he was arrested from Parliament Building on charges of inciting mutiny made by General Pervez Musharraf.[5] Earlier, in a press conference on 20 October 2003, he had read a letter that he received in mail, signed anonymously by some active military officers at Pakistan Army's Combatant Headquarter, known as The Generals Headquarter (GHQ), calling for an investigation into the corruption in the armed forces and criticizing the President and Chief of Army Staff General Pervez Musharraf, and his relationship with the American PresidentGeorge W. Bush.[5] His trial was held in the central Adiala Jail instead of a district and sessions court at the Lahore High Court, which raised doubts among human rights groups about its fairness.[5] On 12 April 2004, he was sentenced to 23 years in prison for inciting mutiny in the army, forgery, and defamation.[5]

The verdict has widely been considered as a willful miscarriage of justice by the General Pervez Musharraf's Government. All opposition parties in Pakistan, including Pakistan Peoples Party of the former Prime Minister Benazir Bhutto and six party-alliance Muttahida Majlis-e-Amal (MMA), regarded the verdict to be politically motivated by the ruling junta with malicious intent, declaring him to be a political prisoner.[5] In imprisonment he also wrote two books titled as "Haan, Main Baaghi Hoon!" (Yes, I am a 'Rebel!') and "takhta daar ke saaye tale" (Under the shadow of Hanging board). His book, "Yes, I am a 'Rebel'!", Hashmi clearly stated that he was jailed because he demanded a commission to be formed to investigate the Kargil issue, the restoration of democracy and opposed the Army’s role in politics, and Pakistan's geostrategy policy in central Asia and Europe.[5]

On 3 August 2007, a three-member bench of the Supreme Court of Pakistan under Chief JusticeIftikhar Chaudhry granted him bail after serving approximately three and a half years in prison.[5] Javed Hashmi was released from the Central Jail Kotlakhpat in Lahore on 4 August 2007.[5]

He was again placed under arrest at the declaration of a state of emergency on 3 November 2007[6]
2008 elections

It is believed that Hashmi was personally asked by party chairman Nawaz Sharif to contest from Rawalpindi for the National Assembly seat, where Sheikh Rasheed Ahmed of the PML[Q] was undefeated since 1988. Makhdoom Javed Hashmi as a result won three National Assembly seats, one from Rawalpindi, one from Punjab Capital Lahore and one from his hometown Multan. Hashmi beat PML-Q's political stalwart Sheikh Rasheed Ahmed in Rawalpindi. They finished second behind the PPP and made a coalition with its one time fierce rivals.

After 2008 elections

Despite winning 3 seats, Hashmi refused to take oath from President Musharraf and thus did not get a place in the federal cabinet. Hashmi was one of the few people who decided not to take oath as it was against his principle. Hashmi is the senior vice president of the party and is always seen in important meeting between the PML(N) and PPP. Hashmi is considered a political heavyweight and is well respected throughout Pakistan. He is seen many times representing the views of his party the PML-N on various talk shows. It was widely reported that in the by-elections, Hashmi supported an independent candidate who was running against Makhdoom Mureed Hussain Qureshi, brother of Hashmi's old rival Makhdoom Shah Mehmood Qureshi. After Mureed Qureshi lost, many people including Mureed Hussain widely condemned the behaviour of Hashmi and said that they will report the incident to the chief of the Peoples Party, Asif Zardari. Hashmi is a strong supporter of the judges who have been sacked and it is said that Hashmi is one of the few people in the PML-N who are trying to convince the senior leadership of the PML-N to stop supporting the PPP as they believe the PPP is not serious and sincere when they say that they will restore the judges.

Kerry-Lugar Bill

Javed Hashmi released a very strong reaction on Inter Services Public Relations press release on Kerry-Luger bill.[citation needed] Terming Kerry-Lugar bill an interference on part of US in Pakistani security agencies' affairs, he said that if there is anything that needs to be corrected, Pakistan will do it herself. Besides he also commented on Pakistan Army's response to the bill saying "Pak Army should stay within its limits,... We will protect our Army if it ensures playing the role assigned to it."[7]
Resignation from Parliament (2011)

On 7 May 2011 Hashmi submitted his resignation from Parliament, claiming that is a dummy and not passing real legislation, his resignation has yet to be accepted by Chaudhary Nisar Ali Khan the leader of Pakistan Parliamentary affairs.[8]
Hospitalization

In July 20, 2010, Hashmi was hospitalized at Nishtar Hospital after he suffered Brain Hemorrhage, and his body also suffered stroke due to internal bleeding.[9] He was later admitted at the Lahore General Hospital Dr. Tariq Salahuddin, principal of the Lahore General Hospital.[10] Dr. Tariq Salahuddin briefed the media and Hashmi’s CT Angiography reports came out normal.[10]

Pakistan Tehreek-e-Insaf

Javed Hashmi joined Pakistan Tehreek-e-Insaf on December 24, 2011 saying that he has made no deal with Imran Khan and has become a member because Imran Khan has an agenda of a change, but analysts say that various reasons caused this act, like Nawaz Sharif refused to make Hashmi the leader of opposition, refused to let Hashmi run for President as Nawaz did not want the PML(Q)'s vote for Hashmi and the PML(N) did not give Hashmi's son-in-law, Zahid Hashmi a ticket for the elections.[11] While addressing a mega political rally at the tomb of Quaid-e-Azam in Karachi on December 25, 2011 He said, "The youth of today have to move forward,Karachi is mini Pakistan. It represents all shades of the peoples of Pakistan." Quoting Quaid-e-Azam he said, "Minorities are our blood." Hashmi straight forwardly addressed to PTI Chairman Imran Khan, "Yes, I'm a rebel (Baghi); you invited a rebel to join PTI, Now if you have not delivered as per your manifesto I will be first person to rebel against your Party” He has a very famous chant to his name in the Pakistan Tehreek-e-Insaf, "baghi hun main", I'm a rebel Hashmi and his daughter Memoona Hashmi resigned from National assembly of Pakistan on December 29, 2011.[12]

Javed Hashmi dared Pakistan Muslim League (Nawaz) leader Nawaz Sharif to field his man against Shaikh Rashid in the next elections despite knowing that he too defeated Sheikh Rasheed on the PML(N)'s ticket and Sheikh Rasheed had been defeated by two other PMLN candidates as well.[13]

Do you believe the Pakistan political crisis is scripted?

$
0
0

The plan to oust the PML-N led government and topple Prime Minister Nawaz Sharif from power is reaching critical mass. The last 48 hours saw the Pakistan Tehreek-i-Insaf (PTI) and Pakistan Awami Tehreek (PAT) anti-government protests morph Islamabad's Red Zone from a concert ground to a bloody battlefield, with at least three people killed and hundreds injured. The deadly confrontation shows little signs of letting up, as both Imran Khan and Tahirul Qadri have encouraged their supporters to battle on, while negotiations with the government appear to be going nowhere - despite the Pakistan Army playing the role of 'mediator'.

'It won't be called a martial law'

Javed Hashmi said he was ashamed and said he was sure Imran was too. "Now I'm going to say something and maybe Imran will refute that as well but it would be good if he didn't.""Imran had told the core committee it won't be called a martial law...we will file a petition in the Supreme Court and get a judge of our choosing...and he will say okay...we didn't talk about Bangladesh...that CJ will validate the actions that will be taken eventually...today I have heard that CJ has called all judges...Justice Jilani will retire and the current CJ will become chief justice...and they will get rid [of the government]".

Asad Umar

$
0
0


Asad Umar (born 1961) is a Pakistani lawmaker and former business administrator . He served as CEO and President of Engro Corporation for 8 years during a 27-year career with the company.[1] He resigned from his post at Engro and Joined Imran Khan led political party Pakistan Tehreek-e-Insaf on April 2012.[2]

Tenure at Engro 

Umar’s 27-year career at Engro began in 1985, when the company was still a subsidiary of ExxonMobil, the global oil giant.[1] He joined the company as a business analyst, and was working for it abroad in Canada when the famous management buyout of Engro took place in 1991. Umar came back to Pakistan and in 1997 was appointed the first CEO of Engro Polymer & Chemicals, the group’s petrochemical arm. Later on, he was elected as the President and CEO of Engro Corporation in January 2004 and transformed the business from a mere chemical company to a giant conglomerate. It was his idea to diversify into dairy and food business and today 'Engro Foods' stand as the highest profit producing subsidiary of Engro Corporation. It was in his tenure when Engro became the first Pakistani company to buy a business entity abroad when the company earlier in 2012 bought Canadian based food company 'Al Safa Halal'.

