Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 6213 articles
Browse latest View live

گلو بٹ کی قوم......

$
0
0


ہم نے گلو کے نام پر قوم کو اور خود کو الو بنایا ہوا ہے۔ عقل پر پتھر ڈالے ہوئے آنکھیں بند کیے ہم اپنے کھودے ہوئے کنویں کے اندر گھومے جا رہے ہیں اور خوش ہیں کہ زبردست معرکہ مار لیا ہے۔ جو گلو ڈرامے کو نہیں دیکھ رہے ان کو اس بات کی فکر ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کون جیتے گا۔ وہ رات بھر گھنٹوں ٹی وی کو دیکھ کر دوسری اقوام کی خوشی اور غم خود پر طاری کرتے ہوئے ہنستے اور روتے ہیں۔ مگر دنیا گلو اور فٹ بال کے گرد نہیں گھوم رہی۔ ہمارے برابر میں بین الاقوامی سیاست کا بد ترین بحران آتش فشاں میں سے پھوٹنے والے لاوے کی طرح پھیل رہا ہے۔

سی این این کی تین لفظوں کی سرخی ہمارے بغل میں تباہی کی اس داستان کو کوزے میں بند کرتی ہے۔ کل سارا دن عراق پر رپورٹنگ کے دوران سی این این نے اپنی اسکرین پر اس ملک کی آخری رسومات کو ـ ’’عراق کا خاتمہ‘‘ کا نام دیا۔ سننے کو تین الفاظ ہیں لیکن اگر غور کریں تو دل کو لرزا دینے والا جملہ ہے۔ جلتے ہوئے ملک سیاسی میدان پر پھیلتے اور پھر اس برے طریقے سے چکنا چور ہوتے ہیں کہ نام بھی باقی نہیں رہتا۔

قدیم ترین انسانی تہذیب عرب ثقافت اور اسلامی تمدن کی سر زمین اب بے نام کیفیت میں ریزہ ریزہ ہو رہی ہے۔ اور یہ پہلا ملک نہیں ہے جو اس عمل میں سے گزرا ہے۔ ہماری نسل نے اپنے سامنے درجنوں ممالک تہس نہس ہوتے دیکھے ہیں۔ مگر عراق کی مثال ہمارے لیے ان تمام ممالک سے زیادہ اہم ہے۔ یہاں پر سیاسی فساد جو امریکا کی شر انگیز پالیسیوں کا منطقی انجام تھا اس حد تک پھیلا کہ اس نے اتفاق رائے کی اصطلاح کو بے معنی کر دیا۔

آج کل اس ملک کے وزیر اعظم نور المالکی اپنے نکمے پن کی وجہ سے ہر کسی کا پسندیدہ ہدف بنے ہوئے ہیں۔ ان کی غلطیوں کی وجہ سے وہ تمام دھڑے جو طاقت کے نظام کا حصہ بننا چاہتے تھے اور جن کے توسط سے عراق کا ملک ایک اکائی کے طور پر اکٹھا رہ سکتا تھا اب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ ایک طرف سنی شیعہ کی لڑائی چل رہی ہے دوسری طرف کرد اپنے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم کے اپنے ساتھی ان کو چھوڑ رہے ہیں۔ شمالی اور جنوبی عراق اب علیحدہ ملک ہیں۔ شام جس کی سرحد عراق کے ساتھ ملتی ہے اہم حصوں پر کنٹرول کھو چکا ہے۔

دمشق اور بغداد اب یا تو نام کے دارلحکومت ہیں اور یا کٹی پھٹی ریاستوں کے مالک۔ ہمیں فٹ بال کے شائقین کی طرح دوسرے ممالک کے حالات کو خود پر طاری کرنے کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی بری اور اچھی مثال ہم پر لاگو ہوتی ہے۔ لیکن مشرق وسطی سے اٹھنے والا فرقہ ورانہ فساد اس سونامی کی طرح ہے جو سیکڑوں میل دور تباہی کے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس وقت سعودی عرب اور حمایتی ملک ایک طرف ہیں۔ ایران پسند ملک اور دھڑے دوسری طرف۔ امریکا اپنی بد ترین پالیسیوں کے نتائج کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال کر معتبر بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر جب تک یہ کسی قسم کی کارروائی کرنے پر مائل ہوگا تب تک اندرونی تباہی اتنی ہو چکی ہوگی کہ اس کا ازالہ صدیوں میں بھی ممکن نہیں ہوگا۔

عراق کے قومی اثاثے یعنی تیل کی تنصیبات وغیرہ اب غیر ریاستی گروپوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ شکست و ریخت کا یہ عمل اب بے قابو ہے۔ چونکہ اس علاقے میں پیدا ہونے والے حالات مختلف ذرایع سے ہمارے ہاں اندرونی طور پر فتنہ پروری کا باعث بن جاتے ہیں۔ لہذا ہمیں ان کے بارے میں فکر کرنی چاہیے۔ اور کچھ نہیں تو یہ سوچنا چاہیے کہ ریاستوں کی فعالیت اتنی جلدی سرخ رنگ کے محلول میں کیسے تحلیل ہو جاتی ہے۔
سیاسی عدم اتفاق رائے اور اندرونی جھگڑے ریاستی نظام سے خود کش حملوں کی طرح ٹکراتے ہیں اور ناقابل تلافی تباہی میں بدل جاتے ہیں۔ مگر گلو بٹ سے متاثرہ میڈیا، حماقتوں پر مائل حکومت اور ذاتی مفادات پر مبنی کھیل تماشے کرنے والی حزب اختلاف ان معاملات سے کہیں دور پاکستان کو ایک فٹ بال اسٹیڈیم میں تبدیل کیے ہوئے ہیں۔ جہاں ہر کوئی اپنے خلاف گول کر کے خوش ہوئے پھرتا ہے۔ بے مہار تماش بینوں کی طرح قوم کا ایک بڑا حصہ کھانے پینے اور اچھل کود میں مصروف ہے۔ کہیں پر جنگ ہو رہی ہے اور کہیں پہ پارٹیاں۔ کوئی میچ دیکھ رہا ہے اور کوئی ایک دوسرے پر کرسیاں اچھال رہا ہے۔

ایسی ادھم پرستی اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھی۔ اس وقت یہ بحث فضول ہے کہ اس ہنگامے کا سبب کون بنا۔ کیونکہ یہاں پر کوئی کبھی اپنی ذمے داری قبول نہیں کرتا، کرتوت اپنے ہوتے ہیں مگر ذمے داری کسی دوسرے کی۔ میاں شہباز شریف کا یہ کہنا کہ صوبے کا وزیر اعلی ہونے کے باوجود ماڈل ٹائون سانحے کے اس معاملے کو ٹی وی اسکرین سے جانا اس رویے کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس طرح حزب اختلاف کا یہ بیان کہ موجودہ حکومت کو احتجاج کے ذریعے مفلوج کر کے وہ ملک کی خدمت کر رہے ہیں، نادانیوں کی فہرست میں اول درجے کا خیال ہے۔

ایک بین الاقوامی ادارے کی حالیہ تحقیق کے مطابق پچھلے ساٹھ سالوں میں دنیا امن کے حوالے سے ایسے بد ترین حالات سے نہیں گزری جیسا کہ اب ہے۔ اس خوفناک صورت حال کی ایک وجہ ریاستوں کے اندر بڑھتی ہوئی افرا تفری ہے جو آبادیوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتی ہے۔ خون ریزی کی راہ ہموار کرتی ہے اور مختلف گروپوں کو ایسی پر تشدد لڑائی میں پھنسا دیتی ہے جس سے وہ کوشش کے باوجود نہیں نکل پاتے۔

دنیا میں اس وقت پانچ قسم کے ممالک پائے جاتے ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جو دنیا کو چلا رہی ہے جس کے کہنے پر تیل اور سونے کی قیمتیں بڑھتی اور گھٹتی ہیں اور جو ممالک کے نقشے بدل دیتے ہیں۔ دوسری قسم ان ممالک کی ہے جو دنیا کو چلانے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس طرف ہر روز اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ تیسری قسم وہ ہے جو اپنے معروضی حالات سے واقف ہوتے ہوئے خود کو اعلی علاقائی طاقت کہلوانے پر اتفاق کیے ہوئے ہیں۔
چوتھی قسم ان ممالک کی ہے جو خود کو مشکل سے سنبھالے ہوئے ہیں اور ہر وقت اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں وہ پانچویں قسم میں نہ جا گریں۔ جہاں پر ان کے بارے میں ’’عراق کا اختتام جیسی شہ سرخی لگ جائے‘‘ پانچویں نمبر پر بد قسمتی سے وہ ممالک ہیں جن کے بارے میں یہ شہہ سرخیاں لگ رہی ہیں۔ ان کا صرف ماضی باقی ہے ۔نہ حال ہے نہ مستقبل۔ سوچنے کی بات ہے کہ ہم اس وقت کس قسم سے تعلق رکھتے ہیں۔ گلو بٹ سے نظر ہٹائیں تو جواب خود ہی نظر آ جائے گا۔

طلعت حسین

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس 


مسلم ایجادات جو ہمیشہ قابل فخر رہیں........

$
0
0


آج کے اس جدید دور میں امریکہ ، برطانیہ ، اٹلی اور اسی طرح دوسرے جدید ترقی یافتہ ممالک کو دنیا میں ایک اعٰلی مقام حاصل ہے۔ لیکن ایسی بہت ساری ایجادات ہیں جن کا براہ راست تعلق مسلمانوں سے ہے۔ ہزاروں ایسی بہت ساری ایجادات ہیں جو کہ آج کے اس جدید دور میں بھی اپنی نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ مغرب کی تمام تر ایجادات مسلمانوں کی ایجادات کی مرہون منت ہیں ان میں سے چند ایک کا زکر کچھ یوں ہے۔ ******

 ٹوتھ برش (مسواک) 6 ہجری میں ہر دلعزیز ہمارے پیارے نبی کریمﷺ نے مسواک کا استعمال کیا۔ انہوں نے مسواک کو استعمال کرنے پر بہت زور دیا اور اس کے فوائد بھی بتائے۔ اسی طرح آج کے اس جدید دور میں مسواک کی طرز پر ٹوتھ برش استعمال ہو رہا ہے۔ جراحی مشہور و معروف مسلمان سائنس دان ابوالازہروی نے 1500 صفحات پر مشتمل جراحی کے متعلق پوری جامع کتاب شائع کی جس میں جراحی کے متعلق ساری معلومات فراہم کی گئیں۔الازہروی کی اس کے علاوہ ایجادات میں بلی کی آنتوںپہلا آپریشن بھی شاملہے۔ کوفی (کافی) اس جدید دور میں جہاں یورپین ثقافت میں کافی کو بہت اہمیت حاصل ہے ،وہاں پر کافی کے نت نئے نام رکھے گئے ہیں۔ حقیقت میں کافی سب سے پہلے یمن میں نویں صدی میں پہلی بار تیار کی گئی، اس کے بعد تیرہویں صدی میں یہ ترکی آئی اور پھر سولہویں صدی میں یورپ میں آئی۔

 اڑنے والا طیارہ عباس ابن فرناس پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے سب سے پہلا طیارہ تیار کیا اور اس کی کامیاب پرواز کی۔ بعد میں ان کے ڈیزائین کی کاپی کی گئی جو کہ اٹلی کے آرٹسٹ نے کی۔ یونیورسٹی کا قیام 958میں دمشق میں پہلے ڈگری پروگرام کا آغازہوا اور اس یونیورسٹی کو اسلام کی تعلیمات کے فروغ کے لیے استعمال کیا گیا۔ الجبرہ الجبرہ فارسی زبان سے اخذ کیا گیا ہے اور نویں صدی میں مسلمان سائنس دان نے کتاب لکھی جس کا نام ‘‘کتاب الجبر ’’ رکھا۔ اور اس کے علاوہ ہندسوں کے متعلق ، تعداد کی پاور دو وغیرہ مسلمان سائنس دانوں کی ایجادات ہیں۔ علم بصریات بہت ساری اہم بصریات کے متعلق ریسرچ مسلم دنیا سے ہوئی۔ ابو علی الحسن اور الحیشم نے ثابت کیا کہ انسان روشنی کے عکس کے زریعے دیکھتا ہے اور اس کے علاوہ بہت ساری معلومات فراہم کیں جو کہ انسانی آنکھ سے متعلق تھیں۔ ہسپتال کا قیام ہسپتال جو آج ہم دیکھتے ہیں کہجن میں مختلف وارڈز ، نرسنگ سٹاف کی ٹریننگ وغیرہ یہ سب سے پہلے 
مصر میں میں شروع ہوا۔

صمد اسلم
Muslim Scientists and  Discovereis

اخلاقی انحطاط........

