Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 6213 articles
Browse latest View live

آپریشن ضربِ عضب نہ تو اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے نہ ہی آخری......

$
0
0


مان لیا کہ من بھر گیہوں میں تھوڑا بہت گھن بھی پس جاتا ہے ۔لیکن کیا یہ بھی ممکن ہے کہ سیر بھرگیہوں میں ایک من گھن پس جائے۔بالکل ممکن ہے اگر چکی شمالی وزیرستان کی ہو۔
آپریشن ضربِ عضب نہ تو اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے نہ ہی آخری ۔نائن الیون سے اب تک قبائلی علاقوں اور مالاکنڈ میں سات بڑے بڑے آپریشن ہو چکے ہیں۔

توقع یہی ہوتی ہے کہ ہر نئے آپریشن میں جو بھی اچھا برا تجربہ ہاتھ آئے گا اس کی روشنی میں اگلا آپریشن عسکری و انسانی اعتبار سے اور بہتر ہوگا۔ لیکن جس طرح سے لگ بھگ پانچ لاکھ انسانی مرغیوں کو شمالی وزیرستان کے دڑبے سے ہنکالا گیا اس سے تو نہیں لگتا کہ یہ وہی ریاست ، فوج اور مقامی انتظامیہ ہے جس نے سوات آپریشن سے پہلے پہلے مقامی و بین الاقوامی اداروں کی مدد سے کیمپوں کا پیشگی نظام قائم کر کے مالاکنڈ ڈویژن خوش اسلوبی اور نظم و ضبط کے ساتھ خالی کروایا تھا۔
دیکھا جائے تو شمالی وزیرستان کے پناہ گزینوں کی تعداد سوات آپریشن متاثرین کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم ہے لیکن پیشگی انتظامات لگ بھگ زیرو رہے۔ آپریشن شروع ہونے کے دو ہفتے بعد اب کہیں جا کے انتظامی آثار دکھائی پڑنے لگے ہیں۔

بیت الخلا کی ضرورت
ارے ہاں تمہیں تو شاید بیت الخلا کی بھی ضرورت ہوگی نا۔یہ ہم نے چار گڑھے کھود دیے ہیں اور ہر گڑھے پر دو دو پٹڑے بھی رکھ دیے ہیں اور ٹاٹوں کی چار دیواری بھی کھڑی کر دی ہے۔ بہتر ہوگا کہ خواتین یہ بیت الخلا استعمال کرلیں۔باقی لوگ یہ سامنے والے جنگل میں چلے جایا کریں۔
زرا تصور کریں کہ کسی ایک روز لاہور، فیصل آباد، پنڈی، کراچی یا حیدرآباد کے کچھ مخصوص علاقوں کو دہشت گردی اور دیگر خوفناک جرائم سے پاک کرنے کی اچانک عسکری کارروائی شروع ہونے کے بعد یہاں کے چھ لاکھ مکینوں سے کہا جائے کہ جتنا جلد ممکن ہو غیر معینہ عرصے کے لیے گھر بار چھوڑ کر شہر کی حدود سے نکل جاؤ اور انھیں یہ تک معلوم نہ ہو کہ یہاں سے کہاں اور کیسے جانا ہے؟ رکنا کہاں ہے۔ راستے میں اتنے لوگوں کو کوئی پانی بھی پلائے گا؟ کھانے کا کون پوچھے گا؟ بیماروں کو کہاں لادے لادے پھریں گے؟ نوزائدہ بچوں کے دودھ ، بڑے بچوں کی تعلیم اور پردہ دار خواتین کے نہانے دھونے پکانے کا کیسا انتظام ہو گا؟

اور پھر حکومت لاہور، فیصل آباد، پنڈی، کراچی اور حیدرآباد کے ان متاثرین کو
 نکالے جانے کے ہفتہ بھر بعد فی خاندان پندرہ ہزار روپے کی ادائیگی اس مد میں کر دے کہ یہ آپ کے کھانے پینے اور ٹرانسپورٹ کے فوری اخراجات ہیں اور پھر ان سے یہ کہا جائے کہ اپنی مدد آپ کے تحت سو پچاس کلومیٹر پرے ایک ڈسٹری بیوشن پوائنٹ پر رجسٹریشن کروا کے مہینے بھر کا راشن لے لو۔اور پھر ان سے کہا جائے کہ یہ جو لق و دق زمین نظر آ رہی ہے یہ کوئی ویرانہ نہیں تمہارے قیام کا کیمپ ہے۔ اپنے ایک سو دس کلو وزنی راشن کے تھیلے سر سے اتار کر زمین پر رکھو اور ان تھیلوں کو تکیہ سمجھ کر دو دو تین تین سر رکھ کے سوجاؤ۔
کیا کہا خیمے؟ وہ تو ابھی پانی کے جہاز سے آ رہے ہیں۔