Umar has been quoted about his first salary as saying, “I still remember the exact figure of my first salary: Rs 3,200 per month. He confirmed this in Waqt News Program and He was working in HSBC Bank at that time. My boss at the time said ‘Well, frankly they are paying you too much.” At the time he left the company, he was the CEO in the company who received Rs 7.0 million monthly as salary, in addition to which he was also paid from company stocks and owns about 2 million shares of the corporation.[3]

Political career  

Asad Umar resigned as CEO of Engro Corporation on 19 April 2012 and joined Pakistan Tehreek-e-Insaf. At PTI, he will be part of committee to work on a draft paper to suggest economic reforms to take Pakistan out of current financial crisis. Asad Umar was appointed Central Senior Vice President of PTI on 21 April 2012.[4] He is the candidate of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI) fromConstituency NA-48Islamabad in the upcoming July by-elections after the seat was vacated by PTI central president Javed Hashmi. Hashmi had won by scoring over 70,000 votes compared to 50,000 gained by the runner up. Asad Umar won the re-elections held on 22 August 2013 from NA-48 at the seat vacated by Hashmi. He secured 48,072 votes.

Heroes Of Pakistan Police?

Real Leader and Hero Recep Tayyip Erdogan


کیسا انقلاب؟......

$
0
0



گزشتہ کچھ ہی عرصے میں پاکستانی قوم نے ’’انقلاب‘‘ کا لفظ اتنی بار سنا کہ اب تو سوتے میں خواب میں بھی انقلاب ہی آتا ہے اور سناٹے و خامشی میں بھی کانوں میں انقلاب انقلاب کی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ ہر روز کئی کئی بار انقلاب آنے کی خوشخبری قوم کو یوں سنائی جاتی ہے، جیسے گرمیوں میں چار پانچ گھنٹوں کے بعد لائٹ آنے کی خوشخبری سنائی جاتی ہو۔

ہزاروں بار انقلاب کا لفظ سن کر لگتا ہے کہ انقلاب کے خوف سے ہر سماجی برائی اپنی موت آپ مر جائے گی اور دھرتی پر نفرت کی بجائے محبت اور ظلم و بربریت کی بجائے امن و سکون اور انصاف کا راج ہوگا۔ غربت کا خاتمہ ہوجائیگا اور ملک کا ہر شہری دولت میں کھیلے گا۔ یوں تو انسانی زندگی ازل سے مسلسل انقلابات کی زد میں ہے اور دنیا میں ان گنت انقلابات رونما بھی ہو چکے ہیں لیکن یہ ’’انقلاب میاں‘‘ ہیں کیا، یہ بات شاید ’’انقلابی قوم‘‘ کو معلوم نہ ہو لہٰذا اس حوالے سے اگر کچھ بات ہو جائے تو بہتر ہے۔ انقلاب کا لفظ انگریزی کے لفظ “Revolution” اور عربی کے لفظ ’’ثورہ‘‘ کے ہم معنی ہے۔ لغت میں ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل ہونے، تہہ و بالا ہونے اور پلٹنے کو انقلاب کہا جاتاہے۔

محققین کے مطابق شروع میں ستاروں کی حرکت کو انقلاب کہا جاتا تھا لیکن بعد میں رفتہ رفتہ مروجہ اصطلاح کے لیے استعمال ہونے لگا۔ موجودہ دور میں حقوق یا بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی بنیادی تبدیلی کو انقلاب کہا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر انقلاب کسی تبدیلی کی خواہش سے جنم لیتا ہے اور اس خواہش کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:1۔ انسان فطری طور پر تبدیلی کا دلدادہ ہے، چنانچہ وہ ایک مدت کے بعدکسی بھی مروجہ نظام سے اکتا کر اسے تبدیل کرنا چاہتا ہے، 2۔ کوئی بھی مروّجہ نظام جب انسان کی مادی و معنوی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو انسان اس کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکنے کی فکر کرنے لگتاہے۔

چوتھی صدی قبل مسیح میں قدیم یونانی مفکر بابائے سیاست ارسطو کی کتاب ’’سیا ست‘‘ دنیا بھر میں سیاست کے طالب علموں کے لیے ایک آدرش کا درجہ رکھتی ہے۔384 قبل مسیح میں پیدا ہونے والا ارسطو یونان کا وہ ممتاز فلسفی، مفکر اور ماہر منطق تھا، جس نے افلاطون جیسے استاد کی صحبت پائی اور سکندر اعظم جیسے شاگرد سے دنیا کو متعارف کروایا۔ 18 سال کی عمر میں اس وقت علم و حکمت کے مرکز ایتھنز چلا آیا۔ یہاں 37 سال کی عمر تک افلاطون کے مکتب سے وابستہ رہا۔ 53 سال کی عمر میں ارسطو نے اپنے مدینہ الحکمت کی بنیاد ڈالی، جہاں اس نے نظری و کلاسیکی طریقہ علم کی بجائے عملی اور عقلی مکتب فکر کو فروغ دیا۔ ارسطو پہلا عالم تھا جس نے سیاست و معاشرت کے لیے باضابطہ اصول ترتیب دیے۔

لہٰذا سیاست کے پہلے عالم ارسطو کے نزدیک انقلاب کے دو معنی ہیں: 1۔ ریاست کے مروّجہ آئین میں تبدیلی،2 ۔اقتدار کی منتقلی۔ اسی طرح ارسطو نے انقلاب کی دو بنیادی قسمیں بھی بیان کی ہیں: 1۔ مکمل انقلاب،جس میں معاشرے کے عمومی سماجی ڈھانچے، سیاسی نظام کے ڈھانچے اور سیاسی اصولوں میں تبدیلی کا وقوع ہو، 2۔ نامکمل انقلاب، جس میں مذکورہ تین نکات میں سے صرف کسی ایک نکتے میں تبدیلی آئے۔

ارسطو کے مطابق انقلاب کے عمومی طور پر تین اسباب ہوتے ہیں:1۔ مادی سبب: لوگوں کا ایک گروہ اپنے حقوق کا استحصال ہوتے دیکھتا ہے تو وہ حکومت سے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے،2۔ سبب فاعلہ: کچھ لوگ اپنے نقصانات کی تلافی کے لیے حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں،3۔ سبب غائی: حکومتی ادروں کی من مانی، لوگوں کی بے حرمتی،لوگوں کے احساس عدم تحفظ کی وجہ سے رد عمل۔
ثابت ہوا کہ انقلاب کا لفظ حقوق یا بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی بنیادی تبدیلی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماضی بتاتا ہے کہ تبدیلی و انقلاب دو طرح کے ہوتے ہیں۔پہلی قسم وہ جو کم عرصے میں واقع ہو، لیکن اس کے فوائد سے زیادہ نقصانات ظاہر ہوئے، جب کہ دوسری قسم وہ جس کے وقوع میں کافی عرصہ لگے، لیکن عوام کو صرف اس کے ثمرات و فوائد حاصل ہوئے۔ پہلی قسم کے انقلاب کی مثالیں یہ ہیں۔ فرانسیسی انقلاب جس میں بیس لاکھ سے زیادہ لوگ قتل کیے گئے۔

روس کا انقلاب جس میں پورے شاہی خاندان کو ان کے ملازموں سمیت تہہ خانے میں لے جا کر فائرنگ کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور ’’زار‘‘ بادشاہوں کی قبروں کو کھود کر ہڈیاں تک جلا دی گئی تھیں۔ ایرانی انقلاب جس میں خانہ جنگی پر قابو پانے میں تین برس صرف ہوئے اور یہ تین برس ہزاروں انسانوں کا لہو چاٹ گئے تھے۔

مشرق وسطیٰ میں یکے بعد دیگرے آنے والے انقلابات، جن کا آغاز تیونس سے ایک نوجوان کی خودکشی سے ہوا اور اس کے بعد مختصر مدت میں تیونس، لیبیا، مصر میں حکمرانوں کی بجائے قتل و قتال اور خونریزی کی حکومت قائم ہوگئی۔ شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف انقلابی تحریک شروع ہوئی، جو اب تک دو لاکھ افراد کا خون پی چکی۔ مذکورہ انقلابات کی بدولت ابھی تک یہ ممالک خانہ جنگی کی بھٹی میں دہک رہے ہیں۔ان ممالک کی معیشت تباہ اور سکون غارت ہوچکا ہے۔ آج بھی عوام اپنے حقوق سے محروم ہیں۔ مختصر مدت میں آنے والی یہ تبدیلی کہنے کو تو انقلاب اور عوام کی فتح تھی، لیکن حقیقت میں بربادی اور عوام کی شکست ثابت ہوئی۔