Nasrullah Shaji, The unsung Brave Hero

$
0
0



نصراللہ شجیع کو عوامی ریلیوں اور جلسوں کے انتظامات اور کمپیئرنگ کے فن میں خاص کمال اور تجربہ حاصل تھا۔ وہ اپنی منفرد اور پُرجوش کمپیئرنگ سے جلسوں اور جلوسوں کے ہزاروں شرکاء کو منظم اور گرمائے رکھنے کا فن جانتے تھے۔ شجیع نے جماعت اسلامی کے بیشتر تاریخی جلسوں کی کامیاب اور شاندار کمپیئرنگ سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی آخری بڑی اور تاریخی کمپیئرنگ نومنتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق صاحب کی پہلی بار کراچی آمد کے موقع پر ایئرپورٹ پر اور ادارۂ نور حق کے استقبالیہ اجتماعات میں کی تھی، جس میں ان کا جوش جنون کی صورت میں نمایاں تھا۔ یہاں نصر اللہ خان شجیع کے فن کمپیئرنگ کا مطالعہ مطلوب نہیں ہے (اگرچہ یہ ان کی شخصیت کے مطالعہ کا ایک اہم موضوع ہے) بلکہ دورانِ کمپیئرنگ ان کے وہ نعرے ہیں جن کی معنویت اور شعور سے وہ سرشار تھے۔ جب وہ نعرہ زن ہوتے تھے تو اُن میں ان نعروں کی معنویت اور شعور کو محسوس کیا جاسکتا تھا۔ وہ جلسوں میں بہت سے نعرے لگاتے تھے جو جماعت 
کی فکر اور پیغام کی ترجمانی کرتے تھے، لیکن ان کا یہ نعرہ

اس زندگی کی قیمت کیا؟ لا الہٰ الا اللہ
تیری میری آرزو … شہادت، شہادت

محض نعرہ نہیں تھا بلکہ شجیع کا فلسفۂ زندگی تھا۔ وہ اللہ کی رضا کی سعادت کے لیے جیے اور شہادت کی موت مرے۔ گویا انہوں نے اپنے نعروں کے مصداق اپنی زندگی کا مشن مکمل کرلیا۔
نصراللہ خان شجیع 2 جون کو سید احمد شہید ؒ کی سرزمین بالاکوٹ میںدریائے کنہار میں اپنے ایک شاگرد حافظ سفیان عاصم کی زندگی بچاتے ہوئے ڈوب کر شہید ہوگئے تھے۔ 2 جون سے 17جون تک اُن کے اہلِ خانہ اور تحریکی احباب نے ایک ایک لمحہ شدید کرب اور کشمکش میں گزارا، کیونکہ شجیع اور سفیان کی نعشیں دریا سے بازیاب نہ ہوسکی تھیں۔ بالآخر اُن کے اہلِ خانہ کی اجازت سے 17 جون کو ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کردی گئی، تاہم نعشوں کی تلاش جاری رکھی جائے گی۔

نصراللہ خان شجیع بھائی کی غائبانہ نمازِ جنازہ بھی ان کی بے مثال شخصیت، سیرت اور خدمات کے شایانِ شان ’’دھوم دھام‘‘ سے ادا کی گئی۔ مقررہ وقت سے قبل ہی ان کے چاہنے والے ادارۂ نورِ حق نیو ایم اے جناح روڈ پر جمع ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ان میں بزرگ، نوجوان، بچے، سیاسی جماعتوں کے قائدین و کارکنان، علماء کرام اور اساتذہ کرام سمیت تقریباً تمام ہی شعبہ ہائے زندگی کے افراد شامل تھے، جو شجیع کی دلنواز شخصیت کا اعتراف تھا۔ نصراللہ خان شجیع کی غائبانہ نمازِ جنازہ کا اجتماع کراچی کے پُرآشوب حالات میں وحدت و یک جہتی اور اتحاد و برکت کا پیغام بن گیا۔ غائبانہ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لیاقت بلوچ خاص طور پر لاہور سے تشریف لائے۔ اکابرینِ جماعت اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، محمد حسین محنتی، انجینئرحافظ نعیم الرحمن اور قیم عبدالوہاب سمیت نائب امراء و نائب قیمین اور امرائے اضلاع نے شرکت کی۔

غائبانہ نماز جنازہ سے قبل شہر کی تقریباً تمام نمائندہ دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے وقت کی تنگی کے باعث ایک سے ڈیڑھ منٹ کے مختصر مگر جامع خطاب میں نصراللہ خان شجیع کی شخصیت کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔‘ سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ نصراللہ خان شجیع اقامتِ دین کے جانباز سپاہی اور مولانا مودودیؒ کی فکر و تحریک کے مرجع خلائق تھے، انہوں نے شہر کراچی کو ظالموں اور بھتہ خوروں کے چنگل سے آزاد کرانے اور شہریوں کے حقوق کی جدوجہد کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ شجیع عمر میں مجھ سے چھوٹے تھے لیکن کام بہت بڑا کرگئے۔ اسد اللہ بھٹو نے شجیع کو بھتہ خوروں اور دہشت گردوں کے خلاف جرأت کی علامت قرار دیا۔ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ نصراللہ خان شجیع دھرتی کا سپوت، اتحاد کی علامت اور ظلم و برائی کے خلاف جرأت و شجاعت اور حق کی آواز تھی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نصراللہ خان شجیع کی شہادت پر پورا ملک سوگوار ہے، دین و ملت کے لیے ان کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ پیپلزپارٹی کے رہنما وقار مہدی نے کہا کہ شجیع کی محبت اور رویہ ہم سب کے لیے قابلِ تقلید ہے۔ نجمی عالم نے کہا کہ شجیع کی شہادت پر پی پی کا ہر کارکن مغموم ہے، اس شہر میں جہاں سچ کہنا مشکل ہے، وہ ببانگِ دہل حق اور سچ کا پرچار کرتا تھا۔ مزدور رہنما حبیب جنیدی نے شجیع کی شہادت کو پوری قوم و ملک کا نقصان قرار دیا۔

غائبانہ نمازِ جنازہ کے اجتماع سے مسلم لیگ (ن) کے خواجہ طارق نذیر، تحریک انصاف کے آفتاب جہانگیر، جے یو آئی (ف) کے اسلم غوری، جے یو آئی (س) کے قاری عبدالمنان انور، مسلم لیگ کے نواز مروت، جے یو پی کے مفتی غوث صابری اور شجیع کے بھائی وقار خان نے بھی خطاب کیا۔
غائبانہ نمازِ جنازہ کی امامت لیاقت بلوچ نے کی۔ جبکہ آخر میں بابائے کراچی اور سابق ناظم کراچی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ نے دعا کی۔
نصراللہ خان شجیع جس سج دھج کے ساتھ شہادت کی مراد پانے میں کامیاب ہوئے وہ ہماری بھی آرزو ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ شجیع کے جسدِ خاکی کو بھی بازیاب کرائے، ان کی والدہ، اہلیہ، بچوں، بھائی، بہنوں، اعزہ و اقرباء اور احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کے حق میں مغفرت کی دعائوں کو قبول فرمائے۔

آخر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ شجیع کی شہادت بھی شہرِ قائد کے اتحاد کی علامت ہے۔ ان کی غائبانہ نماز جنازہ میں شہر کی نمائندہ دینی و سیاسی جماعتوں کے قائدین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ شجیع سیاست میں بھی اتحاد، رواداری اور یک جہتی کی علامت تھے۔
محمدشکیل صدیقی

Uzbek Militants and Pakistan by Hamid Mir

$
0
0

 Uzbek Militants and Pakistan by Hamid Mir

Waziristan operation - سات لاکھ خودکش by Saleem Safi

$
0
0



یوں تو وہ بھی ہماری طرح پاکستانی ہیں لیکن قصور ان کا صرف یہ تھا کہ وہ رائے ونڈ کے بجائے شمالی وزیرستان میں پیدا ہوئے اور پھر اسلحہ اٹھانے کے بجائے کتاب سے اپنی اور خاندان کی زندگی بدلنے کی کوشش کی۔ رسول داوڑ نے بڑی مشقت سے ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد مختلف اخباروں میں کام کیا اور اب پشاور میں ایک قومی چینل کے ساتھ فعال رپورٹر کے طور پر وابستہ ہیں۔ وہ اور انکے بچے پشاور میں مقیم ہیں لیکن اس تنخواہ میں وہ پورے خاندان کو یہاں منتقل نہیں کر سکتے۔ اپنی مٹی اور علاقے سے لگائو کی وجہ سے یوں بھی انکے والدین اور بھائی وزیرستان چھوڑنے پر آمادہ نہیں تاہم جب بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کا غلغلہ بلند ہوتا ، وہ اپنے خاندان کو پشاور منتقل کردیتا ہے۔ پہلے سرجیکل اسٹرائکس ہوئے تو دوسرے قبائلیوں کی طرح ان کو بھی شک ہوا کہ اب آپریشن شروع ہو رہا ہے چنانچہ راتوں رات انہوں نے اپنے خاندان کو وہاں سے نکال کر پشاور منتقل کیا لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ حکومت مذاکرات کرنے جا رہی ہے چنانچہ پشاور میں کرائے پر لیا گیا گھر واپس کرکے انکے اہل خانہ واپس وزیرستان چلے گئے۔ کچھ عرصہ قبل دوبارہ سرجیکل اسٹرائیکس کے بعد ایک بار پھر آپریشن کا امکان پیدا ہوا تو دوبارہ انہوں نے اس عمل کو دہرایا۔

گزشتہ ہفتے اچانک حکومت کی طرف سے آپریشن کا اعلان کیا گیا اور اسی روز وزیرستان کے بعض علاقوں میں بمباری بھی کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے ذرائع نے انہیں بتایا کہ اس بمباری میں ایک 150 مبینہ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ بمباری جہاں ہوئی، وہ ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر تھا۔ چنانچہ اسٹوری فائل کرنے کے بعد وہ اپنی والدہ، بھابھیوں اور دیگر اہل خانہ کو لینے کیلئے راتوں رات وزیرستان روانہ ہو گئے اور ان کی بیوی اور چھوٹے بچے پشاور میں انتظار کرتے رہ گئے ۔ انکے اہل خانہ مویشیوں اور گھر کی دیگر اشیاء کو چھوڑ کر علاقے سے نکلنے کیلئے رخت سفر باندھ گئے لیکن علاقے میں کوئی سواری میسر نہیں تھی۔ دوسری طرف اسی رات انکے بھائی کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی اور انکی بھابھی کو اسی حالت میں اسی رات گھر سے نکلنا پڑا۔