کیمپ میں پینے کا پانی؟ کل پرسوں انشااللہ ایک آدھ ٹینکر ضرور چکر لگائے گا یہاں۔
دیگچی، پرات، توا، رکابی، گلاس؟ ہاں کچھ این جی اوز سے بات ہوئی تو ہے۔امید ہے کہ اگلے دس پندرہ دن میں برتن بھی آجائیں گے تب تک خشک راشن مٹھی بنا کے پھانکتے رہو۔
ارے ہاں تمہیں تو شاید بیت الخلا کی بھی ضرورت ہوگی نا۔یہ ہم نے چار گڑھے کھود دیے ہیں اور ہر گڑھے پر دو دو پٹڑے بھی رکھ دیے ہیں اور ٹاٹوں کی چار دیواری بھی کھڑی کر دی ہے۔ بہتر ہوگا کہ خواتین یہ بیت الخلا استعمال کرلیں۔باقی لوگ یہ سامنے والے جنگل میں چلے جایا کریں۔
بجلی؟ کیا تمہارے پاس ٹارچ والا موبائل فون نہیں؟ تو پھر؟

بالکل پریشان مت ہو۔پوری قوم آزمائش کی گھڑی میں دل و جان سے تمہارے ساتھ ہے۔ بے صبری کو لگام دو۔انشااللہ دو تین ماہ میں پورا انتظام قابو میں آجائے گا۔تمہیں باقاعدہ ماہانہ مالی امداد بھی ملے گی۔تب تک یہ سمجھ لو کہ ملک کے لیے عظیم قربانی دے رہے ہو۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تم کسی اور صوبے میں جانے کی فرمائش کر بیٹھو۔جو ملے گا یہیں ملے گا۔یہاں سے گئے تو کچھ نہ ملے گا۔

وسعت اللہ خان 



Naswar more injurious to health than smoking

$
0
0

The famous maxim, ‘a head without ecstasy is a donkey’s head’, is nowhere truer than in Khyber-Pakhtunkhwa (K-P) where the use of naswar (a tobacco derivative that is chewed to get high) is so common that those not habitual to it are considered to be boors. According to official statistics more than 70 per cent of the people in K-P are in the habit of chewing naswar. According to the Pakistan Tobacco Board, there is a huge market for naswar in the province estimated at around Rs6 billion annually.

Famous for quality naswar , Dera Ismail Khan and Bannu, also export the product to Punjab and Sindh. There is a huge demand for naswar in Karachi, which has a large population of migrants from K-P. Habib Gul, who has been selling naswar in Peshawar’s Dabgari Garden, said 20 years in the business had earned his product a brand name among naswar users.

“We use fine ingredients and the best quality tobacco, although it is quite expensive but still we want to produce quality products to have an edge over our competitors,” Gul said. Naswar is popular among all age groups from 12 years olds to septuagenarians. Women are also among naswar addicts but it is more popular among the younger lot who emulate their elders. “I tried it only for fun initially but later I got addicted to it. I tried to get rid of the habit but I couldn’t,” Israr Shah, a Mardan teenager confessed.

Naswar is made from fresh tobacco leaves, calcium oxide and wood ash. Senior medical practitioner and a chest specialist, Prof (Dr) Mukhtar Zaman Afridi said, “the use of naswar directly causes lung, stomach and mouth cancer besides causing bronchitis, kidney, heart and other diseases”.

Medical experts are of the view that the diseases caused by naswar are more fatal than those caused by smoking. The health department has been engaged in a fierce campaign against smoking through the print and electronic media but has failed to run a similar campaign against the use of naswar.

ریاستی رٹ کو روتے رہیے.......

$
0
0


کیا کسی نے کبھی ریاستی اقتدارِ اعلیٰ  کہ جسے اب اردو میں بھی اسٹیٹ رٹ کہنے کا رواج ہوگیا ہے) ٹھوس شکل میں دیکھا ؟ کس کس کی اسٹیٹ رٹ سے کتنی دیر کی ملاقات رہی؟ آخری دفعہ اسٹیٹ رٹ سے کب کب ہاتھ ملایا؟ بعد میں اپنی انگلیاں بھی گنیں کہ نہیں؟ چلیے آپ کی کسی سبب یا بلا سبب ملاقات نہیں ہوسکی کوئی بات نہیں۔لیکن آپ اس رٹ کے باپ یعنی آئین سے تو کسی نہ کتاب دوکان میں ضرور ملے ہوں گے۔یہی مشکل ہے، آپ سے تو اپنا آئین بھی پورا نہیں پڑھا جاتا ورنہ آدھے نفسیاتی مسئلے تو چٹکی بجاتے حل ہو چکے ہوتے۔۔آپ کے۔

یہ رونا آخر کب تک سنا جائے کہ پاکستان میں اسٹیٹ رٹ باقی نہیں رہی اور
 ریاست ہی چاہے تو اسے بحال کرسکتی ہے اور جب تک بحال نہیں ہوگی تب تک قانون کی حکمرانی ایک خواب رہے گی اور ہزاروں جانور اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ جائیں گے وغیرہ اور وغیرہ اور وغیرہ…کیا آپ کچھ سمے کے لیے اسٹیٹ رٹ کی رٹ لگانا بند کرسکتے ہیں پلیز۔بہت شکریہ۔