انقلاب کی دوسری قسم وہ ہے، جس میں عوام کو صرف فوائد حاصل ہوئے اور اس کے اثرات دیر تک عوام کے لیے خوش کن ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی ایک مثال ملایشیا ہے۔ 1980 میںملایشیا میں غربت، افلاس اور بیروز گاری کا راج تھا۔ صرف ٹن، ربڑ اور پام آئل جیسا خام مال باہر بھیج کر ملک کی معیشت کو چلایا جاتا تھا۔ سیاست، معیشت، تعلیم اور ملک کے تمام شعبے دن بدن دم توڑ رہے تھے۔ دوردور تک ملایشیا کے حالات سنبھلتے دکھائی بھی نہ دے رہے تھے، لیکن قوم نے انقلاب لانے کی ٹھانی، مسلسل محنت کی، اپنے ملک کو اہم صنعتی اور ترقی یافتہ قوم میں بدلنے کا ایجنڈا پیش کیا، ریاست، آئین اور قانون کی پاسداری اپنے اوپر لازم کی۔ نظم و ضبط ہر ایک پر لازم قرار دیا گیا۔ اس ملک کا حال دیکھتے دیکھتے بدلنے لگا۔

ملایشین قوم نے مسلسل 22سال محنت کی۔ 2003 میں جو ملک صرف خام مال پر اپنا گزارا کرتا تھا ، وہی ملایشیا ٹیکنالوجی اور سروس انڈسٹری کے باعث ایک سو بلین ڈالر کی برآمدات کرنے لگا۔ 2300 ڈالر فی کس آمدنی کمانے والا ملایشیا 9ہزار ڈالر کمانے لگا۔ غربت کا نام و نشان مٹ گیا۔ تعلیم سے محروم 92فیصد لوگ تعلیم یافتہ ہوگئے۔

ملایشیا کی سیاست مستحکم اور معیشت مضبوط ہوگئی۔ اسی انقلاب کی ایک مثال ترکی بھی ہے، جو 2001تک اقتصادی بحران میں اس بری طرح سے پھنسا ہوا تھا کہ کھلے بازار میں ترکی کرنسی لیرا کی فروخت بڑھ گئی۔

جس کے باعث حکومت کو لیرا کی قیمت میں 40 فیصد تک کمی کرنا پڑی، ساتھ ہی شرح سود اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا اور روزگار کے مواقع کم ہونے لگے، ملک غیر ملکی قرضوں پر چلنے لگا، لیکن ترک قوم نے انقلاب لانے کی ٹھانی اور 2002کے بعد شروع ہونے والے انقلابی سفر کی بدولت ترکی آج دنیا کی 17ویں بڑی معیشت ہے۔ انقلاب کی ان دو قسم کی مثالوں کے بعد فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کی طرز پر سول نافرمانی اور مار کٹائی والا انقلاب چاہیے یا ملایشیا اور ترکی کی مثل پر امن اور فائدہ مند انقلاب چاہیے۔

عابد محمود عزام

باغی کی خطرناک بغاوت.......

$
0
0


اسلام آباد کی سڑکوں پر توڑ پھوڑ کی احتجاجی سیاست کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے برطرف صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک اور بغاوت کردی ہے۔اب کے انھوں نے بہت سے انکشافات کیے ہیں اور موجودہ بحران کے پیچھے کارفرما کئی پس پردہ چہروں کے نقاب الٹ دیے ہیں جس سے ان بعض چہروں کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔
بزرگ سیاست دان نے اسلام آباد میں سوموار کو نیوز کانفرنس میں اپنی جماعت کے چئیرمین عمران خان کی سیاست سے متعلق کئی رازوں سے پردہ اٹھایا ہے اور کہا ہے کہ وہ انقلاب مارچ کسی کے اشارے اور یقین دہانی پر کررہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ عمران خان نے منتخب ارکان اسمبلی سے زبردستی استعفے لیے اور لکھوائے ہیں۔ارکان ان استعفوں پر خوش نہیں تھے۔

انھوں نے عمران خان پر الزام عاید کیا کہ وہ مطلق العنان بنے ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے فیصلوں کو یکسر مسترد کردیتے ہیں اور جماعت میں اپنی من مرضی کے فیصلے کررہے ہیں۔وہ وعدے کرتے ہیں اور توڑ دیتے ہیں۔
انھوں نے ماضی کے حوالے سے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے ایک اجلاس میں عمران خان نے کہا تھا کہ ''موجودہ چیف جسٹس ( اب سابق) جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بعد آنے والے چیف جج ناصر الملک وزیراعظم میاں نواز شریف کی برطرفی سے متعلق دائر کردہ درخواست پر ہمارے حق میں فیصلہ دیں گے''۔

عمران خان نے کور کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہم سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور اپنے انتخاب کے مطابق ایک جج لیں گے اور وہ سب کچھ کچھ او کے کردے گا اور موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی۔
انھوں نے بتایا کہ جب عمران خان اپنا یہ تمام پروگرام وضع کرچکے تو میں نے ان سے کہا کہ خان صاحب آپ کیا کرنے جارہے ہیں۔آپ کو ہماری اور بہت سے لوگوں کی حمایت حاصل ہے لیکن وہ مان کے نہیں دے رہے تھے اور انھوں نے کہا کہ ''میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ ستمبر میں نئے عام انتخابات ہوں گے''۔
جاوید ہاشمی نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کی قیادت کو بتایا تھا کہ احتجاجی تحریک کے بعد ایک خاص سکرپٹ (مسودہ) ہوگا جس کا اختتام ایک نئے چیف جسٹس کے تقرر کے ساتھ ہوگا اور مظاہرین کے نصب العین سے اس نئے چیف جسٹس کو ہمدردی ہے۔

انھوں نے اس نیوز کانفرنس میں ایک ہی سانس میں کئی انکشافات کردیے ہیں اور بتایا کہ عمران خان نے انھیں کہا تھا کہ ''انھوں نے (آرمی نے) ہمیں کہا ہے کہ طاہر القادری کے ساتھ اتحاد کریں۔انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے مارچ کو ریڈ زون سے آگے وزیراعظم ہاؤس کی جانب لے جانے کی مخالفت کی تھی اور کمیٹی کے ارکان نے عمران خان سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ شیخ رشیداحمد کی باتوں پر کان نہ دھریں۔

انھوں نے عمران خان کی جانب سے شیخ رشید احمد کی حمایت سے متعلق کہا کہ ''وہ ہمیں یہ کہتے رہتے تھے کہ ہمیں مئی 2013ء میں منعقدہ انتخابات میں شیخ رشید کی کامیابی کو یقینی بنانا ہوگا حالانکہ 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات میں ،میں نے شیخ رشید کو راول پنڈی کی نشست سے شکست دی تھی''۔

مخدوم جاوید ہاشمی نے مسلم لیگ نواز کی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ''یہ تھرڈ کلاس لوگ ہیں اور ان کی نااہلیوں کی وجہ سے آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔اس نے قوم کی امنگوں کی پروا نہیں کی ہے۔اگر ماڈل ٹاؤن لاہور کے واقعہ پر وزیراعلیٰ شہباز شریف کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی جاتی تو کونسی قیامت آجاتی کیونکہ پولیس کی فائرنگ سے چودہ افراد کی شہادت اور قریباً اسی لوگوں کو گولیاں لگ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے''۔

انھوں نے گذشتہ روز اور آج بھی ماضی میں تحریک انصاف کی قیادت سے اختلاف کے بارے میں کہا ہے کہ ''جب پارٹی میں میری بات نہیں سنی جاتی تھی تو ملتان چلا جاتا تھا یا بیمار ہوتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ میں بیمار ہوتا تھا اور نہ مجھے بیوی بچوں کی یاد آتی تھی، میں احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے ملتان چلا جاتا تھا''۔

جاوید ہاشمی کو اس بغاوت سے قبل ہی جماعت کے چئیرمین عمران خان نے صدارت کے عہدے سے فارغ کردیا تھا مگر ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی جماعت کے صدر ہیں اور عمران خان نے انھیں غیر آئینی طور پر ہٹایا ہے۔انھیں اپنی جماعت کے آئین کا مطالعہ کرنا چاہیے۔پی ٹی آئی کی ترجمان ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی جماعت کے یک طرفہ طور پر برطرف کیے گئے صدر کے ان انکشاف انگیز الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان کے رد میں انھوں نے کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا ہے۔

 

Economic Cost of of Imran Khan Azadi March and Inqilab March

سدا بہار باغی......