رسول داوڑ انہیں لینے کیلئے بنوں پہنچ گئے تو انہیں معلوم ہوا کہ وہ آگے نہیں جا سکتے کیونکہ آگے کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے گورنر سیکرٹریٹ، پولیٹکل انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز میں اپنے جاننے والوں سے بہت رابطے کئے کہ کوئی حل نکلے لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ چنانچہ تین دن تک انکے اہل خانہ سامان باندھے، موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا نو زائیدہ بچے کو تڑپتا دیکھ کر خود بھی تڑپتے اور گرمی سے تباہ حال ہوتے رہے جبکہ رسول داوڑ بنوں میں بیٹھے کرفیو کے اٹھنے کا انتظار کرتے رہے۔ آپریشن کے اعلان اور آغاز کے تین دن بعد کرفیو اٹھا دیا گیا تو ان کے اہل خانہ بنوں کی طرف روانہ ہوئے لیکن اب مسئلہ ٹرانسپورٹ کا تھا۔ دوسری طرف ایک ہی دن میں لاکھوں لوگوں نے نکل کر بنوں پہنچنا تھا۔ ادھر سے ٹریفک پولیس نہ ہونے کی وجہ سے سڑک جگہ جگہ بلاک ہوگئی تھی۔

بہر حال انکے اہل خانہ جان لیوا گرمی میں چودہ گھنٹے میں میران شاہ سے بنوں پہنچے۔ بنوں پہنچتے ہی وہ پہلی فرصت میں اپنے نوزائیدہ بھتیجے کو اسپتال لے گئے لیکن وہاں پہلے سے مریض سیکڑوں کی تعداد میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے جبکہ ڈاکٹر نظر نہیں آرہے تھے۔ وہ بیمار بھتیجے کو لے کر پشاور جانے کا پروگرام بنا رہے تھے کہ انہیں اطلاع ملی کہ ان کا بھانجا بنوں میں پانی کی بوتل کی طرف لپکتے ہوئے سڑک پار کر رہا تھا کہ انہیں گاڑی نے ٹکر ماری۔ رسول داوڑ رشتہ داروں اور دوستوں کی مدد سے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا نو زائیدہ بھتیجے اور زخمی بھانجے اور دیگر اہل خانہ سمیت پشاور منتقل ہو گئے۔ اب پشاور کے اسپتال میں ان کا بھانجا کومہ میں ہے جبکہ بھتیجا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا۔ وہ حیران ہیں کہ مہاجر بننے والے اہل خانہ کیلئے پشاور میں کرائے کے گھر کا بندوبست کریں یا کہ اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا معصوموں کی تیمارداری کریں۔ آج ان سے فون پر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست مل کر چندہ جمع کر رہے ہیں تاکہ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کیلئے قبرستان کی زمین خرید لیں ۔ انکا کہنا تھا کہ اب ہم لوگوں کو جینے کی امید نہیں لیکن روزانہ جو آئی ڈی پیز مر رہے ہیں، انکو دفن کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ اس لئے ہماری ترجیح اب قبرستان کیلئے زمین کی خریداری ہے۔ واضح رہے کہ یہ سب کچھ اس وزیرستانی کے ساتھ ہو رہا ہے جو نامور صحافی ہے جنکے سیاستدانوں کیساتھ بھی تعلقات ہیں، فوجیوں کیساتھ بھی اور حکومتی اہلکاروں کیساتھ بھی۔ اب اندازہ لگا لیجئے کہ شمالی وزیرستان سے مہاجر بننے والے عام قبائلی کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا؟

یہ ایک دو نہیں بلکہ سات لاکھ لوگوں کا حال ہو رہا ہے۔ وہ حکومت جو اسلام آباد میں تعیش کیلئے میٹرو بس کے ایک کلومیٹر پر سوا ارب روپے خرچ کررہی ہے، اس نے آپریشن کے بعد ان سات لاکھ لوگوں کیلئے محض پچاس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔ اب کیا ان لوگوں کو دانستہ پاکستان سے متنفر نہیں کیا جارہا ہے؟ میں رسول داوڑ اور ان جیسے دیگر لاکھوں قبائلیوں کے اس سوال کا کیا جواب دوں کہ ہمارا قصور کیا یہ ہے کہ ہم لاہور کے بجائے وزیرستان میں پیدا ہوئے ہیں؟ وہ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تم میڈیا والوں کے پاس تو طاہر القادری کی کوریج کیلئے بہت وقت ہے لیکن ہم سات لاکھ انسانوں کی کوریج کرنے سے تم لوگ قاصر ہو۔ وزیرستان آپریشن میں اب تک درجنوں فوجی اور سیکڑوں قبائلی زندگی قربان ہوچکے ہیں۔ وہ ہم میڈیا والوں سے سوال کرتے ہیں کہ کیا وہ انسان اور پاکستانی نہیں ہیں۔ میڈیا کے وہ بہن بھائی جنہوں نے پوری قوم کو چند ڈرامہ بازوں کے ڈراموں کا یرغمال بنارکھا ہے، سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر وہ رسول داوڑ کی جگہ ہوتے تو کیا پھر بھی انکے کیمروں کا رخ بنوں اور وزیرستان کے بجائے علامہ صاحب کے ہنگامے کی طرف ہوتا۔

منتخب وزیراعظم کے احترام کو میں اپنے اوپر واجب سمجھتا ہوں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر رسول داوڑ جیسی صورت حال سے آج ان کے بچے یا بھتیجے گزرتے یا پھر ان کی بھابھی کی کیفیت سے ہماری بہن مریم نواز گزرتی تو کیا پھر بھی ہمارے وزیراعظم کا یہی رویہ ہوتا؟ اگر ان بے گھر ہونیوالوں میں ڈاکٹر طاہرالقادری کے حسن محی الدین اور انکے بچے بھی شامل ہوتے تو کیا علامہ صاحب پھر بھی اس ہنگامہ آرائی سے باز نہ آتے؟ اگر عمران خان صاحب کے بیٹے بھی لندن کے بجائے میران شاہ میں مقیم ہوتے تو کیا وہ پھر بھی بنوں کیمپ کے دورے کے موقع پر طاہر القادری کے ڈرامے اور اپنے چار حلقوں کا ذکر ضروری سمجھتے؟ اللہ کے بندو! اس ملک اور اس قوم پر رحم کرو۔ ہماری خاطر نہیں اپنی اولاد کی خاطر۔ یہ سات لاکھ آئی ڈی پیز نہیں ہیں۔ آپ لوگوں کا رویہ یہ رہا تو یہ سات لاکھ خودکش بمبار بن جائیں گے۔ آج آپ لوگ سیاست اور اقتدار کے نشے میں مبتلا ہو لیکن یاد رکھو! آپ پر بھی کبھی یوسف رضا گیلانی والا وقت آ سکتا ہے اور خاکم بدہن آپ میں سے بھی کسی کا بیٹا حیدر گیلانی یا شہباز تاثیر بن سکتا ہے۔

ہماری خاطر نہیں اپنے بچوں کی خاطر ان سات لاکھ وزیرستانیوں کی طرف توجہ دو تاکہ وہ خودکش بمبار، طالب یا پھر اغوا کار بن کر مستقبل میں آپ کے بچوں کے ساتھ وہ کچھ نہ کریں جو انہوں نے ایک سابق گورنر اور سابق وزیر اعظم کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے اور ہاں میرے میڈیا کے ساتھیو ! جب افغانستان میں یہ ظلم ہو رہے تھے تو ہم پشاور میں بیٹھ کر بڑے مزے سے تم لوگوں کی طرح طاہر القادری جیسوں کے ہنگاموں اور تیزیوں کو انجوائے کرتے تھے، تب ہمارے اوپر بھی دولت اور شہرت کمانے یا طاقتور لوگوں سے تعلقات بنانے کا خبط سوار تھا۔ آج جب ہم اس صورت حال سے دو چار ہوئے تو ہمیں پتہ چل گیا کہ جنگ کیا ہوتی ہے اور جنگ کی تباہ کاریاں کیا ہوتی ہیں۔ آپ کسی کے مہرے بن کر کرتے رہو جو کچھ کرنا ہے لیکن یاد رکھو یہ آگ پشاور اور وزیرستان تک محدود نہیں رہے گی۔ تم لوگ انہی ڈرامہ بازیوں میں مصروف رہے تو وہ وقت دور نہیں جب آپ کے اسلام آباد اور لاہور کی ان جنتوں تک بھی وہ آگ پہنچ جائے گی پھر ہماری طرح افسوس کرتے رہو گے لیکن وقت گزر گیا ہوگا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

Waziristan operation - سات لاکھ خودکش by Saleem Safi

ناقابل فراموش بیس عظیم فٹبالر......