عرض یوں ہے کہ خدا کو چھوا تو نہیں جا سکتا لیکن مختلف شکلوں میں محسوس ضرور کیا جاسکتا ہے اور کچھ اتنے راسخ انداز سے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ بعض اوقات حاضر والدین کے کسی حکم کی بھی غائب خدا کے فرمان کے آگے کوئی حیثیت نہیں۔بالکل اسی طرح ریاستی رٹ نام کی کوئی شے آپ کو کسی ٹھیلے پر نہیں ملے گی۔لیکن اگر اسے سب دل سے مان لیں تو پھر وہی رٹ ہماری اپنی ہی اجتماعی و انفرادی شکل و صورت میں ہر طرف اظہار کرتی دکھائی سنائی دے گی۔

بھلے منہ سے کچھ بھی کہیں مگر ہم میں سے اکثر لوگ شائد ایسے نڈر ہوچکے ہیں کہ خدا سے نہیں ڈرتے تو ریاستی اختیار سے کیا ڈریں گے۔ آئینِ پاکستان کی پہلی شق میں صاف صاف ہے کہ اختیارات کا سرچشمہ خدائے برتر ہے اور ریاست یہ اختیارات امانتاً منتخب نمایندوں کے توسط سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کی مجاز ہے۔یعنی خدائی رٹ ہی اسٹیٹ رٹ ہے۔ پھر بھی سب پوچھ رہے ہیں کہ اسٹیٹ رٹ کہاں ہے۔

شائد اس موٹر سائیکل سوار کے پاس ہے جو کسی بھی چوک پہ باوردی کانسٹیبل کی شکل میں کھڑی ریاست کو دھتا بتاتے ہوئے یوں سگنل توڑتا ہے گویا کفر توڑ رہا ہو۔ یا شائد اسٹیٹ رٹ ڈسکہ کے ان چار لوگوں کے پاس ہے جنہوں نے اپنی بیٹی اور ناپسندیدہ داماد کو بیسیوں لوگوں کے سامنے دن دھاڑے کھمبے سے باندھا اور دونوں کے سر اتار کے خبجرلہراتے آرام سے چلے گئے۔
تماشائی یہ بات سوچنے سے ہی عاری ہیں کہ انھوں نے دو انسانوں کی شکل میں دراصل ریاست اور عدالت کا سر اتارے جانے کا منظر دیکھا ہے۔یا پھر اسٹیٹ رٹ اس سادے کی داشتہ ہے جو کسی بھی شہری کو جیپ میں ڈالنے کا خود ساختہ حق رکھتا ہے اور پھر نہ شہری کا پتہ ملتا ہے نہ سادے کا۔رٹ کسی زمانے میں بس ریاست کے پاس ہوا کرتی تھی اب عرصہ ہوا ریاست نے اس کی بھی نجکاری کردی اور اپنے اختیار کو اٹھارہ کروڑ شئیرز میں بانٹ کے بیچ دیا تاکہ ریاست کو دیگر ضروری کاموں کے لیے وقت مل سکے۔ نتیجہ ؟؟؟
(ملاوٹ) خدا کو ناپسند ہے اور ریاست کو بھی۔لیکن خدائی اور حب الوطنی کا دم بھرنے والے ہی جانے سب کو کیا کیا کس کس نام سے ہم سے ہی پورے پیسے لے کر کھلا رہے ہیں پلا رہے ہیں اور ریاست بس استغفراللہ کا ورد کرتی جا رہی ہے۔

(خیانت) خدا کے نزدیک بھی حرام اور ریاستی آئین کے تحت بھی جرم۔ مگر کون سا ایسا شہری یا ادارہ ہے جو خیانت کے انفرادی و اجتماعی اثرات سے بچ پایا۔یا تو خائن ہے یا پھر خیانت گزیدہ۔ پچھلے ایک سال میں کرپشن کے تین ہزار اکتالیس مقدمات میں سے صرف چوبیس کا فیصلہ ہوسکا۔ رشوت لے کے پھنس گیا ہے رشوت دے کے چھوٹ جا۔ (یہ ضرب المثل مغربی نہیں مشرقی ہے اور یہیں کی ہے)۔

(ارتکازِ دولت) خرابی ہے ان لوگوں کے لیے کہ جنہوں نے مال جمع کیا اور گن گن کے رکھا۔ مملکتِ خداداِ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسی فیصد آمدنی بیس فیصد لوگوں کے پاس ہے اور باقی اسی فیصد لوگ بیس فیصد پر گزارہ کررہے ہیں۔ ٹیکس دصولی کی شرح کے معاملے میں یہ ریاست دنیا کے ناکام ترین ممالک میں شمار ہوتی ہے۔جو سب سے زیادہ ٹیکس کھانے والے ہیں وہی باقیوں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ان کا ایک دوسرے پر تو بس نہیں چلتا۔چنانچہ تنخواہ دار طبقے اور ماچس و مٹی کے تیل پرگذارہ کرنے والوں پے مالیاتی مردانگی اتاری جاتی ہے۔