$
0
0


سنہ 1972 کے اوائل میں نوجوانوں کا ایک گروپ گورنر ہاﺅس لاہور میں گھس گیا، یہ سمن آباد کے علاقے سے مبینہ طور پر حکومتی عہدیدار کی جانب سے دو لڑکیوں کو اغوا کرنے پر احتجاج کررہے تھے۔

اس ہجوم کا سامنا ذوالفقار علی بھٹو سے ہوا جو اس وقت صدر مملکت تھے  جبکہ ان کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر موجود ایک برطانوی وزیر تھے۔
مظاہرین کے قائدین میں سے ایک جاوید ہاشمی نامی نوجوان بھی شامل تھا جس نے پنجاب یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کا الیکشن اسلامی جمعیت طلباءکی حمایت کے ساتھ سخت مقابلے کے بعد جیتا تھا۔

دو برس بعد جاوید ہاشمی نے ایسا ہی اقدام بنگلہ دیش کو بطور علیحدہ ریاست تسلیم کیے جانے پر ایک احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے اس وقت کیا، جب لاہور اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کی میزبانی کررہا تھا۔
وہ نوجوانوں کے ایک گروپ کے ساتھ حکومت مخالف بینرز اٹھائے تمام تر سیکیورٹی انتظامات کو توڑ کر سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے موٹرکیڈ کے سامنے جاکھڑے ہوئے۔

ان دونوں واقعات کا ذکر جاوید ہاشمی نے اپنی سوانح حیات'ہاں میں باغی ہوں  میں کیا ہے، اب انہوں نے اپنی جماعت کے سربراہ کی بات ماننے سے انکار کیا ہے۔
کیا گورنر ہاﺅس لاہور پارلیمنٹ کی طرح ریاست کی علامت نہیں اور کیا غیر ملکی معزز مہمان کے سیکیورٹی انتظامات کو توڑنا وزیراعظم ہاﺅس کے گرد پہنچنے سے کم اہم ہے؟ مگر جاوید ہاشمی جب کسی مقصد پر یقین رکھتا ہے تو وہ اس طرح کے فرق کو نظرانداز کردیتا ہے۔

اس کا ماننا تھا کہ اسے کسی بھی طریقے سے بھٹو حکومت کو چیلنج کرنا ہے تو اس سے جو ہوسکا اس نے کیا، اس کا ماننا تھا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کرنا چاہئے تھا تو جو اسے مناسب لگا اس نے کیا۔
اس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کس طرح اس نے اسلامی کانفرنس سے چند ماہ قبل اپنے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ راولپنڈی میں ذوالفقار علی بھٹو کی ریلی کو اسی مقصد کی وجہ سے کتنی کامیاب سے سبوتاژ کیا تھا۔
تو یہ بات واضح ہے کہ اب وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا جو عمران خان حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ جاوید ہاشمی کے نظریات ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی سیاسی زندگی کے دوران وہ اختیار کرچکا ہے۔
یہ نظریات تین بنیادوں پر قائم ہیں، فوجی آمریت پر انتخابی جمہوریت کی بالادستی، اختلاف رائے اور اپنے سیاسی اقدامات کے نتائج کی پروا نہ کرنا۔

بغاوت کا مقدمہ

کچھ استثنیٰ سے قطع نظر یہ وہ سیاسی اصول ہیں جو جاوید ہاشمی نے اختیار کررکھے ہیں۔
اس کی سب سے واضح مثال اس کی جانب سے 2003 میں فوجی طاقت پر سویلین بالادستی کا بہادرانہ دفاع اس کی گرفتاری کا باعث بنا اور اس پر الزام لگایا کہ وہ فوج میں تقسیم ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔
اگلے ساڑھے تین سال تک وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہا اور مقدمے کی سماعت بھی جیل کے اندر ہوئی۔

مشرف حکومت نے یہ مقدمہ ایک خط کی بنیاد پر چلایا جو جاوید ہاشمی نے سب کے سامنے پیش کیا تھا جو چند جونئیر عہدیداران نے لکھا تھا اور اس میں فوجی حکومت کے کچھ سنیئر اراکین پر کرپشن الزامات عائد کیے گئے تھے۔
جاوید ہاشمی کبھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی اسے کبھی یہ خط عوام کے سامنے پیش کرنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہوا۔
اسی طرح اس کی جانب سے شریف برداران کے جلاوطنی اختیار کرنے اور متعدد اہم رہنماﺅں کے مشرف کیمپ میں شامل ہونے کے بعد مسلم لیگ نواز کے صدر بننے کے لیے تیار ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ مشکل ترین اوقات میں بھی جمہوریت کے لیے کام کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

جاوید ہاشمی نے سدا بہار باغی کی مضبوط حیثیت تعمیر کی، وہ اپنی سوچ کے مطابق بولتا ہے چاہے کیسے نتائج یا حالات کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس نے ہر اس وقت مخالفت کا اظہار کیا جب اسے لگا کہ اتھارٹی کی جانب سے ٹھیک کام نہیں کیا جارہا، اور اس کے لیے یہ پروا کبھی نہیں کہ اتھارٹی میں شامل افراد اس کی اپنی جماعت کے سربراہان ہی کیوں نہ ہو۔

وزیراعظم نواز شریف اور حکمران جماعت نواز لیگ کے متعدد سنیئر اراکین اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ کس طرح جاوید ہاشمی پارٹی اجلاسوں میں پارٹی قیادت سے اپنے تعلقات پر اثرات کی پروا کیے بغیر اپنے موقف کا کھل کر اظہار کیا۔

یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ جاوید ہاشمی نے کبھی غلطیاں نہیں کیں، 1978 میں 29 سال کی عمر میں وہ جنرل ضیا الحق کی فوجی کابینہ کے نوجوان ترین وزیر کی حیثیت سے شامل تھے۔
تاہم بعد میں وہ اپنے فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار کرتا رہا، اپنی کتاب میں اس نے وضاحت کی ہے کہ وہ کبھی اس وزارت کو لینے کے بعد مطمئن نہیں رہا اور وہ جلدازجلد اس سے مستعفی ہونا چاہتا تھا۔
اسی طرح 1993 میں جب اسے لاہور سے محفوظ نشستوں کی پیشکش کی جارہی تھی تو اس نے ملتان سے اپنے آبائی حلقے سے انتخاب لڑنے پر اصرار کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شاہ محمود قریشی نواز شریف کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوگیا۔

اس کی سب سے بڑی غلطی یوسف نامی ایک ایڈووکیٹ سے پیسے لینا تھا۔
یوسف نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ یہ رقم یونس حبیب کی تھی جو کہ مہران بینک کا صدر تھا، جسے انٹیلی جنس عہدیدران نے 1990 میں پیپلزپارٹی مخالف سیاستدانوں کی انتخابی مہم کے لیے سرمایہ لگانے کا ٹاسک دیا تھا۔

جاوید ہاشمی نے اپنی سوانح حیات میں اس عزم کو دوہرایا ہے کہ وہ مستقبل میں کبھی اپنی سیاست سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہٰں کرے گا، اس نے ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے وہ رقم کاروبار کے لیے بطور قرضہ لی تھی جسے اس نے واپس لوٹا بھی دیا تھا۔
تاہم ان الزامات نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

جب اس نے دسمبر 2011 میں نواز لیگ کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو اس کے پرانے سیاسی ساتھیوں نے الزام لگایا کہ ن لیگ کی جانب سے ایک قریبی رشتے دار کو بطور انتخابی امیدوار نامزد نہ کرنے پر جاوید ہاشمی برہم تھا۔

کچھ کا کہنا تھا کہ جاوید ہاشمی اس لیے ناخوش تھا کیونکہ وہ 2008 کے انتخابات کے بعد قائد حزب اختلاف بننا چاہتا تھا مگر یہ عہدہ چوہدری نثار علی خان کو دے دیا گیا۔
اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس عہدے کا حقدار تھا کیونکہ مشرف دور میں، جب بہت کم سیاستدان کسی بھی سطح پر ن لیگ کی نمائندگی کرنا چاہتے تھے، اس نے پارٹی کے لیے بہت زیادہ کام کیا۔
جاوید ہاشمی لگتا ہے کہ اپنی سیاسی راست گوئی کو نہیں کھویا، اور اس نے اپنے یقین کے مطابق بولنے کی صلاحیت کو برقرار رکھا، جبکہ جمہوریت اور اداروں سے محبت بھی جاری رکھی۔