$
0
0

زیزو/زیڈان: کی عرفیت اور زین الدین کے نام سے جانے جانے والے یہ فٹبالر فرانس سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اکلوتے کھلاڑی ہیں جنھوں نے فیفا پلیر آف دی ائیر کا ایوارڈ تین بار حاصل کیا۔
بلیک پرل :کی عرفیت اور پیلے کے نام سے جانے جانے والے یہ فٹبالر برازیل
 سے تعلق رکھتے ہیں۔اپنے کیرئیر میں انھوں نے 1280 گول کیے ، ورلڈ کمبائنڈ اولمپک کمیٹی نے انھیں پلیر آف دی سینچری کا خطاب دیا۔یہ پچھلے 13 سالوں سے برازیل کے کھیل کے وزیر ہیں۔ میراڈونا :ارجنٹائن کے عظیم فٹبالر ہیں ، ان دنوں اپنی قومی ٹیم کے کوچ بھی ہیں ، کوکین کے استعمال میں خاصے بدنام ہوئے اور ان کے کیریر کا خاتمہ اسی اسکینڈل سے ہوا۔ ڈر کیسر :کی عرفیت اور فرانز بیکن بوائیر کے نام سے جانے جانے والے جرمن فٹبالر ہیں۔1972ء اور 1976ء میں یورپین فٹبالر آف دی ائیر کا خطاب پایا۔ جوہان کریوف :ڈچ فٹبالر ہیں ، تین دفعہ یورپین فٹبالر آف دا ائیر کا اعزاز رکھتے ہیں ، اور یورپین پلیر آف دی سینچری کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے۔ گریڈ مولر :62 انٹر نیشنل میچوں میں68 ، 74 یورپین کپ میچوں میں 66 گول اور 427 games Bundesliga میں 365 گول کرنے والے عظیم اسٹرائیکر مانے جاتے ہیں۔ رونالڈوینیومینین: کی عرفیت سے جانے جانے والے یہ برازیلی کھلاڑی پیلے کے بعد سب سے بڑے برازیلی فٹبالر مانے جاتے ہیں۔ کارلوس البرٹو ٹوریس : عظیم برازیلی فٹبالر ، جنھیں بہترین دفاعی کھلاڑی سمجھا جاتا ہے ، 1970 میں اٹلی کے خلاف ورلڈ کپ میں کیا گیا ان کا گول فٹبال مقابلوں کی تاریخ میں بہترین گول مانا جاتا ہے۔ مشعل پلاٹینی :فرانسیسی فٹبالر ، یورپ چیمپین شپ فائنلز میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے کھلاڑی ، بہترین ’’فری کک‘‘ اور ساتھیوں کو گیندپاس کرنے والے کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ ر ول گونزالیز: اسپین سے تعلق رکھنے والے یہ فٹبالر ’’میڈرڈ کا فرشتہ‘‘کی عرفیت سے جانے جاتے ہیں۔رئیل میڈرڈ کے دوسرے بہترین اسکورر اور بہترین کھلاڑی کا اعزاز پا چکے ہیں۔ الفرڈو ڈی اسٹیفانو : اسپین کے اس عظیم کھلاڑی نے ، 282 لیگ میچوں میں 216 گول اپنے نام کر رکھے ہیں ، اسپین کے کھلاڑیوں میں تیسرے سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں ، انھوں نے رئیل میڈرڈ کے 329 میچوں میں 228 گول اپنے نام کیے ، بنیادی طور پر ’’اسٹرائیکر‘‘ کی پہچان رکھنے والے یہ کھلاڑی میدان کے کسی بھی حصے سے بہترین کھیل پیش کرتے اور بہترین دفاعی کھلاڑی بھی سمجھے جاتے تھے۔۔ لوئیس فیگو : پرتگال کے عظیم کھلاڑی ، 2000 میں یورپین فٹبالر آف دی پلئیرکا اعزاز جیتنے والے یہ کھلاڑی ، جارحانہ کھیل پیش کرنے میں مشہور ہیں۔ 56 ملین کی ریکارڈ رقم کے ساتھ انھوں نے 2000 میں رئیل میڈرڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ رونال کوئی مین :بہترین فری ککر اور دفاعی کھلاڑی ہیں اور پرانی گیند کے ساتھ بہترین کھیل پیش کرتے ہیں ،503 لیگ میچوں میں 193 گول اپنے نام رکھتے ہیں ، جو دنیا میں کسی بھی دفاعی کھلاڑی کے سب سے زیادہ گول ہیں۔ لیو یاشین :فٹبال کی تاریخ میں بہترین گول کیپر مانے جاتے ہیں ، روس سے تعلق رکھتے ہیں ، بیسویں صدی کے عظیم گول کیپر کا اعزاز رکھتے ہیں ، اور اکلوتے گول کیپر ہیں جو یورپین فٹبالر آف دی ائیر کے لیے نامزد ہوئے۔ زیکو ، گورا پیلے: (وائیٹ پیلے) کہلائے جانے والے یہ عظیم فٹبالر اسی کی دہائی کے بہترین کھلاڑی مانے جاتے ہیں ، انھیں دنیا کا بہترین فری کک اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔ اور ان کی لگائی ہوئی کک سب سے زور آور کک سمجھی جاتی ہے۔ اولیور کاہن جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں ، جرمنی کے سب سے کامیاب اور عظیم کھلاڑی مانے جاتے ہیں ، دو بار ’’جرمن فٹبالر آف دی ائیر‘‘ کا اعزاز رکھتے ہیں۔ اور دنیا کا بہترین گول کیپر کا اعزاز بھی۔ ڈیوڈ بیکھم : انگلینڈ سے تعلق رکھتے ہیں ، اسپائیس گرلز اسٹار وکٹوریا سے 1999ء میں شادی کی ، سیدھے پاؤں سے بہترین کک لگاتے ہیں ، بطور سیلیبرٹی دنیا ئے فٹبال میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ روبارٹ کارلوس :اپنی ایک شاندار فری کک سے 35 میٹر کے فاصلے سے فرانس کے خلاف بہترین گول کر کے شہرت کمانے والے عظیم برازیلی فٹبالر ہیں۔ لیلین تھورام : فرانس کے بہترین دفاعی کھلاڑی ہیں۔ 1998 میں کروشیا کے خلاف عالمی کپ کے سیمی فائنل میں دو گول کر کے شہرت کمائی ، فرانس یہ مقابلہ 3 کے مقابلے ایک گول سے جیت گیا تھا ، جس کے بعد فائنل بھی فرانس نے اپنے نام کر لیا۔
 


قبا چاھئے اس کو خون عرب سے........

$
0
0


عراق تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اگر وہاں دوبارہ لڑائی چھڑتی ہے تو اس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے بغیر نہیں رہ سکے گا۔

عراق کی صورتحال دن بہ دن دھماکا خیز ہوتی جا رہی ہے۔ شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے عراق کی مغربی سرحد پر قبضہ کے بعد اس خطہ میں حکومت کی عمل داری ایک طرح سے ختم ہو گئی ہے۔ دوسری جانب عراقی حکومت داعش کی پیش قدمی کے باعث بے بس نظر آتی ہے اور اس نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ اسے فوری طور پر فضائی امداد فراہم کی جائے۔

عراق میں صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری عراق پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے وزیر اعظم نوری المالکی سے ملاقات کر کے یہ کہا ہے کہ حکومت میں عراق کے تمام فریقوں کو حصہ داری دی جائے تاکہ سنی انتہا پسندوں کی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے کسی بڑے ٹکرائو کو روکا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف عراقی حکومت امریکا سے براہ راست مداخلت کی درخواست کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب ایران کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ عراق میں مداخلت کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے۔

امریکا نے عراق پر حملہ کے آٹھ سال بعد 2011ء میں یہ کہتے ہوئے وہاں سے اپنی فوجیں ہٹا لینے کا اعلان کیا تھا کہ عراق میں اب القاعدہ کی رہنمائی میں سنی ملیشیا کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بڑے تمسخرانہ انداز میں کہا تھا کہ انہوں نے عراق میں موجود القاعدہ تنظیم کی ایک طرح سے کمر توڑ دی ہے، جس کا دوبارہ سر اٹھانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لیکن ان کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ بظاہر طور پر خاموش ہو جانے والے شدت پسند مصلحت کے تحت ضرور خاموش ہو گئے لیکن انہوں نے اندر ہی اندر تیاری کر کے اپنی طاقت کو مجتمع کر لیا ہے۔ ان عناصر کو عراق کے اس طبقہ کی بھی حمایت حاصل رہی جو موجودہ حکومت کے استحصال کا شکار رہا۔ حکومت سے تعلق رکھنے والے بعض افسران نے صدام حسین کے دور کا انتقام بے گناہ لوگوں سے لیا، جس کی وجہ سے ان لوگوں کے اندر غم و غصہ تھا۔

داعش کے ارکان نے عراق میں جب اپنی کارروائی شروع کی تو ان لوگوں نے اسے اپنے نجات دہندہ کے طور پر دیکھا اور عراقی باشندے اب کھل کر اس تنظیم کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ داعش کی جانب سے جب کارروائی شروع کی گئی تو جلد ہی عراق کے کئی شہر اس کے زیر نگیں ہو گئے اور عراقی فوج کسی بھی محاذ پر ان کے سامنے ٹک نہیں پائی اور جس جگہ بھی ٹکراؤ ہوا، میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑی ہوئی۔ عراق فوج کی بے بسی کا اندازہ عراق کے وزیر خارجہ کے اس بیان سے ہو جاتا ہے کہ عراق کے پاس فضائیہ نہیں ہے اور نہ ہی جنگی طیارے ہیں۔ اس کے باوجود کہ حکومت کو داعش سے درپیش خطرے کا پہلے سے ہی علم تھا، لیکن عراقی فوج ان کے سامنے بالکل بے بس نظر آئی۔

یہی وجہ ہے کہ داعش نے دفاعی لحاظ سے اہم شمالی شہر تل عفر کے ہوائی اڈہ پر آسانی سے قبضہ کر لیا۔ اس طرح داعش کے جنگجوؤں نے عراق کے بڑے حصہ کو ایک دوسرے سے کاٹ دیا، جس کے آغاز موصل پر قبضہ شے شروع ہوا تھا۔ یہی نہیں داعش کے جنگجوؤں نے انبار صوبہ کے سنی اکثریت والے قصبوں میں اپنے پیر جما لیے۔ اس طرح جنگجوؤوں کو ملنے والے ہتھیاروں کی سپلائی کا راستہ صاف ہو گیا۔ اردن اور شام کی سرحدی چوکیوں پر تقریباً 90 فیصد علاقہ پر باغیوں کا قبضہ ہے۔ کئی مقامات پر فوج اور پولیس نے اپنی چوکیوں کو چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی، جب باغیوں نے انہیں خون خرابہ سے بچنے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کر دیا تھا۔

داعش کے شدت پسندوں نے جس طرح بغداد کی جانب اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہے، اس سے بغداد کے اندر لوگوں میں ایک طرح کی سراسیمگی سی پائی جاتی ہے۔ اب جس طرح سے عراقی حکومت بار بار امریکہ سے فضائی حملہ کی درخواست کر رہی ہے، اس سے عراق میں ایک بار پھر بڑے پیمانہ پر قتل و غارت گری کے خدشہ سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عراق میں تیل کی دولت پر قبضہ جمانے کے لیے امریکہ نے جس طرح بڑے پیمانہ پر تباہی مچائی، اس سے لاکھوں لوگوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور ایک ہنستا مسکراتا ملک آہ و بکا کے لیے مجبور ہو گیا۔ ہولناک بمباری کے باعث آج بھی وہاں ہزاروں افراد جن میں بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں، معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امریکہ اگر پھر دوبارہ وہاں بمباری کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی زد میں معصوم شہری آئے بغیر نہیں رہیں گے۔

عراق تیل پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے، اگر وہاں دوبارہ لڑائی چھڑتی ہے تو اس کے باعث خام تیل کی قیمتوں پر اثر پڑے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ ہندوستان جس کا تیل کے درآمدات پر بہت بڑا انحصار ہے، تیل کی قیمتوں پر اضافہ سے وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہے گا۔ ظاہر ہے کہ اس کا براہ راست اثر پوری معیشت پر پڑے گا۔ جب سے عراق میں زیادہ گڑبڑی پیدا ہوئی ہے، خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونا بھی شروع ہو گیا ہے۔ شدت پسندوں کی جانب سے وہاں کی آئل ریفائنری پر قبضہ کیے جانے کے بعد عراق سے تیل کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ اس وقت خام تیل کی قیمت 9 مہینے کی سب سے اونچی شرح 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔ اگر عراق کا بحران فوری طور پر حل نہیں کیا گیا تو ہندوستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر جو زبردست بوجھ پڑے گا، اس کا خمیازہ 
عوام ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔


محفوظ تر‘‘ دنیا میں بے چینی کیوں؟........