خدا کے نام کی تکریم کرنے والے لوگ

خدا کے گھر سے بھی اونچے مکان رکھتے ہیں (جمال احسانی)
  جھوٹ، غلط بیانی اور آدھا سچ) نہ خدا کے ہاں حلال ہے نہ کسی ریاستی کتاب میں اجازت ہے۔لیکن جھونپڑی سے محل تک، ٹھیلے والے سے لے کر پیش امام تک،بچے سے حکمرانِ اعلی تک کوئی ہے جو جھوٹ کی سلطنت سے باہر رہ گیا ہو۔

(قتلِ عمد) کس مذہب یا قانون میں جائز ہے؟ کیا اس کی خدائی اور ریاستی سزا انتہائی سخت نہیں؟ اس سے زیادہ کوئی اور کیا کہے کہ جس نے ایک شخص کو ناحق قتل کیا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ مگر خدا کا نام لینے والی ریاست ہو کہ خدا کا دم بھرنے والے افراد۔ دونوں کے کانوں سے روئی کون نکالے؟

 ریپ) کوئی فاسق و فاجر بھی اس کی وکالت نہیں کرتا۔اس پاکستان میں اینگلو سیکسن لا سے قوانینِ حدود اور جرگہ روایات تک کون سا قانون لاگو نہیں۔ مگر پچھلے پانچ برس میں ریپ کے ایک ملزم کو بھی سزا نہیں مل پائی۔(اس سے اورکچھ ہو نہ ہو انفرادی و اجتماعی پاک بازی، پرہیز گاری اور غیر جانبداری کے معیار کو ضرور اندازہ ہو سکتا ہے ۔

 دہشت گردی) خدائی ڈکشنری میں اسی کو فتنہ اور فساد فی الارض کہا گیا ہے اور اس کی سزا ایک ہی ہے۔قلع قمع۔ دہشت گردی کسی بھی ریاستی رٹ کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔لیکن جو شکار ہیں وہی اس کی فارمنگ بھی کرتے ہیں یہ بھول بھال کر کہ دنیا گول ہے۔ جو برآمد کرو گے وہی شے لوٹ پھر کے گھر کو آئے گی۔
 
انصاف) ریاست کفر پہ تو زندہ رہ سکتی ہے بے انصافی پر نہیں۔اس پاکستان کی اٹھارہ کروڑ آبادی میں کوئی ایسا شخص جو کہہ سکے کہ وہ انصاف کے نافذ و جاری نظام سے زیادہ تو نہیں مگر تھوڑا بہت ضرور مطمئن ہے۔ ریاستی رٹ انصاف کے ستون پر کھڑی ہوتی ہے۔کیا کسی کو ستون دکھائی دے رہا ہے؟ بس جتنا دکھائی دے رہا ہے اتنی ہی ریاستی رٹ پر اکتفا کیجیے۔
 
اقلیت) اس دنیا میں کوئی اکثریت میں نہیں۔سب اقلیت ہیں۔کہیں ایک گروہ تو کہیں دوسرا گروہ۔اسی لیے تمام مذاہب اقلیتوں اور اکثریت کے حقوق و فرائص واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔دعوے سب کے اپنی جگہ لیکن اس دنیا پر کوئی نظریہ آج تک پورا غالب نہیں آ سکا نہ کوئی فوری امکان ہے۔اسی لیے کہا گیا کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔تمہارے لیے تمہارا راستہ میرے لیے میرا راستہ۔اسی کو تو پرامن بقائے باہمی کا فلسفہ کہتے ہیں۔
 
عقیدہ) عقیدے کے بدلاؤ کے لیے تبلیغ کی تو اجازت ہے،زبردستی، ترغیب و تحریص، دھمکی، خاص اہداف اور مفادات ذہن میں رکھ کے ایسی قانون سازی کی بھی اجازت نہیں جن کی زد میں آ کر ریاست کا کوئی بھی گروہ سیاسی، مذہبی یا سماجی طور پر درجہ دوم کا شہری بن جائے۔تلوار کی نوک گردن پہ رکھ کے عقیدہ بدلوانے کی اجازت نہیں۔اپنوں یا غیروں کی عبادت گاہیں ڈھانے یا مسخ کرنے کی اجازت نہیں۔سوائے اپنے دفاع کے کسی کو عقیدے، رنگ، نسل کی بنیاد پر کسی بھی طرح کی زک پہنچانے کی اجازت نہیں۔لیکن کیا خدائی قوانین کی مسخ شدہ تشریح کو کبھی کسی نے روکنے کی کوشش کی۔