اسے اپنے اقدامات کے نتیجے میں سیاسی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑا اور کوئی نہیں جانتا کہ پی ٹی آئی سے اخراج کے بعد اس کا سیاسی مستقبل کیا ہوگا۔
یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ دوبارہ مسلم لیگ ن میں شامل ہوجائے گا، جس کا وہ ابھی بھی شدید ناقد ہے، جہاں تک پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے آپشن کی بات ہے تو یہ بالکل ناممکن لگتا ہے کیونکہ وہ اپنے پورے کیرئیر میں اس جماعت کا شدید مخالف رہا ہے۔

اپنی کتاب کے پہلے صفحے میں جاوید ہاشمی نے خلفیہ دوم حضرت عمرؓ کا قول درج کیا ہے"تم نے کب سے انسانوں کو غلام بنالیا حالانکہ ان کی ماﺅں نے انہیں آزاد پیدا کیا تھا؟، وہ اب بھی ہمیشہ کی طرح آزاد ہے۔
کوئی چیز یا ایسا نظریہ جس پر اسے یقین نہیں اسے کسی پارٹی کا قیدی نہیں بناسکتا، عمران خان کو جاوید ہاشمی کو اپنی پارٹی میں لینے سے پہلے اس کو جان لینا چاہئے تھا۔

MQM Resignations By Ansar Abbasi

$
0
0

MQM Resignations By Ansar Abbasi

Muslim groups denounce beheading of US journalist Steven Sotloff

$
0
0

Leading Muslim institutions denounced the killing of Steven Sotloff, the second US journalist to be executed by Islamic State militants and President Barrack Obama vowed to build a coalition to “degrade and destroy” the extremist group. 

“This is obviously a criminal act which we greatly denounce,” Maha Akeel of the Organization of the Islamic Conference told Al Arabiya News, voicing the same condemnation the group issued when IS released a video of the execution of US journalist James Foley. “They claim that they do their acts in the name of Islam but their doing has nothing to do with Islam,” Akeel said.

“We can’t call them an Islamic group, but a criminal one,” she explained, emphasizing Al-Azhar’s online campaign, which urges people and news outlets to stop calling the group Islamic. Al-Azhar is the top Islamic authority in Egypt and it is also highly revered by many Muslims worldwide. Former deputy imam of Al-Azhar Sheikh Mahmoud Ashour told Al Arabiya News that Sotloff’s killing was not only against humanity but “there is no religion that accepts the killing of a human soul.”

The largest Muslim civil rights and advocacy organization in the US, the Council on American-Islamic Relations, said: “No words can describe the horror, disgust and sorrow felt by Muslims in America and worldwide at the unconscionable and un-Islamic violence perpetrated by the IS terror group. The criminal actions of IS are antithetical to the faith of Islam.”

Obama reaffirmed that Washington would not be intimidated by IS militants. “Those who make the mistake of harming Americans will learn that we will not forget and that our reach is long and that justice will be served,” he said. — Al Arabiya News/Agencies

Open Letter to PTI Chairman Imran Khan

$
0
0



جناب عمران خان

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف
اسلام آباد۔

میری بیٹی منزہ کی عمر 14 برس ہے۔ اپنے دس سالہ تعلیمی دور میں وہ صرف ایک بار مسلسل پانچ دن سکول نہیں جا سکی تھی۔ یہ وہ دن تھے جب پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری اسلام آباد کے بلیو ایریا میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔

خاندانی تقریبات ہوں یا سیر و تفریح کے مواقع، منزہ سکول پر کسی چیز کو فوقیت نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے، جناب خان صاحب کہ جب کل اسے پیغام ملا کہ اس کا سکول مزید ایک ہفتہ نہیں کھل سکے گا، تو وہ بجھ سی گئی۔

خان صاحب میری بیٹی کا دل ٹوٹ گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو سکول نہ جا سکنا ہے۔ ایک اور وجہ ہے جس کا تعلق بھی براہ راست آپ ہی سے ہے، اس لیے وہ بھی میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔

گذشتہ برس مئی میں جب انتخابات قریب آئے تو میں نے آپ کی جماعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر ہمارے گھر میں خاصی گرما گرم سیاسی بحث چھڑ گئی۔ منزہ میرے اس فیصلے کے سخت خلاف تھی۔ مجھے یاد ہے کہ 11 مئی کی صبح جب میں ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلا تو منزہ نے مجھ سے کہا ’بابا ایک بار پھر سوچ لیں۔‘
مزید شرمندگی

میری آپ سے درخواست ہے کہ مجھے مزید شرمندگی سے بچا لیں۔ میری منزہ کو سکول جانے دیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے سامنے آپ کی سیاسی جدوجہد اور نظریات کا دفاع کرنے کی ایک بار پھر کوشش کروں گا۔ لیکن اس کے بند سکول اور سڑکوں پر لڑائی جھگڑے کے درمیان ایسا کرنا ممکن ہے۔
میں نے سوچا کہاں میرا 20 سالہ صحافت کا تجربہ اور کہاں یہ کل کی بچی اور اس کی سیاسی سمجھ بوجھ۔ میں پولنگ بوتھ میں گیا اور آپ کے امیدوار کے نام پر مہر لگائی۔

اگلے چند ماہ میں منزہ کو آپ کے نظریات اور نئے پاکستان کے فائدے گنواتا رہا۔ مجھے کبھی شک نہیں ہوا کہ وہ ان باتوں سے مرعوب ہو رہی ہے لیکن میں اسے اچھے مستقبل کی خوشخبری سناتا رہا۔

گذشتہ چند روز سے منزہ کنفیوژن کا شکار ہے۔ میں جب رات کو گھر جاتا ہوں تو اس کے سوالوں کے جواب نہیں دے پاتا۔ جو مناظر اس نے گذشتہ چند دنوں میں ٹیلی وژن پر دیکھے ہیں، اس کے بعد میں اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا۔
تحریک انصاف کا آزادی مارچ چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب اسلام آباد پہنچا تھا اور اس کے بعد شہر کے کئی حصوں میں نظام زندگی متاثر ہوا ہے
میں یقین نہیں کر پا رہا کہ 13 برس کی منزہ نے آپ کے نظریات کے بارے میں جو خدشات ایک برس پہلے ظاہر کیے تھے، وہ سچ ثابت ہو رہے ہیں۔
عمران خان صاحب، میں اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ ہو گیا ہوں۔

میری آپ سے درخواست ہے کہ مجھے مزید شرمندگی سے بچا لیں۔ میری منزہ کو سکول جانے دیں۔ میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے سامنے آپ کی سیاسی جدوجہد اور نظریات کا دفاع کرنے کی ایک بار پھر کوشش کروں گا۔ لیکن اس کے بند سکول اور سڑکوں پر لڑائی جھگڑے کے درمیان ایسا کرنا ممکن ہے۔
پلیز میری اور اپنی عزت کا پاس رکھیں۔ منزہ کو سکول جانے دیں۔
آپ کے نام یہ خط منزہ بھی پڑھے گی، اس لیے میں یہ بات یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں تحریر کردہ ایک ایک لفظ سچ ہے۔ امید ہے آپ ان گزارشات پر ہمدردانہ غور کریں گے۔

آپ کا ووٹر

Open Letter to PTI Chairman Imran Khan


تھر کے قحط زدہ لوگ خودکشیاں کرنے لگے......