$
0
0


افغانستان سے غیر ملکی بالخصوص امریکی فوجیوں کے انخلا کا وقت جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے صدر اوباما کی بے چینی میں اتنی ہی شدت آتی جا رہی ہے۔ شاید 9/11 کے بعد افغانستان پر حملہ کرنے کے متعلق پر جوش فیصلہ کے وقت بھی صدر جارج ڈبلیو بش کو اتنی پریشانی نہیں ہوئی ہو گی، جتنی ابھی افغانستان سے نکلنے میں صدر اوباما کو درپیش ہے۔ یہ بلا وجہ نہیں ہے۔ اس کی واجب وجہ ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا کو یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ انخلا کے بعد افغانستان کا کیا ہو گا؟ کرزئی یا ان کے جانشینوں کا کیا حشر ہو گا؟ کیونکہ عراق ان کے سامنے ہے۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت اور طالبان کے جنگجوؤں کو ٹھکانے
 لگانے کے بعد حالانکہ امریکہ یہ بلند بانگ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اب دنیا پہلے سے محفوظ ہو گئی ہے لیکن اسے اب خود اپنی باتوں پر یقین نہیں آ رہا ہے۔ یقین آئے بھی تو کیسے؟ حقائق منھ چڑھا رہے ہیں۔ عراق میں صدام حسین کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد اسی طرح کے حماقت آمیز بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے۔ مغربی رہنمائوں کو ایسا لگ رہا تھا کہ اب عراق سے تمام برائیوں اور مسائل کا خاتمہ ہو گیا ہے اور امن و امان کا دور شروع ہونے والا ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ در حقیقت مسئلہ کی جڑ میں پانی اور کھاد ڈال رہے ہیں اور اسی جڑ سے ایک دن ایک نئے مسئلہ کی کونپل پھوٹے گی اور دھیرے دھیرے ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لے گی اور یہ پرانے مسئلہ سے زیادہ خطرناک ہو گا۔

ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے۔ صرف ایک دہائی پہلے کی ہی بات ہے جب بغداد کے ہر چوک پر صدام حسین کے مجسموں کے مسخ وزنی ٹکرے پھیلے پڑے تھے۔ بموں پر ’’فار صدام حسین ود لو‘‘ لکھ کے طیاروں سے گرایا گیا تاکہ ’’فاشسٹ، عراق کے ملبے پر ایک جمہوری، روشن خیال، پر امن اور مہذب عراق تعمیر ہو سکے جس میں شیعہ، سنی اور کرد شانہ بشانہ خوف کے جنگل سے نکل کر حال کی جلی سیڑھیاں طے کرتے ہوئے چمکتے مستقبل میں چھلانگ لگا سکیں، لیکن اب عراق کی صورتحال کیا ہےَ کیا یہی ہے جمہوری، روشن خیال، پر امن اور مہذب عراق کے خواب کی تعبیر؟

داعش کی شکل میں اب ایک نیا مسئلہ سامنے ہے، پہلے سے زیادہ خطرناک۔ صرف عراق کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ پہلے تو صرف عراق پر حکمرانی اور اقتدار کی جنگ تھی لیکن اب اس میں مسلکی تنازع کا تڑکہ لگ گیا ہے ۔ خود ان کھلاڑیوں کو بھی کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے جن کے ہاتھوں میں مسند عراق پر بیٹھی کٹھ پتلیوں کی ڈور ہے۔ عراقی حکومت اور خود صدر نوری المالکی بار بار امریکہ سے درخواست کر چکے ہیں کہ ہمیں بچا لو، لیکن امریکہ پس و پیش میں مبتلا ہے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ کبھی عراق میں فوجی مداخلت سے انکار کرتا ہے تو کبھی دیگر حیلے بہانوں سے محدود فوجی اور دیگر حکام عراق بھیجنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ ادھر ایران بھی عجیب مخمصے میں ہے۔ در پردہ نوری المالکی کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کھل کر سامنے نہ آنا ان کی مجبوری بن گئی ہے۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ برائی کو برائی سے ختم کیا جائے تو برائے شکل بدل کر بھٹکی ہوئی روح بن جاتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ عراق صرف ایک ملک نہیں بلکہ تیزاب سے بھرا وہ جار ہے جو دھینگا مشتی میں ٹوٹ گیا تو آس پاس کی سب چیزوں کو جلا کر راکھ کر دے گا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس حقیقت سے لوگ آگاہ نہیں تھے مگر ایک کہاوت مشہور ہے کہ ’’ہر برا کام بہترین نیت کے ساتھ کیا جاتا ہے۔‘‘

بہت سارے لوگوں کو یاد ہو گا کہ بغداد میں پہلا بم گرنے سے پہلے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل امر موسیٰ نے اس حقیقت کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ کیا کرنے والے ہو؟ تم جہنم کا دروازہ کیوں کھونا چاہ رہے ہو، لیکن اس دنیا کے جارج بشوں، ٹونی بلیئروں، ایریل شیرونوں اور ان کے حواریوں کا ایمان کامل تھا کہ پہلے عراق، وہاں کے عوام اور پھر صدام کے ساتھ جو ہوا، اس کے بعد خلیج، مشرق وسطیٰ اور باقی دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔

ہاں، دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔ اس کی گوائی اپریل 2003ء کے بعد سے مارے جانے والے 2 لاکھ عراقیوں، ایک لاکھ 60 ہزار شامیوں، ایک لاکھ سے زائد افغانیوں اور 60 ہزار پاکستانیوں کی لاشیں دے رہی ہیں۔ پانچ کروڑ پناہ گزین، ’’محفوظ تر‘‘ دنیا میں سر چھپانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ اتنے پناہ گزین تو دوسری عالمی جنگ نے بھی پیدا نہیں کیے۔ طویل پناہ گزینی کی حالت میں رہنے والوں میں 25 لاکھ افغان باشندے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ مہاجر افغان ہی ہیں اور کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے پاکستان میں اس کے سب سے زیادہ مہاجر آباد ہیں جن کی تعداد تقریباً 16 لاکھ ہے۔

دنیا بھر میں ہزاروں مہاجرین نے اپنی زندگیوں کے بہترین اوقات خیمہ بستیوں میں گزارے اور وہ بے گھر ہونے کا باعث بننے والے بحرانوں کو تقریباً بھلا چکے ہیں۔ میانمار کے ساتھ ملحق تھائی لینڈ کی سرحد پر میانمار کے کیرن اقلیت کے ایک لاکھ 20 ہزار افراد 20 برس سے زائد عرصہ سے مہاجر بستیوں میں مقیم ہیں۔ صرف شام ہی میں 65 لاکھ بے گھر افراد موجود ہیں۔ ان کے لیے خوراک، پانی، قیام اور طبی سہولت تک رسائی محدود ہے۔
شام کے بحران کے دوران اردن، لبنان اور ترکی نے اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔ 
اس وقت لبنان میں 10 لاکھ سے زائد مہاجرین ہیں یعنی اس کی مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی شامی باشندے ہیں۔ ان کے لیے رہائش گاہوں، تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مہاجرین کی دیکھ بھال کا زیادہ تر بوجھ ان ممالک پر ہے جو خود کمزور ہیں۔ ترقی پذیر ممالک دنیا بھر کے مہاجرین کی 86 فیصد تعداد کے میزبان ہیں جبکہ دولت مند ممالک محض 14 فیصد کا خیال رکھ رہے ہیں۔ 10 برس قبل دولت مند ممالک 30 فیصد اور ترقی پذیر ممالک 70 فیصد مہاجرین کے میزبان تھے۔

بہر حال یہ ’’محفوظ تر‘‘ دنیا مفت میں تھوڑے ہی ہاتھ آئی۔ ’’معمار اعظم‘‘ امریکہ کے 6 ٹریلین ڈالر اور ساڑھے 4 ہزار فوجی تابوت تو صرف عراق کو مشرق وسطیٰ کا مینارہ جمہوریت بنانے کے منصوبے پر لگ گئے۔ اس خرچ میں اس جدید عراقی فوج کی تعمیر بھی شامل ہے جس نے پچھلے ایک ماہ میں ثابت کر دیا کہ دشمن سامنے نہ ہو تو اس سے زیادہ جری سپاہ پورے خطے میں نہیں اور اب دنیا اور محفوظ ہوجائے گی جب امریکہ 650 بلین ڈالر کے خرچ سے تعمیر ہونے والے نئے اور جمہوری کرزئی گزیدہ افغانستان کو اگلے برس شکاری اور خرگوش کے ساتھ بیک وقت دوڑنے میں طاق افغان قیادت کے حوالے کر جائے گا۔ اس افغانستان کی بنیادوں میں اب تک ایک لاکھ سے زائد ’بے قیمتی‘ مقامی عوام کے ساتھ ساتھ 3500 امریکی فوجیوں اور سویلین کنٹریکٹروں کا قیمتی خون بھی شامل ہو چکا ہے۔ نجیب اللہ نے سوویت یونین کی رخصتی کے بعد بھی 3 یا ساڑھے 3 برس قبائلی طوفان کے تھپیڑے سہہ گیا تھا۔ موجودہ کابلی ڈھانچہ کا تو اللہ ہی جانے کیا ہو گا

How to claim Google Authorship if you have a WordPress.com blog

$
0
0

How to claim Google Authorship if you have a WordPress.com blog How to claim Google Authorship if you have a WordPress.com blog

Cost of War : Migration of Waziristan Children

$
0
0
Cost of War : Migration of Waziristan Children

Pakistani People are the most Patriotic People in the World

$
0
0
Pakistani People are the most Patriotic People in the World

Luis Suárez

$
0
0

Luis Alberto Suárez Díaz (Spanish pronunciation: [ˈlwis ˈswaɾes]; born 24 January 1987) is a Uruguayan footballer who plays as a forward for English Premier League club Liverpool and the Uruguayan national team. In 2003, Suárez began his career as a youth player for Nacional, later in 2006, Suárez moved to the Netherlands to play for Groningen in the Eredivisie. Suárez transferred to Ajax in 2007. In 2008–09 he was named Ajax Player of the Year. The following year, he was made the club captain, became the league's top scorer with 35 goals in 33 games, and was named Dutch Footballer of the Year. He scored 49 goals in all competitions and Ajax won the KNVB Cup. In the 2010–11 season, he scored his one hundredth Ajax goal, joining a group of players including Johan Cruyff, Marco van Basten and Dennis Bergkamp in doing so.

In January 2011, Suárez transferred to Liverpool for €26.5 million (£22.8 million). During his partial season at Liverpool, Suárez helped the club move from twelfth in the league in mid-January to finish sixth at the end of the season. In February 2012, Suárez won his first trophy with Liverpool, as they won the Football League Cup. On 22 March 2014, he scored his sixth Premier League hat-trick for the club, making him the most frequent scorer of hat-tricks in Premier League history. On 27 April 2014 he won the PFA Players' Player of the Year award, becoming the first non-European to win the award.[2] Suárez also won the FWA Footballer of the Year, and was named in the 2013–14 PFA Team of the Year. As the Premier League's top scorer with 31 goals he won the Premier League Golden Boot, and shared the European Golden Shoe with Cristiano Ronaldo.