کیا ریاست اس نفرت پرور کھیل میں فریق ہے یا غیر جانبدار؟ کیا فوجداری و دیوانی قوانین کی نوعیت ایسی ہے کہ ریاست کا ہر شہری دل سے خود کو اس سرزمین کا فرزند سمجھے اور اس کے تحفظ کے لیے سب کچھ کرنے پر آمادہ ہو جائے۔کیا خدا کی جانب سے اس شاخسانے کو پھلنے پھولنے کی اجازت ہے۔کیا سب لوگ (بلاخصوص صاحب ِ احوال و صاحب الرائے حضرات) واقعی آسمانی احکامات کو ایک بڑی اور مکمل تصویر کے طور پر دیکھنے، پڑھنے اور ان احکامات میں مضمر حکمتی اشارے سمجھنے کے قابل ہیں یا پھر اپنی اپنی پسند کے احکامات کو آدھا پورا بیان کرکے اس تشریح کو شریعتِ خدا کہنے اور منوانے پر تلے بیٹھے ہیں۔

جب تک ان سوالات کا کوئی متفق علیہہ تشفی بخش عقلی جواب نہیں ملتا۔ریاستی 
رٹ کو بیٹھے روتے رہئے۔

Report: Iraq, Afghanistan Wars Cost US Nearly $4.4 Trillion

$
0
0
Report: Iraq, Afghanistan Wars Cost US Nearly $4.4 Trillion

Tax, Democracy and Pakistan Government by Dr. Akramul Haq

$
0
0

Tax, Democracy and Pakistan Government by Dr. Akramul Haq

Pakistan's future policy towards Afghanistan by Manzoor Ijaz

$
0
0

 Pakistan's future policy towards Afghanistan by Manzoor Ijaz

The USA is Spying on Millions of People by Yasir Pirzada

$
0
0

   The USA is Spying on Millions of People by Yasir Pirzada

Political Attacks on the Pakistan Judiciary by Ansar Abbasi

$
0
0

Political Attacks on the Judiciary by Ansar Abbasi

Islamic Banking - Realities, Results and Advise by Dr. Shahid Siddiqui

$
0
0



Islamic Banking - Realities, Results and Advise by Dr. Shahid Siddiqui

ناقابل فراموش بیس عظیم فٹبالر......