$
0
0

چھاچھرو: سمو بھیل گوٹھ کی رہائشی تیس برس کی ماروبھت نے اپنے بچوں کو غذا کی فراہمی میں ناکامی کے بعد 23 اگست کو اپنی زندگی ختم کردینے کا فیصلہ کرلیا۔
واضح رہے کہ سمو بھیل چھاچھرو سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔
اس کی موت کے فوراً بعد صحافیوں اور سماجی کارکنان اس کے گھرپہنچے تھے جہاں اس کے خاندان کے لوگوں نے انٹرویو کے دوران اس کی موت کا سبب معاشی پریشانیوں کو قرار دیا۔ اب اس خاندان نے میڈیا سے بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
   حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے سالوں میں خودکشی کے چوبیس کیس 2011ء میں رپورٹ ہوئے، اور پینتس 2012ء میں۔ لیکن محض سات مہینوں کے اندر تھرپارکر ضلع میں خودکشی کے نتیجے میں یہ اکتیسویں موت ہے۔
اس علاقے میں خودکشی کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کو گھریلو تشدد اور غربت سے منسوب کیا جارہا ہے۔
ایک معروف سماجی کارکن اور حصار فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر سونو کنگھرانی کہتے ہیں کہ درحقیقت خودکشیوں کے پیچھے بنیادی وجہ غربت ہے۔
    
انہوں نے کہا ’’یہاں بہت سے عوامل ہیں، لیکن غربت اپنی تمام حشرسامانیوں کے ساتھ موجود ہے، جس پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے یہ جاری رہے گی۔ یہ عورت جس نے اپنی ہی جان لینے کا فیصلہ کیا،وہ جس مخمصے کا سامنا کررہی تھی، اس سے نکلنے کے لیے اس کےسامنے کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔‘‘
تھرپارکر میں کام کرنے والی ایک این جی اور اویئر کی جانب سے مرتب کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق خودکشی ایک مخمصہ ہے، جس کا سامنا مرد و خواتین دونوں کو کرنا پڑرہا ہے۔

اویئر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر علی اکبر رحیمو کا کہنا ہے کہ ’’ہم حقیقی اعدادوشمار پیش نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا ’’لیکن خودکشیوں کے ان کیسز کو تنہا نہیں دیکھا جاسکتا، اس لیے کہ یہ ایک بڑے مسئلے کا حصہ ہیں، جو خشک سالی کی وجہ سے پیدا ہونے والی غربت ہے۔‘‘

ایک دوسرے کیس میں ایک شخص اپنی بیوی کے ساتھ مالی مسائل پر ہونے والے جھگڑے کے بعد سہہ پہر کے قریب اپنا گھر چھوڑ کر چلا گیا۔
رات کے وقت ایک مقامی شخص نے اس کی لاش سمو بھیل گوٹھ کے قریب ایک کنویں کے اندر پائی اور اس کی بیوی کو مطلع کیا۔

صورتحال کی سنگینی کی وضاحت کرتے ہوئے علی اکبر رحیمو کہتے ہیں ’’چھاچھر جو تھر کے چھ تعلقوں میں سب سے بڑا تعلقہ ہے، یہاں ایک ہی دیہی صحت کا مرکز قائم ہے، جسے کاغذات میں تعلقہ ہسپتال کہا جاتا ہے۔‘‘
ہر مقامی فرد یا ایک این جی او کے عہدے دار جن سے ڈان نے بات کی، انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر میں جاری قحط سالی پر عوام کی توجہ مبذول کروائی جائے۔
اس سال خشک سالی کے بارے میں جو اطلاعات سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق یہ اس سے قبل 1974ء اور 1986ء میں واقع ہونے والی خشک سالی سے بھی بدتر ہے۔

یہ خشک سالی مون سون کی تاخیر کا براہِ راست نتیجہ ہے، یا پھر تھر میں ہی اس کی کمی ہے۔ عام طور پر مون سون کے لیے پندرہ جون اور پندرہ اگست کا درمیانی عرصہ قرار دیا جاتا ہے، اس کے بعد ہی خشک سالی واضح ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سونو کنگھرانی یہاں پر رائج ایک عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’تھڈلی، رکشابندھن کا تہوار سے ایک اشارہ ملتا ہے کہ تھر میں مزید بارش نہیں ہوگی۔ اور ٹھیک ایسا ہی ہوا جب اگست کے مہینے میں یہ تہوار منایا گیا تھا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کا قحط کبھی کبھار ہی آتا ہے۔ ’’یہ قحط غیرمعمولی اس لیے ہے کہ گھاس اور چارے کی پیداوار صفر ہے، جس کے براہِ راست اثرات مویشیوں پر پڑے ہیں، اور قحط سالی کی اس تباہی سے نمٹا ان لوگوں کے لیے دشوار ہوگیا ہے۔‘‘

خشک سالی کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی اموات پر کئی مہینوں سے مقامی این جی اوز اور اخبارات کی جانب سے صوبائی حکومت کے ساتھ شدید احتجاج کیا جارہا تھا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں خشک سالی پر ایک پالیسی متعارف کرائی گئی تھی، لیکن ڈاکٹر سونو کنگھرانی

جو یہ پالیسی تیار کرنے والی اس کمیٹی کے اراکین کے ساتھ تھے، پُرامید نہیں تھے
انہوں نے کہا ’’آنے والے مہینوں میں کچھ نہیں ہوگا۔ اس وقت ہم اس پالیسی کا انتظار کررہے ہیں، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس کو اسمبلی سے منظور کروایا جائے گا۔‘‘
ڈاکٹر سونو نے کہا ’’حکومت کا خیال تھا کہ شاید تھر کے لوگوں میں گندم تقسیم کردینے سے تھر کا موضوع ختم ہوجائے گا۔گندم کی تقسیم سے اس کو حل نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

وہ کہتے ہیں ’’اسی طرح بچوں کو حفاظتی ٹیکے دینے سے ان کی بھوک کا خاتمہ نہیں ہوجائے گا۔ تھر میں مویشیوں کو بچانے کا سوال ہے، جس پر تھری لوگ انحصار کرتے ہیں۔ ہم بات کرتے رہیں گے، اس کے ساتھ ان کی اموات جاری رہیں گی۔‘‘
اس کے بعد خشک سالی کے نتیجے میں تھر سے دو قسم کے لو گ نقل مکانی کرتے ہیں، ایک تو وہ ہیں جو عارضی طور پر کسی جگہ منتقل ہوجاتے ہیں، اور دوسرے وہ ہوتے ہیں جو ان حالات میں مستقل طور پر یہاں سے نقل مکانی کرتے ہیں۔

ایسے لوگ جو اپنے پورے خاندان کے ساتھ نقل مکانی کرتے ہیں، ایک سال کے لیے زیادہ تر ایک بیراج کے قریب واقع سندھ کے مغربی اور جنوبی حصوں میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

ان مقامات میں عمرکوٹ (جہاں نارا کینال کے قریب یہ لوگ قیام کرتے ہیں)، میر پور خاص اور بدین (جہاں زیادہ تر نقل مکانی کرنے والے کوٹری بیراج کے قریب ڈیرہ ڈالتے ہیں) شامل ہیں۔
پورے خاندان کو ساتھ لے کر نقل مکانی کرنے کی وجہ کھیتوں پر کام کے مواقع کی تلاش ہے۔

ڈاکٹر سونو کنگھرانی وضاحت کرتے ہیں کہ ’’کپاس اور مرچ کی فصل کی کٹائی پندرہ ستمبر سے شروع ہوتی ہے، جس کے لیے یہ لوگ پہلے سے نقل مکانی کرتے ہیں، اور پھر ایک سال بعد دوبارہ آتے ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ ’’اس کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے حال ہی میں نقلِ مکانی کی ہے، وہ فصل کے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی اور تھر میں مواقع کی کمی کی وجہ سے اپنا قیام جاری رکھ سکتے ہیں۔ ‘‘
چھاچھرو میں تھر ڈیپ دیہی ترقیاتی پروگرام کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے ایک رکن گوتم راٹھی کہتے ہیں تھر میں تباہی کی وجہ ایک جامع پالیسی کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا ’’اگر ہم بڑی تعداد میں پالیسیاں بنانا چاہتے ہیں، تو ہمیں کہیں اور دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن پالیسی کے بجائے اس کے نفاذ کے بارے میں سوالات نہیں کررہے ہیں۔‘‘

تھر میں خشک سالی کے حل کی تجویز دیتے ہوئے ڈاکٹر سونو کنگھرانی اور گوتم راٹھی کی رائے تھی کہ مویشیوں کو فوری بنیاد پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ڈاکٹر سونو کنگھرانی کا کہنا تھا کہ ’’صحت کی موبائل ٹیموں کو مختلف حصوں میں بھیجا جانا چاہیٔے، تاکہ وہ ایسے لوگوں کی مدد کرسکیں، جو تعلقہ ہسپتال یا ڈسپنسری تک نہیں پہنچ سکتے۔‘‘

انہوں نے کہا ’’اس کے علاوہ تھر کے لیے پینے کا صاف پانی مویشیوں کو محفوظ بنانے کے لیے بڑی حد تک مدد کرے گا اور اگر وہ بچ گئے تو لوگوں کے لیے طویل عرصے تک زندہ رہنا آسان ہوجائے گا۔