Suárez represented Uruguay in the 2007 U-20 World Cup. In the 2010 World Cup, he played an important role in Uruguay's fourth place finish and scored three goals, and infamously blocked an extra time goalbound header with his hands during the quarter finals against Ghana. At the 2011 Copa América, Suárez scored four goals for Uruguay as they won a record fifteenth Copa América and was named Player of the Tournament.[3] On 23 June 2013, he became Uruguay's all-time record goalscorer with 35 goals. Suárez has been the source of much controversy throughout his career.[4][5][6] As well as his 2010 World Cup goal-line handball, he has also bitten three opponents,[7][8][9][10] has been widely accused of and admitted to diving,[11][12] and was found guilty by the FA of racially abusing Patrice Evra,[13] a decision Suárez disputes.[14]

Style of play

Suárez creates goal scoring chances with his powerful shot,[134] aerial ability[134][187] and "remarkable technical ability".[187]Harry Redknapp said that Suárez could play anywhere – as the target man or behind as a second striker. Uruguay coach Óscar Tabárez called Suárez "a great forward, an elite player among forwards in the world",[188] and Liverpool coach Kenny Dalglish said, "he's intelligent, he's had a fantastic education at Ajax."[189] Former Liverpool striker John Aldridge said his abilities allow him to get into a position to score[190] and evade defenders.[191] Suárez has been praised for his work rate,[191] and his quickness[189] that allows him to attack from the outside.[187] He also creates scoring opportunities for his teammates.[1]

Former Ajax coach Marco van Basten criticized Suárez for his tendency to pick up yellow cards.[27] Van Basten said he had a tense relationship with Suárez,[27] although he conceded, "Luis is unpredictable, he’s hard to influence but that makes him special."[27] At times, Suárez can be dominant but fail to convert his efforts into goals.[192] Despite his weaknesses, Suárez’s leadership stood out to Ajax management.[54]Suárez has also been widely accused of diving.[11][193][194][195] His manager, team-mates and various analysts have commented that this reputation for simulation has caused referees not to award him legitimate penalties.[196][197] In January 2013, Suárez admitted to diving against Stoke City in an October 2012 match. This led his manager Brendan Rodgers to comment that his actions were "unacceptable" and he would be dealt with "internally" by the club.[198] Suárez has also been accused of stamping on opponents in the Premier League and the Europa League.[199][200][201] In December 2013, Spanish football website El Gol Digital ranked Suárez at 5th in its list of the world's dirtiest footballers.[202]

Personal life

Suárez was born in Salto, Uruguay, the fourth of seven brothers.[17][203] He moved with his family to Montevideo when he was seven, and his parents separated when he was nine.[203] In Montevideo, Suárez developed his football skills on the streets,[18][203] while he also had to take up work as a street sweeper.[16] His older brother, Paolo Suárez, is also a professional footballer, currently playing for Comunicaciones in Guatemala.[204] Suárez started to date Sofia Balbi, whom he eventually married in 2009, at the age of 15 in Montevideo; his focus on football strengthened when the Balbis moved to Barcelona in 2003 as a means to get to Europe and join Sofia again.[16] The contrast between his life in Europe and the poverty he left behind has been cited as the likely cause behind his occasional in-game aggression and it may explain the much more forgiving attitude of the Uruguayan public and press towards such cases, compared to Europe.[16]Suárez is of mixed race, with a black grandfather.[205] Suárez's grandmother used to call her husband "Mi Negrito", and blamed that for the alleged words her grandson used during his altercation with Patrice Evra.[206]
In 2009 he married Sofia Balbi. The couple have a daughter[17][207] and a son.

پاکستانیو ! اللہ کا شکر ادا کرو.......

$
0
0


ان کو دبا کر رکھو، جوتی کی نوک کے نیچے۔ ناز برداریاں بہت کر کے دیکھ لیں، یہ سنپولئے ہیں لاکھ دودھ پلائو ڈسنے سے باز نہیں آئیں گے۔ یہ اس تقریر کے چند جملے ہیں کہ 2002ء کے مسلم کش فسادات کے بعد ایک رکن نے گجرات اسٹیٹ اسمبلی میں کی تھی اور موضوع سخن ریاستی مسلمان تھے۔ اس سانحہ میں مسلمانوں کآ جانی نقصان ہندوئوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوا تھا۔ پچاس ہندوئوں کے مقابلے میں ایک ہزار سے زائد مسلمان مارے گئے تھے۔ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اب ہندوستان کے وزریر اعظم ہیں۔ گو عدالتی کمیشن نے موصوف کو ان فسادات سے بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔ مگر الزام ہے کہ پیچھا نہیں چھوڑ رہا اور حالیہ انتخابی مہم میں بھی ان کے تعاقب میں رہا۔ وزیرِ اعظم مودی اس سانحہ میں ملوث تھے یا نہیں۔ یہ ہمارا موضوع نہیں۔

مگر ایک بات ضرور ہے کہ ان فسادات کے نتیجے میں بھارت بھر میں مسلمانوں
 کے لئے زندگی مزید دشوار ہوگئی۔ وہ معاشی اور سماجی اچھوت قرار پائے۔ ان کے سوشل بائیکاٹ کی مہم اس قدر بھرپور تھی کہ مالکان نے برسوں کے مسلمان کارندوں کو فارغ کردیا۔ انہیں خطرناک کمیونٹی قرار دے کر ان سے بچنے کی تحریک شدومد کے ساتھ چلائی گئی۔ ایسے میں جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ان بیچاروں کے پاس شناخت چھپانے اور کیموفلاج کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا اور اب عالم یہ ہے کہ سردار علی جب تک سادھورام اور رضیہ بی بی، رجنی نہ بن جائے۔ انہیں ادنی ترین نوکری بھی نہیں مل سکتی۔
مسلمانوں کو ملازمت دلوانے کا دھندہ منافع بخش کاروبار ہے اور ہندوئوں کے ہاتھ میں ہے۔ جنہوں نے ان کی نئی اور پرانی شناخت کے الگ الگ رجسڑ کھول رکھے ہیں۔ ہندووانہ نام بھی خود دیتے ہیں اور اپنی گارنٹی پر ملازمت دلواتے ہیں۔ تنخواہ بھی خود وصول کرتے ہیں اور حق الخدمت کے طور پر ایک چوتھائی کاٹ لیتے ہیں۔ یوں چار ہزار کا ملازم بمشکل تین ہزار وصول کر پاتا ہے۔ گو یہ دھندہ ایک کھلا راز ہے اور پولیس کی آشیرباد سے چل رہا ہے۔ مگر منافقت کا یہ عالم کہ ہر کوئی حیرت اور لاعلمی کا اظہار کرتا ہے، بھانڈا اس وقت پھوٹا جب نئی دہلی میں بہوجن سماج پارٹی کے ایک رکن پارلیمنٹ کی رہائش گاہ پر گھریلو ملازمہ مردہ پائی گئی۔ پولیس تفتیش میں پتہ چلا کہ مرحومہ کا تعلق مغربی بنگال کے ایک مسلمان گھرانے سے تھا اور اپنا نام اور حلیہ بدل کر ملازمت کر رہی تھی۔ مانگ میں سیندور سجائے۔

ساڑھی میں ملبوس کوشیلیا اصل میں مسلمان خاتون کوثر بی بی تھی، جو ہر صبح ہندووانہ پوجا پاٹ بھی کرتی تھی، مبادا بھید کھل جائے اور وہ نوکری سے جاتی رہے۔ بے روزگاری کے اس عالم میں گداگری مسلمانوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ چاندنی چوک، جامع مسجد اور بستی نظام کے علاقے میں جن کے غول کے غول دیکھے جاسکتے ہیں۔ خواجہ نظام الدین اولیا کے مزار سے ملحق ہوٹلوں میں زائرین مساکین کے لیے کھانے کا اہتمام کرتے ہیں ایک ہوٹل والے کو ہم نے بھی 500 روپے دیئے کہ دس روپے فی کس کے حساب سے پچاس مساکین کو کھانا کھلا دے اور ہم یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ادھر سے فارغ ہونے کے بعد وہ بھاگم بھاگ دوسرے اور تیسرے ہوٹل میں جا رہے تھے۔ عقدہ کھلا کہ یہ مخلوق کام کاج کچھ نہیں کرتی۔ بس سارا دن کھاتی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا ہوٹل، یہی ان کا کام ہے مگر حیرت ہے کہ سیر پھر بھی نہیں ہوتے۔

ملک بھر میں مسلمانوں کا طرز بود و باش بھی ناگفتہ بہ ہے۔ دنیا کی ہر سہولت سے محروم گندی ترین بستیوں کے ڈبہ نما گھروندوں میں جانوروں سی زندگی ان کا مقدر ہے۔ ان کے لیے تو کرائے کا مکان لینا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ دہلی میں مزار غالب سے ملحق غالب اکیڈمی میں ایک مسلمان بینکر سے ملاقات ہوئی۔ جسے نواحی ضلع سے فیملی کو راجدھانی منتقل کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، کیونکہ کرایہ کا مکان نہیں مل رہا تھا۔ ذرا ٹوہ کی تو انکشاف ہوا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کاروباری اور ملازمت پیشہ مسلمانوں کے لیے بھی کرائے کے مکان کا حصول ناممکنات میں سے ہے۔ ہندو مالکان کا تعصب چھپائے نہیں چھپتا۔ لایعنی قسم کے بہانے بناتے ہیں۔ مکان بھلے سے مہینوں خالی رہے، مگر مسلمان کرایہ دار منظور نہیں۔ مسلمانوں کو مسلسل دبائو میں رکھنے کے لیے فرضی شکوک و شبہات اور اذکار رفتہ قسم کی سازشی تھیوریاں پیش کی جاتی ہیں۔

چند برس پیشتر نئی دہلی میں آبادی کے حوالے سے ہونے والے سارک سیمینار میں ایک بھارتی مندوب واویلا کر رہے تھے کہ ’’بھارت مسلم اکثریت کا ملک بننے جا رہا ہے۔ باقی معاملات میں کنجوسی کی طرح لالہ لوگ بچے پیدا کرنے میں بھی ضرورت سے زیادہ محتاط ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی دن دگنی رات چوگنی بڑھ رہی ہے۔ یہی نہیں ہمسایہ ممالک سے بھی مسلمان دھڑا دھڑ ہندوستان آرہے ہیں۔ بنگلہ دیشیوں کے لیے تو گویا فلڈ گیٹ کھلا ہے، جو دیش بھر میں گھریلو ملازمین کے طور پر بے حد پاپولر ہو رہےہیں‘‘ اور موصوف نے باقاعدہ حساب لگا کر بتایا تھا کہ اگر یہی حالات رہے تو 2060ء تک انڈپا میں مسلمانوں کی اکثریت ہوجائے گی اور ہندوئوں کو یہ کہہ کر ڈرایا گیا کہ ماضی کی طرح پھر سے مسلمانوں کی غلامی کے لیے تیار ہو جائو۔ لطف کی بات یہ کہ موصوف کی ان لن ترانیوں کا جواب بھی ایک ہندوستانی مندوب نے ہی دیا تھا۔ جس نے لطیف پیرائے میں کہا تھا کہ ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ آپ کے اعداد و شمار دل کو نہیں لگتے۔ ہندو مہیلائیں اتنی بھی گئی گزری نہیں۔

مسلمانوں پر الزام دھرا جاتا ہے کہ نکمے، کام چور، کند ذہن، جاہل اور ناقابل اعتبار ہیں مسلمانوں کی زبوں حالی کا تمام تر دوش انہی کو دیا جاتا ہے، گھڑی گھڑائی دلیل ہر فورم پر تیار ملتی ہے کہ ترقی کی راہیں تعلیم سے کھلتی ہیں اور مسلمان ٹھہرے تعلیم سے فلاپ، ایسے میں کوئی ان کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ جبکہ معاملہ بالکل الٹ ہے۔ انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعلیم میں پسماندہ رکھا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی علمی و ادبی زبان اردو کو نظام اور نصاب سے تقریبا خارج کر دیا گیا ہے۔ اچھے تعلیمی اداروں کے دروازے ان پر بند ہیں۔ جس زمانے میں انگریز نے لاہور میں ایچی سن کالج بنایا تھا تو اسی پایہ کے دو اور کالج راجکوٹ اور اجمیر شریف میں بھی قائم کیے تھے۔

چند برس پیشتر راقم کو خواجہ غریب نواز کے حضور حاضری کا موقع ملا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اکثر مقامی زائرین اجمیر میں چیفس کالج کی موجودگی سے آگاہ بھی نہ تھے۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ بھارتی مسلمانوں کو اندرون ملک سکونت تبدیل کرنے کے لیے سرکار سے خصوصی اجازت لینا پڑتی ہے۔ راقم نے جب اس پر اظہار حیرت کیا تو ایک خاصے پڑھے لکھے ہندو نے ازراہ تفنن کہا تھا کہ یہ سبق ہم نے آپ سے ہی سیکھا ہے۔ آپ نے جو سارے مہاجر کراچی میں جمع کر دیئے۔ ہم مسلمانوں کے حوالے سے کوئی رسک نہیں لے سکتے۔ ہمیں کوئی نیا پاکستان نہیں بنانا۔ بین المذاہب شادیوں کا رواج بھارت میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس کا زیادہ دبائو بھی مسلمانوں پر ہے۔ مسلمان لڑکیاں نسبتاً زیادہ تعداد میں غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ بیاہی جا رہی ہیں۔

جدید تعلیم اور روشن خیالی کے نام پر مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی اقدار عین ان کی آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہی ہیں اور وہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ پڑھے لکھے ہندو اس کا جواز تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ مسلمان حملہ آور اپنے کنبے قبیلے کون سے ساتھ لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بھی تو مقامی ہندو مہیلائوں سے نکاح کر کے ہی گھر بسائے تھے۔ آب صدیوں 
بعد اگر ہمیں حساب برابر کرنے کا موقع ملا ہے تو پریشانی کس بات کی؟

اگر جمہوریت ختم ہوئی تو.......