$
0
0

زیزو/زیڈان: کی عرفیت اور زین الدین کے نام سے جانے جانے والے یہ فٹبالر فرانس سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ اکلوتے کھلاڑی ہیں جنھوں نے فیفا پلیر آف دی ائیر کا ایوارڈ تین بار حاصل کیا۔
بلیک پرل :کی عرفیت اور پیلے کے نام سے جانے جانے والے یہ فٹبالر برازیل
 سے تعلق رکھتے ہیں۔اپنے کیرئیر میں انھوں نے 1280 گول کیے ، ورلڈ کمبائنڈ اولمپک کمیٹی نے انھیں پلیر آف دی سینچری کا خطاب دیا۔یہ پچھلے 13 سالوں سے برازیل کے کھیل کے وزیر ہیں۔ میراڈونا :ارجنٹائن کے عظیم فٹبالر ہیں ، ان دنوں اپنی قومی ٹیم کے کوچ بھی ہیں ، کوکین کے استعمال میں خاصے بدنام ہوئے اور ان کے کیریر کا خاتمہ اسی اسکینڈل سے ہوا۔ ڈر کیسر :کی عرفیت اور فرانز بیکن بوائیر کے نام سے جانے جانے والے جرمن فٹبالر ہیں۔1972ء اور 1976ء میں یورپین فٹبالر آف دی ائیر کا خطاب پایا۔ جوہان کریوف :ڈچ فٹبالر ہیں ، تین دفعہ یورپین فٹبالر آف دا ائیر کا اعزاز رکھتے ہیں ، اور یورپین پلیر آف دی سینچری کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہے۔ گریڈ مولر :62 انٹر نیشنل میچوں میں68 ، 74 یورپین کپ میچوں میں 66 گول اور 427 games Bundesliga میں 365 گول کرنے والے عظیم اسٹرائیکر مانے جاتے ہیں۔ رونالڈوینیومینین: کی عرفیت سے جانے جانے والے یہ برازیلی کھلاڑی پیلے کے بعد سب سے بڑے برازیلی فٹبالر مانے جاتے ہیں۔ کارلوس البرٹو ٹوریس : عظیم برازیلی فٹبالر ، جنھیں بہترین دفاعی کھلاڑی سمجھا جاتا ہے ، 1970 میں اٹلی کے خلاف ورلڈ کپ میں کیا گیا ان کا گول فٹبال مقابلوں کی تاریخ میں بہترین گول مانا جاتا ہے۔ مشعل پلاٹینی :فرانسیسی فٹبالر ، یورپ چیمپین شپ فائنلز میں سب سے زیادہ گول اسکور کرنے کا ریکارڈ رکھنے والے کھلاڑی ، بہترین ’’فری کک‘‘ اور ساتھیوں کو گیندپاس کرنے والے کھلاڑی مانے جاتے ہیں۔ ر ول گونزالیز: اسپین سے تعلق رکھنے والے یہ فٹبالر ’’میڈرڈ کا فرشتہ‘‘کی عرفیت سے جانے جاتے ہیں۔رئیل میڈرڈ کے دوسرے بہترین اسکورر اور بہترین کھلاڑی کا اعزاز پا چکے ہیں۔ الفرڈو ڈی اسٹیفانو : اسپین کے اس عظیم کھلاڑی نے ، 282 لیگ میچوں میں 216 گول اپنے نام کر رکھے ہیں ، اسپین کے کھلاڑیوں میں تیسرے سب سے زیادہ اسکور کرنے والے کھلاڑی ہیں ، انھوں نے رئیل میڈرڈ کے 329 میچوں میں 228 گول اپنے نام کیے ، بنیادی طور پر ’’اسٹرائیکر‘‘ کی پہچان رکھنے والے یہ کھلاڑی میدان کے کسی بھی حصے سے بہترین کھیل پیش کرتے اور بہترین دفاعی کھلاڑی بھی سمجھے جاتے تھے۔۔ لوئیس فیگو : پرتگال کے عظیم کھلاڑی ، 2000 میں یورپین فٹبالر آف دی پلئیرکا اعزاز جیتنے والے یہ کھلاڑی ، جارحانہ کھیل پیش کرنے میں مشہور ہیں۔ 56 ملین کی ریکارڈ رقم کے ساتھ انھوں نے 2000 میں رئیل میڈرڈ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ رونال کوئی مین :بہترین فری ککر اور دفاعی کھلاڑی ہیں اور پرانی گیند کے ساتھ بہترین کھیل پیش کرتے ہیں ،503 لیگ میچوں میں 193 گول اپنے نام رکھتے ہیں ، جو دنیا میں کسی بھی دفاعی کھلاڑی کے سب سے زیادہ گول ہیں۔ لیو یاشین :فٹبال کی تاریخ میں بہترین گول کیپر مانے جاتے ہیں ، روس سے تعلق رکھتے ہیں ، بیسویں صدی کے عظیم گول کیپر کا اعزاز رکھتے ہیں ، اور اکلوتے گول کیپر ہیں جو یورپین فٹبالر آف دی ائیر کے لیے نامزد ہوئے۔ زیکو ، گورا پیلے: (وائیٹ پیلے) کہلائے جانے والے یہ عظیم فٹبالر اسی کی دہائی کے بہترین کھلاڑی مانے جاتے ہیں ، انھیں دنیا کا بہترین فری کک اسپیشلسٹ مانا جاتا ہے۔ اور ان کی لگائی ہوئی کک سب سے زور آور کک سمجھی جاتی ہے۔ اولیور کاہن جرمنی سے تعلق رکھتے ہیں ، جرمنی کے سب سے کامیاب اور عظیم کھلاڑی مانے جاتے ہیں ، دو بار ’’جرمن فٹبالر آف دی ائیر‘‘ کا اعزاز رکھتے ہیں۔ اور دنیا کا بہترین گول کیپر کا اعزاز بھی۔ ڈیوڈ بیکھم : انگلینڈ سے تعلق رکھتے ہیں ، اسپائیس گرلز اسٹار وکٹوریا سے 1999ء میں شادی کی ، سیدھے پاؤں سے بہترین کک لگاتے ہیں ، بطور سیلیبرٹی دنیا ئے فٹبال میں سب سے زیادہ شہرت حاصل کی۔ روبارٹ کارلوس :اپنی ایک شاندار فری کک سے 35 میٹر کے فاصلے سے فرانس کے خلاف بہترین گول کر کے شہرت کمانے والے عظیم برازیلی فٹبالر ہیں۔ لیلین تھورام : فرانس کے بہترین دفاعی کھلاڑی ہیں۔ 1998 میں کروشیا کے خلاف عالمی کپ کے سیمی فائنل میں دو گول کر کے شہرت کمائی ، فرانس یہ مقابلہ 3 کے مقابلے ایک گول سے جیت گیا تھا ، جس کے بعد فائنل بھی فرانس نے اپنے نام کر لیا۔
 


How to Avoid Food Poisoning

$
0
0

فوڈ پوائزننگ ایک مہلک مرض ہے،جو غیر معیاری خوراک اور دیگر بیماریوں سے لاحق ہوسکتی ہے۔اس سے بچائو کے چند طریقے مندرجہ ذیل ہیں۔ ٭پینے کا پانی ہمیشہ ابال کر استعمال کریں۔ ٭فریز کیا ہوا گوشت دو دن سے زیادہ ہرگز استعمال نہ کریں۔ ٭ہمیشہ کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ ضرور دھوئیں۔کیونکہ یہ مرض گندگی اور جراثیم سے ہی پھیلتا ہے۔ ٭باسی کھانا مت کھائیں،ہمیشہ تازہ کھانا کھائیں۔ ٭بازار سے خریدی گئی سبزیاں اور پھل کیمیکل زدہ ہوتے ہیں اس لئے ان کو اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔ ٭بازار سے خریدی ہوئی برف کا استعمال ہرگز نہ کریں۔

A couple of weeks ago, the Food Standards Agency in the United Kingdom warned the public not to wash raw chicken before cooking it, saying that water splashed throughout the kitchen during the process could spread potentially harmful bacteria all over the kitchen, reported The Guardian. The news came as a surprise to many people who thought that rinsing their meat actually removed some of the bacteria that causes food-borne illnesses and was a safe practice. 