شدید بارشوں نے لاہور میں تباہی مچادی

سوشل میڈیا کی طاقت.......Power of Social Media

$
0
0


  سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر کی اہمیت سے انکار اگر پہلے تھا تو اب بلا شک و شبہ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستانی سوشل میڈیا پر ’ٹرولز، تنخواہ دار اور تربیت یافتہ ٹرینڈنگ مشینری‘ کے زیرِ اثر اہم مواقع ہر عوام کے حقیقی مزاج کی عکاسی نہ کرنے کا جو الزام عائد کیا جاتا ہے وہ گذشتہ چند دنوں سے جاری پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی کے دوران زائل ہوا۔

اس سارے عمل کے دوران سوشل میڈیا کے مزاج، سوچ اور رجحانات میں تبدیلی نظر آئی وہیں حقائق اور سچائی کو توڑنے مروڑنے کی کوششیں بھی نظر آئیں اور فوری طور اس کی تردید اور حقائق سامنے لانے کے لیے لوگوں کا ڈٹ جانا بھی دیکھا گیا۔

جب پاکستان کے بعض نیوز چینلز نے مظاہرین کے پولیس سے تصادم کے دوران سات ہلاکتوں کی خبریں نشر کیں تو سوشل میڈیا پر ہی حقائق سامنے لانے اور دلائل سے ان خبروں کو مسترد کرنے کا عمل ہوا۔

اسی طرح جب پارلیمان کا مشترکہ اجلاس شروع ہوتا ہے تو ساتھ ہی پاکستانی ٹوئٹر جاگتا ہے اور پارلیمان میں خطابات کی ہر اہم بات اور نکتہ ٹویٹ کیا جاتا ہے اور مقررین کا نام فوری ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر جاتا ہے۔

پاکستانی سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پاکستانی عوام کو ایک نئی طاقت، ایک نئی قوت اور ایک نیا ہتھیار فراہم کر رہا ہے
ایک اور بڑی تبدیلی اس رجحان کی صورت میں ہے جس میں لوگوں کا روایتی میڈیا کی نسبت سوشل میڈیا پر اعتبار کا بڑھنا ہے اور اس میں سب سے اہم بات دسترس کے حوالے سے ہے کہ یہاں آپ کسی سے کسی بھی وقت سوال کر سکتے ہیں، ثبوت مانگ سکتے ہیں اور دیکھ سکتے ہیں کہ بات کرنے والا کس قدر معتبر ہے اور اس کی بات میں کس قدر وزن ہے۔

دھرنے والوں کے خلاف جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کارروائی شروع کی تو جہاں ٹی وی چینلز اور متعلقہ سیاسی جماعتوں کے چند رہنما حقائق کے برعکس باتیں کر رہے تھے سوشل میڈیا کا حوالہ دے کر ان حقائق کی درستگی اسی ٹی وی چینل اور اسی رہنما کو کروائی گئی۔

دوسری جانب پاکستان کے اہم سیاسی رہنماؤں، پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے بھی اس بات کی اہمیت سمجھی کہ ٹوئٹر اور فیس بُک کے ذریعے ان کی بات تیزی سے دور تک جا سکتی ہے۔
اس کی مثال فوج کو دعوت دینے یا سہولت کار بننے کا معاملہ ہو یا فوج کی جانب سے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کی بات کرنے والے ٹی وی چینل کی بات کا انکار یا جنرل راحیل شریف کو ایک عدد بی ایم ڈبلیو کار کے تحفے کی عمران خان کی بات آئی ایس پی آر کی جانب سے فوری ٹویٹس کی گئیں اور تصدیق یا تردید کی گئی۔

پارلیمان میں خطابات کی ہر اہم بات اور نکتہ ٹویٹ کیا گیا اور مقررین کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا
بات تصدیق یا تردید تک ہی نہیں رہی بلکہ جب وزیراعظم کی جانب سے سہولت کار بننے کی بات آئی ایس پی آر کی جانب سے ٹویٹ کی گئی تو فوری حکومت کے خلاف باتوں کا ایک طوفان اٹھا۔

مگر وہاں بھی سابق سفیر حسین حقانی کی اس ٹویٹ کے بعد توازن پیدا ہونے لگا کہ ’کوئی تو ہے جو جھوٹ بول رہا ہے اور ہمیں یہ پتا چلانا ہے کہ وہ کون ہے مگر لوگوں ایسے کیوں ظاہر کرتے ہو جیسے آئی ایس پی آر نے کبھی جھوٹ نہیں بولا؟‘

دلچسپ صورتحال تب سامنے آئی جب آئی ایس پی آر کی جانب سے معمول کی ای میل میں لکھا ہوا آیا ’آئی ایس پی آر کے جواب کے لیے ہمارے ٹوئٹر ہینڈ کو فالو کریں۔

جیسے پاکستان میں جمہوریت ارتقا کی منزلیں طے کر رہی ہے، سیاستدان میچور ہو رہے ہیں، سیاست میں توازن اور پختگی کی داغ بیل ڈل رہی ہے، میڈیا میں مفاد کی خاطر کوریج کرنے والوں کے احتساب کی بات کی جا رہی ہے وہیں پاکستانی سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پاکستانی عوام کی اس اقلیت کو جو اس فورم پر موجود ہے ایک نئی طاقت، ایک نئی قوت اور ایک نیا ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

اس آزادی میں خود احتسابی بھی پنہاں ہے جو سچ اور جھوٹ کو الگ کرنے کی قابلیت بھی ساتھ ہی دیتی ہے۔

جنگل بیابان میں گزرے برس.......

$
0
0


انہوں نے دیکھا کہ ہر روز صبح کو دو بچے بکریوں اور بھیڑوں کو چرانے لے جاتے ہیں۔ یہ اس وقت کا قصہ ہے جب انہیں اس وادی کے ایک گھر میں قید کردیا گیا تھا۔ ایک دن انہوں نے بچوں سے پوچھا آخر تم لوگ اسکول کیوں نہیں جاتے۔
ان میں سے ایک بچے نے جواب دیا ’’ہم اس کے عادی ہیں۔ لیکن جب سے لڑائی ہورہی ہے، اسکول بند کردیے گئے ہیں۔‘‘
انہوں نے بچوں سے پوچھا ’’کیا تمہارے پاس اب بھی تمہاری کتابیں موجود ہیں؟ 
بچوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
انہوں نے کہا ’’تم اپنی کتابیں ساتھ میں کیوں نہیں لے آتے، میں تمہیں پڑھاؤں گا۔‘‘
وہ اگلے روز آئے لیکن دس منٹ میں بعد ہی چھٹی مانگی۔
انہوں نے وضاحت چاہی ’’کیوں؟ ابھی تو تم نے اپنے پہلا سبق ہی مکمل نہیں کیا ہے۔‘‘
جلد ہی دوسرے بچوں بھی ان کے ساتھ آنے لگے۔ اس طرح اگلے دس مہینوں میں بچوں کی تعداد بتیس سے زیادہ ہوگئی۔
لیکن پھر ان سے رخصت کا وقت آگیا، اس لیے کہ انہیں کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جارہا تھا۔
وہ انہیں استاد جی کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ یہ لقب اجمل خان کے لیے نہ مٹنے والا نشان بن چکا ہے۔
وہ ایک ایسے استاد ہیں، جو وزیرستان کے پہاڑوں میں برسوں قید میں رہے اور اب واپس لوٹ چکے ہیں۔
اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اجمل خان کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے 2010ء میں اغوا کیا گیا تھا۔ گزشتہ اگست میں وہ چار سال بعد گھر لوٹ آئے۔
انہوں نے بتایا ’’جب میں ان سے کہتا کہ اب تم لوگوں کی چھٹی، تو وہ پھدک کر اُٹھتے اور دوڑ جاتے۔ وہ کسی بھی سرکاری اسکول کے بچوں کی مانند تھے۔ سوائے اس کے کہ ان کے پاس کوئی سہولت نہیں تھی۔ 
  
کیا کھویا، کیا پایا

چار سال پہلے میں جب پشاور یونیورسٹی کے عقب میں واقع پروفیسر کالونی کے اس گھر پر آیا تھا تو یہاں خاموشی اور مایوسی کی فضا طاری تھی۔
وہ 2010 ء کا ستمبر تھا، اسی مہینے اجمل خان کو اغوا کیا گیا تھا۔ میں اپائنمنٹ لیے بغیر پہنچ گیا تھا، میری فون کالوں کا جواب نہیں دیا جارہا تھا۔
ان کے خاندان کو بات چیت کے ساتھ سب سے زیادہ پریشان کیا گیا تھا، اغوا کار میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے خوفزدہ کرنے کی کوشش کررہے تھے اور حکومت کو مجبور کررہے تھے کہ وہ ان کے مطالبات پورے کرے۔
سیکیورٹی گارڈز نے مجھے گیٹ پر ہی روک دیا۔ جب میں نے کہا کہ میں اجمل خان کے خاندان سے ملنا چاہتا ہوں، تو انہوں نے کہا کہ ان میں سے کوئی بھی مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتا۔