$
0
0


بنوں اور کرک کے تپتے صحرائوں میں تڑپتی انسانیت سراپہ سوال ہے ۔ کہاں گئے مولانا سمیع الحق؟ انہوں نے تو اپنے آپ کو بیمار مشہور کرلیا لیکن کیا مولانا یوسف شاہ بھی بیمار ہیں۔ وہ جو روزانہ ٹی وی ٹاک شوز میں جلوہ گر ہوتے اور صبح، دوپہر، شام پریس کانفرنس کرنا ضروری سمجھتے تھے۔ وہ قوم کو بتائیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو کس نے اور کیوں ناکام کرایا؟ اس آپریشن کی تیاری فوج نےچھ ماہ قبل نہ صرف کرلی تھی بلکہ وزیرِ اعظم کو بریف بھی کیا تھا کہ وہ چھ گھنٹے کے نوٹس پر شروع کردیں گے۔ تب سردی کا موسم تھا۔

 عسکریت پسندوں کے لئے برف کی وجہ سے پہاڑوں میں چھپنا اور افغانستان منتقل ہونا مشکل تھا۔ آئی ڈی پیز کو بھی شدید گرمی کی اذیت برداشت نہ کرنا پڑتی۔ اگر یہی کچھ کرنا تھا تو تب فوج کو کیوں روکا گیا؟ شدید ترین گرمی میں معصوم اور بیمار بچوں کو گود میں لئے شمالی وزیرستان کی تڑپتی لاکھوں مائیں اور بلکتے بچے، وزیر اعظم کے قادر الکلام مشیر خاص کالم نگار کو ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔ وہ ان کی زبانی جاننا چاہتی ہیں کہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے اور ان کو دربدر کرنے کا ذمہ دار کون ہے؟ مذاکراتی کمیٹی میں عمران خان کی نمائندگی کرنے والے رستم شاہ مہمند نے مجھے بتایا کہ وہ لمحہ بہ لمحہ عمران خان صاحب کو آگاہ کرتے رہے اور اللہ گواہ ہے کہ عمران خان مذاکراتی عمل سے متعلق قوم کو حقیقت نہیں بتا رہے ہیں۔ شمالی وزیرستان کے مظلوم قبائلی عمران خان کی زبانی وہ حقیقت سننا چاہتے ہیں۔

وہ جاننا چاہتے ہیں کہ صحیح وقت پر آپریشن کے مخالف اور مذاکرات کے حامی، غلط وقت اور رمضان کی آمد پر آپریشن کے حامی کیوں بن گئے؟ وہ جن کی سیاست ڈرون حملوں کے گرد گھومتی تھی، آج ان کے دوبارہ آغاز پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا محض اس لئے کہ تحریک انصاف کی ترجمان کو اوپر سے ہدایت نہیں ملی اور انہوں نے عمران خان کو ہدایت کی ہے کہ ڈرون حملوں کے دوبارہ آغاز پر خاموش رہیں۔ آپریشن کے یہ متاثرین پوچھ رہے ہیں کہ پختونوں کے حقوق کے علم بردار اسفندیارولی خان صاحب کہاں ہیں؟ کیا پختونوں پر اس سے بھی زیادہ مشکل وقت آسکتا ہے۔ وہ تو خیر یہ عذر پیش کرسکتے ہیں کہ وہ اقتدار سے باہر اور بیمار ہیں لیکن ان متاثرین کی آنکھیں پختونوں کے ایک اور لیڈر محمود خان اچکزئی کو بھی ڈھونڈرہی ہیں جن کی اس وقت پانچوں گھی میں ہیں، جن کے خاندان کا کم و بیش ہر مرد اقتدار میں ہے اور جو ان دنوں وزیرِ اعظم کے خصوصی ایلچی کی حیثیت میں افغانستان کو پاکستان کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے کے لئے کابل کے دورے کررہے ہیں۔

اگر اسلام آباد کے محلات میں پنجابی وزیرِ اعظم کے ساتھ بیٹھ کر انہیں وزیرستان کے متاثرین یاد نہیں آئے تو کابل کے یخ بستہ محل میں پختون حامد کرزئی کے ساتھ بیٹھ کر بھی انہیں قبائلی عوام کے دکھوں نے نہیں ستایا۔ شاید حکمرانوں نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی سیاستدان کو عزت سے نہیں رہنے دیں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن کو پورے ایک سال تک تڑپا دیا۔ پہلے وزارتیں نہیں دے رہے تھے اور پھر جب وزارتیں دے دیں تو ان کو ان کی مرضی کے محکمے نہیں دیئے تھے۔ نتیجتاً وہ حکومت پر دبائو ڈالنے کے لئے اسلام اور قبائلیوں کے روایتی ہتھیار استعمال کرنے لگے۔ شمالی وزیرستان کے متاثرین کو غلط فہمی تھی کہ اگر ان کے علاقے میں آپریشن کا آغاز ہوا تو مولانا فضل الرحمٰن اور ان کے مداح سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر راہ میں کھڑے ہوں گے لیکن وزیر اعظم بھی کمال کے ہوشیار نکلے ۔ ادھر سے آپریشن کی اجازت دے دی اور ادھر سے مولانا فضل الرحمٰن کے اکرم درانی اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ان کی مولانا کی مرضی کی وزارتیں دے دیں۔ مولانا کے ماضی کے بیانات اور ان کے ساتھ حکومت کی بدسلوکی کے تناظر میں قوم توقع کر رہی تھی کہ جب بھی آپریشن کا آغاز ہوگا تو وہ احتجاجاً کشمیر کمیٹی کی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ بھی چھوڑ دیں گے لیکن معاملہ الٹ نکلا۔ ادھر آپریشن کا آغاز ہوا اور ادھر وہ پورے کے پورے حکومت میں شامل ہوگئے۔ رہے سراج الحق صاحب تو شاید وہ صرف جماعت اسلامی کے امیر رہتے تو اس وقت ضرور میدان میں نکلتے لیکن افسوس کہ وہ ساتھ ساتھ پرویز خٹک صاحب کی ٹیم کے رکن بھی ہیں اور ان کی ٹیم کے رکن سے کسی قائدانہ کام کی توقع رکھنا عبث ہے۔ یہ متاثرین آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے جو ہر وقت آپریشن آپریشن کی دہائیاں بلند کرتے تھے کی آمد کے بھی منتظر ہیں۔

پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارا کام صرف آپریشن کیلئے ورغلانا تھا۔ جس قوم کے ہاں سیاستدانوں کی بہتات اور لیڈروں کا فقدان ہو، اس کا یہی حشر ہوتا ہے جو اس وقت اس قوم کا ہو رہا ہے۔ فوج نے آپریشن کی تیاری چھ ماہ قبل کرلی تھی اور حکومت تین ماہ قبل اس نتیجے تک پہنچی تھی کہ آپریشن ہوگا۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں اور وقت آنے پر ثابت کردوں گا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور عمران خان کو بھی بہت پہلے سے علم تھا کہ آپریشن ہو کر رہے گا۔ سوال یہ ہے کہ پھر آئی ڈی پیز کے لئے مرکزی یا صوبائی حکومت نے تیاری کیوں نہیں کی؟
حالت یہ ہے کہ میرے گزشتہ کالم کو پڑھ کر صبح بحریہ ٹائون کے چیئرمین ملک ریاض صاحب نے رابطہ کیا کہ وہ پانچ کروڑ روپے آئی ڈی پیز کے لئے دینا چاہتے ہیں لیکن حیران ہیں کہ کیسے یہ رقم خرچ کریں۔ یہ اعلان ٹی وی پر بھی انہوں نے کیا لیکن دو دن گزرنے کے باوجود کسی مرکزی یا صوبائی حکومت کے کسی ادارے نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ گزشتہ کالم پڑھنے کے بعد بیرون ملک اور اندرون ملک سے لوگ مجھ سے رابطہ کر کے امدادی فنڈ کے اکاونٹ کے بارے میں معلوم کرتے رہے لیکن پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس دن تک نہ صوبائی حکومت نے فنڈ قائم کر کے اکاونٹ نمبر مشتہر کیا تھا اور نہ صوبائی حکومت نے۔ صرف الخدمت تنظیم نے فنڈ قائم کیا تھا اور وہ متاثرین کی مدد کے لئے فعال بھی تھی۔ ان متاثرین کو پاکستان کے مخیر حضرات بھی سنبھال سکتے تھے لیکن بدقسمتی سے اب کے بار میڈیا اس طرح کی فضا بھی نہ بنا سکا جس طرح کہ سوات آپریشن کے ضمن میں پیدا کی گئی تھی۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ میڈیا کی قیادت کرنے والے جیو نیوز کو پہلے سے خاموش کر دیا گیا تھا۔ دوسری طرف میڈیا علامہ طاہر القادری کے ڈرامے، عمران خان کے جلسے اور چوہدری برادران کے تماشے کو کور کرنے میں مصروف رہا۔ مجھے یقین ہے کہ میری ان دہائیوں کے بعد بھی ہماری مذہبی اور سیاسی قیادت کا ضمیر نہیں جاگے گا لیکن میرا سوال یہ ہے کہ جب آپریشن کا فیصلہ بھی فوج نے کرنا ہے، جب اسے کنڈکٹ بھی فوج نے کرنا ہے، جب آئی ڈی پیز کا انتظام بھی اس نے فوجی طریقے سے کرنا ہے، جب شہروں کی سیکورٹی بھی اس کی ذمہ داری قرار پائی ہے اور جب اسلام آباد میں ان کو آرٹیکل 245 کے تحت اختیارات بھی دئے جارہے ہیں تو پھر یہ جمہوریت کس مرض کی دوا ہے؟

کل اگر طاہر القادری یا عمران خان کی التجائوں اور دہائیوں پر لبیک کہہ کر کوئی اس جمہوریت کو رخصت کرنے آ گیا تو کسی شہری کو کیا پڑی ہے جو اس کو بچانے کے لئے سیاسی قیادت کی پکار پر لبیک کہے گا۔ کوئی آمر حکمران رہے یا پھر نوازشریف، عمران خان یا آصف زرداری، قوم کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔ پھر وہ کیوں کر جمہوریت کے لئے جیل جائے یا پھر کوڑے کھائے گا۔ پھر یہی قوم کہے گی کہ بھاڑ میں جائے اس میڈیا کی آزادی کہ جس کے پاس علامہ طاہر القادری کے ڈراموں کی کوریج کے لئے تو بہت وقت ہے لیکن پاکستان کے لئے زندگی اور موت کی حیثیت رکھنے والے ایشو یا پھر سات لاکھ انسانوں کے مسئلے کی کوریج کے لئے اس کے پاس وقت نہیں۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 


Say No To Drugs

Palestine’s unity government

$
0
0


Israel has arrested more than 400 Palestinians since the disappearance of three Israeli teenagers. Two Palestinians teenagers also lost their lives when Israeli soldiers opened fire on protesting people. Israeli raids and aerial bombardment still continue in different parts of Gaza. Although Israel claims that the Palestinian resistance group Hamas is behind the disappearance of the three teenagers, so far no one has claimed responsibility. 