Food safety might seem like common sense, but as the recent switch on chicken-handling practices shows, the rules can change and aren’t universally followed. Many people follow advice on food handling that is outdated or just plain incorrect. Meanwhile, four million Canadians get food poisoning each year, according to Health Canada. Most of those people get better quickly and don’t have any lasting issues, but some can contract serious illnesses, or even die.

When you throw in hot weather and group gatherings, safe food handling becomes even more critical because high summer temperatures can create a perfect breeding ground for harmful bacteria. But if you keep safe practices in mind, you can enjoy outdoor gatherings and keep your food healthy for everyone there.  







The suffering of Pakistan’s IDPs

$
0
0


The situation is deteriorating for internally displaced persons (IDPs) in Pakistan’s Waziristan tribal region. According to government sources more than 500,000  people have migrated from Waziristan to different parts of the country after army operations in the region. Most of the people who migrated from Waziristan are poor and some of them walked for two or three days to reach Bannu and Dera Ismail Khan because of a lack of transportation and the curfew restrictions in the area.Women and children are the worst affected, and several children have lost their lives due to a lack of medical facilities. The extreme summer weather has added further difficulty to their journey. 

Now due to a lack of facilities, these IDPs find it hard to provide food and shelter for their families. Local media are showing depressing pictures of these events. People are forced to stand for long hours outside government assistance centers. There are only a few NGOs working in the area with limited resources, and instead of providing help to these displaced people, political parties in Pakistan continue to fight with each other.

Khawaja Umer Farooq, Jeddah

Neymar out of World Cup

$
0
0
Injured Brazilian national soccer team player Neymar waits to be airlifted home from Brazil's training camp inTeresopolis, near Rio de Janeiro

Abu Bakr al-Baghdadi

$
0
0
A man purported to be the reclusive leader of the militant Islamic State Abu Bakr al-Baghdadi has made what would be his first public appearance at a mosque in the centre of Iraq's second city, Mosul, according to a video recording posted on the Internet on July 5, 2014, in this still image taken from video. There had previously been reports on social media that Abu Bakr al-Baghdadi would make his first public appearance since his Islamic State in Iraq and the Levant (ISIL) changed its name to the Islamic State and declared him caliph. The Iraqi government denied that the video, which carried Friday's date, was credible. It was also not possible to immediately confirm the authenticity of the recording or the date when it was made.
REUTERS/Social Media Website via Reuters TV

Beware! Someone is monitoring your internet activities

$
0
0

Beware! Someone is monitoring your internet activities 

Dubai - Mall of the World

$
0
0
UAE Prime Minister and Dubai ruler Sheik Mohammed bin Rashid Al Maktoum reviews a presentation of a sprawling real-estate project known as the Mall of the World that is planned to include an 8 million square foot (743,224 square metre) mall, a climate-controlled street network, a theme park covered during the scorching summer months and 100 hotels and serviced appartments.

Chief Justice Nasir–ul–Mulk

$
0
0


Nasir–ul–Mulk   b. 17 August 1950), is the 22ndChief Justice of Pakistan and a Jurist. He was nominated as Chief Justice by the Prime ministerNawaz Sharif and his appointed was confirmed by PresidentMamnoon Hussain on 6 July 2014.[1][2][3] Earlier, he was the acting Chief Election Commissioner of Pakistan, from 30 November 2013 to July 2014.[4]

Prior to be elevated as Senior Justice in 2005, Mulk tenured as the chief justice of Peshawar High Court in 2004.[5] Since joining the supreme court, Mulk has taken textualist approach on human rights and non-discrimination issues.[6]


انقلاب سو روپے فی کلو.......