اگلی سڑک پر کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر لطف اللہ کاکاخیل رہتے ہیں۔ انہیں نومبر 2009ء میں اغوا کیا گیا تھا، اور محض چھ ماہ قید رکھنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ اس طرح کی قیاس آرائیاں تھیں کہ حکام نے تاوان ادا کیا تھا۔ لیکن اجمل خان کا معاملہ پیچیدہ تھا۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان کے کزن تھے، جن کی پارٹی خیبر پختونخوا میں اس وقت برسراقتدار تھی۔
اس پارٹی کی پاکستانی طالبان کے لیے مزاحمت نے ٹی ٹی پی کو ان کا دشمن بنادیا تھا، اس کے کارکنان اور سیاستدانوں کو مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور انہیں نشانہ بھی بنایا جارہا تھا۔

ان کی گھر واپسی پر ان کے خاندان کو مبارکباد دینے کے لیے آنے والے مہمانوں کا تانتا بندھا ہوا تھا، اجمل خان نے ایک لمحے کو اس ماحول سے ذہنی طور پر باہر نکل کر کہا ’’میری حکیم اللہ محسود کے ساتھ ملاقات درحقیقت خوشگوار تھی۔ 
اجمل خان نے بتایا ’’انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہم آپ کے خلاف کچھ بھی نہیں کررہے ہیں۔ لیکن ہم یہاں ایک تنظیم چلا رہے ہیں۔ ہمیں آپ کی رقم نہیں چاہیٔے، یہ ہمارے لیے حرام ہے۔ ہم حکومت سے تاوان کے لیے کہہ رہے ہیں۔‘‘
کیا حکومت نے تاوان کی ادائیگی کردی ہے، یا ٹی ٹی پی کے قیدیوں کو پروفیسر اجمل خان کے بدلے میں رہا کردیا ہے، یہ واضح نہیں ہوسکا۔
ٹی ٹی پی کے سربراہ ملّا فضل اللہ کا دعویٰ ہے کہ پروفیسر اجمل خان کو تین طالبان کمانڈروں کے بدلے میں رہا کیا گیا ہے۔
جبکہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے پروفیسر اجمل خان کو بحفاظت رہا کروالیا ہے۔

دورانِ قید گزری زندگی

اجمل خان کو ٹی ٹی پی نے جب اغوا کیا تو وہ کلین شیو اور چوڑے چکلے تھے۔
اور جب وہ واپس آئے تو باریش اور دبلے پتلے ہوگئے تھے۔ جنگل میں گزارے گئے ان چند سالوں کے دوران ان کا نکتہ نظر کیسے تبدیل ہوگیا؟
ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی آئی ہے، سوائے اس کے میں نے داڑھی بڑھا لی ہے۔‘‘ اجمل خان نے بتایا ’’لیکن اب میں ہمیشہ رکھنا چاہتا ہوں۔جب وہ مجھے وزیرستان لے گئے، انہوں نے مجھے ریزرکا ایک بڑا پیک لا کردیا۔ میں نے کہا مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے شہری طور طریقے کی پیروی نہیں کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔نہ ہی مجھے یہ سہولتیں درکار تھیں۔ ‘‘ ان کا خاندان ان کے بغیر گزارے ہوئے وقت کو بجائے سالوں میں بیان کرنے کے دنوں میں بیان کرتا ہے۔ وہ ان کے انتظار میں گزارے ہوئے طویل غمزدہ وقت کو چار سالوں کے بجائے چودہ سو اکیاون دن کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔
جبکہ اجمل خان کے لیے یہ وقت ایک طویل خواب کی مانند تھا۔

اس دوران ان کا روزانہ کا معمول تھا کہ وہ علی الصبح نماز کی ادائیگی کے لیے بیدار ہوتے، ریڈیو سنتے، اور اپنے لیے کھانا پکاتے، اس لیے کہ ٹی ٹی پی کے اراکین چکنائی سے بھرپور کھانے کھاتے تھے، جو کہ ان کے کمزور دل کے لیے مضر ثابت ہوسکتے تھے۔ نہ تبدیل ہونے والے مناظر کے ساتھ پہاڑوں پر پیدل چلنا، دکانداروں کے ساتھ بات چیت کرنا، وہ بھول گئے تھے کہ وہ کسی اور جگہ کے باشندے ہیں۔

اب ان کا کہنا تھا ’’ایک وقت ایسا آیا جب مجھے محسوس ہوا کہ میری پوری زندگی وہیں گزری تھی۔ ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے میں وہیں پیدا ہوا تھا، اور انہیں پہاڑوں کے ساتھ بڑا ہوا تھا۔‘‘
ان کی سابقہ زندگی انہیں اس وقت یاد آتی جب ان کا گھر سے فون کے ذریعے رابطہ ہوتا اور ریڈیو کی نشریات کے ذریعے وہ اپنی پچھلی زندگی جُڑ جاتے، جسے وہ باقاعدگی سے سنتے تھے۔

ان کے دو برادرِ نسبتی اور ایک کزن کی ہلاکت کی خبر ان کے خاندان کے لوگوں نے ان سے چھپائی، جو مردان میں ایک نمازِ جنازہ کے اجتماع پر خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے، یہ خبر انہیں ریڈیو کے ذریعے ملی۔
جب وہ قید کی زندگی کے مکمل طور پر عادی ہوگئے تھے اور انہیں علم ہوگیا تھا کہ ٹی ٹی پی انہیں نقصان نہیں پہنچائے گی، تو بھی دیگر خطرات نے انہیں اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔

انہیں یاد رہتا تھا کہ ڈرون کے خطرات موجود ہیں، فوج ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر شیلنگ کرتی ہے، اور مسلسل یہ خطرہ پوشید رہتا تھا کہ آیا وہ بچیں گے یا نہیں۔
انہوں نے یاد کرتے ہوئے کہا ’’میں نے اپنے خاندان کو کھودیا تھا، لیکن میں نے دیہات میں دوست بنالیے تھے، جہاں ہم ایک مقامی دکان پر شام کے وقت اکھٹا ہوتے تھے۔‘‘

اجمل خان نے بتایا ’’وہ مجھے دوپہر کے یا رات کے کھانے کے لیے باہر لے گئے۔ میں نے کئی مرتبہ ان ساتھ رات کو رک بھی گیا۔ وہ میرے ضامن بن گئے تھے، انہوں نے ٹی ٹی پی کو قائل کرلیا تھا کہ میں فرار نہیں ہوں گا۔ چنانچہ ان لوگوں نے مجھے تنہا اردگرد کے علاقوں میں جانے کی اجازت دے دی تھی۔ 
اب وہ بحفاظت اپنے گھر واپس آگئے ہیں، تو کیسا محسوس کرتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں پروفیسر اجمل خان کا کہنا تھا ’’یہ میرے لیے بہت خوشی کے لمحات ہیں کہ میں اپنے بچوں، بھائیوں اور بہنوں کے پاس واپس آگیا ہوں۔ 
اور یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے اور اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے بولے ’’میرے پاس اس کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔انہوں نے مجھ پر کبھی تشدد نہیں کیا۔ وہ میرے ساتھ اچھے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ قید میں گزرتی زندگی تھی۔ میں آزاد نہیں تھا۔ میں ان کے قوانین کے مطابق زندگی گزار رہا تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ ہمیں دیکھو، جب ہم پکڑے جاتے ہیں، تو ہمیں قیدخانوں میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ہم برسوں سورج کی روشنی نہیں دیکھ پاتے۔ میں نے ان سے کہا بے شک میں قید میں نہیں ہوں، لیکن میرا خاندان کہاں ہے؟ 

Professor Dr Ajmal khan, Vice Chancellor Islamia University ...

People stand near their submerged houses on the flooded banks of river Tawi in Jammu Kashmir

$
0
0
People stand near their submerged houses on the flooded banks of river Tawi after heavy rains in Jammu Kashmir

Viewing all 6213 articles
Browse latest View live