Palestinian president Mahmoud Abbas has  condemned Israeli aggression and the arrest of  innocent people. Israel has arrested several top Hamas leaders during raids in Gaza and Nablus, some of these men have recently been released from Israeli prisons after long detentions. Israeli forces have also demolished the house of the top Hamas official in Gaza. 

Israeli raids and aerial bombardment in Gaza have become a troubling question for the conscience of the modern world. Israel cannot use the disappearance of its citizens to justify capital punishment. The residents of Gaza are besieged and living without the daily necessities of life, while thousands of Palestinians remain in Israeli prisons without any legal charges having being brought against them. It seems that Israel’s true intention is to create divisions between Hamas and Fatah in order to destroy the new Palestinian unity government.

Khawaja Umer Farooq, Jeddah

مسلم ممالک اور خود احتسابی........

$
0
0


عراق میں جاری چو طرفہ ہما ہمی اور شورش اگر ایک جانب انتہائی قابل تشویش ہے تو دوسری جانب اس بحران سے کئی پہلو بھی جڑے ہوئے ہیں اور کئی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ بین النہرین (میسوپو ٹیمیا) کہلانے والا یہ خطہ نہ صرف ایک شاندار تہذیب و ثقافت کا گواہ ہے بلکہ اس سے علوم و فنون کا ایک زریں دور بھی وابستہ ہے اور یہ اپنے آپ میں زندگی کی روشنی سمیٹے ہوئے ہے۔ دریائے دجلہ و فرات کا مستقر عراق ہے۔ یہ 'دار الحکمہ'کی سر زمین ہے جہاں سے پھوٹنے والی علم و حکمت کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی اور یہی وہ سر زمین ہے جہاں مسلم تہذیب و ثقافت اپنی آن بان اور شان کے ساتھ پورے عروج پر تھی۔

الف لیلوی داستانوں نے یہیں جنم لیا۔ شہر زادے کی کہانیوں کا تعلق بھی اسی ملک سے ہے۔ یہی وہ سر زمین ہے جہاں امام ابو حنیفہ جیسے عالم و فاضل بزرگ کی بابرکت موجودگی سے دنیا کے کونے کونے سے آنے والے ہزاروں افراد نے فیض حاصل کیا اور اپنی علم کی پیاس بجھائی یہی وہ سر زمین ہے جہاں حق و باطل کے معرکے میں شہید ہونے والے نواسئہِ رسول حضرت امام حسین اور اہل بیت آسودہ خاک ہیں۔ یہ اسلامی تاریخ کا المیہ تھا کہ نواسہ رسول اسلام [صلی اللہ علیہ وسلم] کے پیروکاروں ہی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ عراق کو کچھ ایسا ہی معرکہ آج بھی درپیش ہے جب اسلام کے ماننے والے ایک ہی دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ افسوس کہ یہ المیہ کب اور کیسے ختم ہو گا، اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

آیت اللہ علی السستانی نے گزشتہ ہفتے دولت اسلامیہ عراق و شام [داعش] کے جنگجوؤں کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ جمعہ کے خطاب میں آیت اللہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ یہ نیکی اور بدی کے درمیان جنگ ہے۔ ان کے اس اعلان کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے جگجوؤں کے خلاف لڑائی میں اپنے نام لکھوانا شروع کر دیے جن میں ڈاکٹر اور پیشہ ور افراد کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ وہ اس لڑائی میں شامل ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی نظر میں یہ واقعی ایک ایسی جنگ ہے جس کے خطرات پورے عالم اسلام کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں.
یہ حق و باطل کے درمیان لڑائی تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حق کے علمبردار کون لوگ ہیں اور باطل کا ساتھ کون لوگ دے رہے ہیں۔؟ اس سوال کا جواب آسانی سے نہیں دیا جا سکتا۔ جہاں تک میں دیکھ اور سمجھ رہا ہوں کہ مسلمان بھائی ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو گئے ہیں۔ جہاں تک میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے مسلمانوں کے خون سے عالم اسلام لہولہاں نظر آ رہا ہے۔ اب اس جنگ میں جیت کسی کی بھی ہو، شکست امت مسلمہ کی ہو گی اور قوی اندیشہ ہے کہ وہ تمام مقاصد بھی تشنہ تکمیل رہ جائیں گے جنہیں پورا کرنا امت کا اولین فریضہ ہے۔ اہل نظر، موجودہ حالات ہی سے محسوس کر سکتے ہیں کہ شکست ہو چکی ہے۔

مسلمان صرف میدان جنگ میں ہی ایک دوسرے کے خلاف نہیں کھڑے ہیں بلکہ عراق میں یہ جنگ اب سوشل میڈیا پر بھی چھڑ گئی ہے اور مسلمانوں کے دو فرقے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر بھی باہمی نفرت کو فروغ دینے میں مصروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے عراق کے ہی موضوع پر شائع ہونے والے میرے ایک مضمون پر قارئین نے جو آراء دی ہیں ان میں ستائش بھی ہے اور تنقید بھی جس سے تقسیم و اختلافات کی صورت حال واضح ہے۔ قارئین نے مجھ پر الزام لگایا ہے کہ میں ایک طبقے کی حمایت کر رہا ہوں اور دونوں ہی طبقات ایک دوسرے کو مجرم قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ کیا باہمی نفرت کی زنجیروں نے ہمیں کبھی اتنی سختی سے جکڑا تھا اور ہم ایک دوسرے کے اتنے شدید دشمن کبھی بنے تھے۔!

میں محو حیرت ہوں کہ ایک عقیدہ کے پیروکار اور ایک کتاب نیز ایک رسول کے ماننے والے یہ کس ظلمت میں بھٹک رہے ہیں! اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسرائیل اور صہیونی عناصر نے اپنا کھیل کھیلا ہے اور ان سازش کاروں کے منصوبے صرف عراق تک محدود نہیں ہیں بلکہ انہوں نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ ان کا مقصد صرف اسرائیل عظمیٰ کی تشکیل نہیں ہے بلکہ پاس پڑوس کے مسلم ممالک کے علاقوں پر قبضہ کرنا بھی ہے۔ صہیونی اور عیسائی شدت پسند یہ خواب ایک مدت سے دیکھ رہے ہیں اور اسے شرمندہ تعبیر کرنے میں اپنے سازشی ذہن کے ساتھ ہمہ وقت مصروف ہیں۔ میں سازشی نظریات پر آسانی سے یقین کرنے والا شخص نہیں ہوں لیکن خطہ عرب سے لے کر مشرقی ایشیاء تک مسلمانوں کے درمیان جو فرقہ وارانہ خلیج پیدا ہوتی جا رہی ہے، اس سے یہ سمجھے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ ان کے پس پشت یقینا کوئی سازش اور مذموم منصوبہ ہی کار فرما ہے۔ مسلمانوں میں رائج مسلکی اختلافات کا فائدہ اٹھا کر مغربی طاقتیں اپنے مقاصد کی جانب قدم بڑھا رہی ہیں اور اسلام کے خلاف صف آرا ہیں کیونکہ یہی وہ مذہب ہے جسے وہ اپنی عالمی بالادستی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تصور کرتے ہیں۔

دوسری جانب اسلام کے نام پر ایسے شدت پسند گروہ بھی پوری طاقت کے ساتھ سرگرم ہو چکے ہیں جو دعویٰ تو اسلام، مسلمان اور مسلم ممالک کے تحفظ کا کرتے ہیں لیکن اپنے ہی بھائیوں کا خون بہانے میں انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی۔ اسرائیل اور صہیونی نواز طاقتیں ہماری کھلی دشمن ہیں لیکن مذکورہ قبیل کے مسلم شدت پسندوں سے تو ہمیں سنگین خطرات لاحق ہیں۔ مسلم ممالک کے مسائل اور بحران کیلئے صرف اسرائیل اور مغرب کو ذمہ دار نہیں ٹھرایا جا سکتا۔ کیا یہ سر پیٹنے کا مقام نہیں ہے کہ تیل کے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال مسلم ممالک ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں پیچھے ہیں جبکہ انہی وسائل پر عالمی معیشت کا پورا دار ومدار ہے۔

عراق کے ساتھ ساتھ پڑوسی ممالک کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو شورش اور بے ہنگم حالات کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔ جمہوریت اور انصاف کے نام پر ان ممالک کی حالت کیا سے کیا کر دی گئی ہے اور پھر ظلم و نا انصافی کے خلاف جو جمہوری اور پر امن طریقے سے احتجاج کرتا ہے، اسے سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ جب امن و امان کے لیے اٹھنے والی آواز کو دبایا جائے گا اور مظلوموں کو ان کے وقار سے محروم کر دیا جائے گا، تب شدت پسندی کے خدشات کو کیسے مسترد کیا جا سکتا ہے۔
افریقہ سے لے کر عرب تک یہی کچھ ہو رہا ہے اور عراق و شام کی صورتحال ان میں سب سے بدتر ہو چکی ہے۔ یہ سوال ہمیں خود سے کرنا چاہیے کہ ہمنے اب تک ان حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں اور کیا تیاریاں کی ہیں۔ اگر ہم نے اپنا دہرا معیار ترک نہیں کیا اور منظم کوششیں نہ کیں تو بحران کی ان زنجیروں سے آزاد ہونا ہمارے لئے ممکن نہیں ہو گا۔

بشکریہ روزنامہ "انقلاب"دہلی

Countries with the largest Muslim populations

$
0
0

With the exception of India, Nigeria, Ethiopia, China and Russia, the majority of the population in the following countries are Muslim.[74]
 

1. Indonesia Jakarta 209,120,000 13.1%


2. India New Delhi 176,190,000 11%


3. Pakistan Islamabad 167,410,000 10.5%


4. Bangladesh Dhaka 133,540,000 8.4%


5. Nigeria Abuja 77,300,000 4.8%


6. Egypt Cairo 76,990,000 4.8%


7. Iran Teheran 73,570,000 4.6%


8. Turkey Ankara 71,330,000 4.5%


9. Algeria Algiers 34,730,000 2.2%


10. Morocco Rabat 31,940,000 - 



Muslims live in, but also have an official status in the following regions:
The countries of Southwest Asia, and some in Northern and Northeastern Africa are considered part of the Greater Middle East. In Chechnya, Dagestan, Kabardino-Balkaria, Karachay–Cherkessia, Ingushetia, Tatarstan, Bashkortostan in Russia, Muslims are in the majority.
Some definitions would also include the Muslim minorities in:

 


The self-destruction of Pakistan by Dr. Abdul Qadeer Khan

$
0
0

The self-destruction of Pakistan by Dr. Abdul Qadeer Khan
Viewing all 6213 articles
Browse latest View live