$
0
0


نورِ حق شمع الہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا اس کو مٹا سکتا ہے کون

ڈومینین کا گورنر جنرلی نظام ہو کہ سول ملٹری ٹیکنو کریٹک ماڈل کہ سیدھی سیدھی فوجی آمریت کہ سول ملٹری مشترکہ ڈکٹیٹر شپ کہ فوجی جمہوریت کہ عوامی جمہوریت کہ گائڈڈ ڈیموکریسی کہ اسلامک ملٹری ماڈل کہ خالص اسلامی جمہوریت کہ اسلامی سوشلزم کہ سعودی نیم شرعی ماڈل کہ ویسٹ منسٹر پارلیمانی نظام۔ ہم ہر قسم کے نئے، پرانے، سیکنڈ ہینڈ، تجرباتی، تصوراتی، آدھے، پورے، کچے، پکے، پختہ، نیم پختہ، دم پخت، کنڈیشنڈ، ری کنڈیشنڈ، نظام ہائے زندگی و حکومت اور ہر قسم کا انقلاب ’’جہاں ہے جیسا ہے ’’ کی بنیاد پر مناسب قیمت پر خریدتے ہیں۔ سودا نقد و نقد اور جھٹ پٹ۔ صرف سنجیدہ فروخت کنندگان رجوع کریں۔ دلالوں اور کمیشن ایجنٹوں سے معذرت۔ جلنے والے کا منہ کالا۔
چھیاسٹھ برس سے آپ کے اعتماد و معیار کے ضامن۔
پاکستان اینڈ برادرز ، بالمقابل مزارِ قائد ، نیو ایم اے جناح روڈ ، کراچی پوسٹ کوڈ 014847
( نوٹ۔ ہماری کوئی برانچ نہیں )۔

کیا آپ میں سے کوئی اجمیر شریف گیا ہے۔ تو جوگئے ہیں وہ انھیں احوال بتا دیں جو نہیں گئے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے دربار میں دنیا کی دو سب سے بڑی دیگیں نصب ہیں۔ چھوٹی دیگ اکبر نے اور بڑی جہانگیر نے نذر کی تھی۔دونوں میں کل ملا کے ایک وقت میں سات ہزار دو سو کلو گرام کھانا پک سکتا ہے۔ ان دیگوں کی گہرائی اتنی ہے کہ خادم کو صفائی کے لیے سیڑھی لگا کے اترنا پڑتا ہے۔ ایسی دیگوں میں کھانا پکانے کے لیے بھی مخصوص مہارت والے کاریگر درکار ہیں۔ وہی طے کرتے ہیں کہ کون سی شے کس مقدار میں کب اور کیوں پڑے گی اور پکنے کے بعد ذائقہ کیسا ہوگا۔ یہ دیگیں لنگرِ عام کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں اور پیسے والے عقیدت مند یا وہ اشرافیہ جس کی کوئی من مراد پوری ہوجائے ہے اپنی خوشی سے ان میں کھانا پکوا کے تقسیم کرسکتے ہیں۔
اگر ہم اس ملک کو درگاہ حضرت خواجہ غریب نواز کی دیگ کی طرح کی کوئی چیز سمجھ لیں تو یہاں کے معاملات اور ذائقہ سمجھنے میں قدرے آسانی ہو جائے گی۔اس دیگ میں بھی کسی بھی آنچ پر کچھ بھی پک سکتا ہے یا پکوایا جا سکتا ہے۔لنگر لینے والے سلامت۔لنگر بانٹنے والے بہت۔۔۔

ویسٹ منسٹر والے سیکنڈ ہینڈ جمہوریت بیچ گئے۔یہاں اس کی وہ ایسی تیسی ہوئی کہ مار مار کے بنیادی جمہوریت کے بونے میں تبدیل کردیا گیا۔جب جب اس بونے نے قد نکالنے کی کوشش کی تب تب چھتر پے چھتر پڑے۔
اسلام کہ جس کے معنی ہی مذہبِ امن ہے۔مگر یہ معنی بھی یہاں کسی سے ہضم نہ ہو پائے۔اس مفہوم کی قبا کا جوٹکڑا جس کے ہاتھ لگا لے اڑا بلکہ اسلام کو عفو ، درگزر ، وسیع القلبی ، عدم استحصالی ، صلہِ رحمی ، غریب نوازی ، علم کی کھوج ، عمل کی کسوٹی ، کل جہانوں کی رحمت ، نسلی ، سماجی ، اقتصادی پیغامِ مساوات سمجھنے اور اپنانے کے بجائے محض ایک تعزیراتی نظام جان کر ریاکاری و کاروباریت کے بے روح شو روم پر رکھ دیا گیا۔بلالی صلاصل توڑنے والے اس سیدھے سادے سے نظام کو بھانت بھانت کی ایسی وزنی وزنی تشریحی زنجیریں پہنا دی گئیں کہ ان کے بوجھ سے اپنا ہی اگلا قدم اٹھانا خود پے دوبھر ہوگیا۔

اب یہی کچھ ’’انقلاب’’ کے ساتھ بھی ہونے جا رہا ہے۔کسے پڑی کہ لمبے لمبے انقلابی بھاشن جھاڑنے سے پہلے کسی سے انقلاب کے معنی ہی پوچھ لے۔پوچھنے میں عزت گھٹتی ہے تو ڈکشنری میں ہی دیکھ لے۔اب تک دنیا میں انقلابِ مسیح سے انقلابِ ایران تک جتنے بھی سماج منقلب ہوئے ان ہی کا مطالعہ کرلے۔ مگر یہ سب کام محنت طلب ہیں اور آج کے سوشل میڈیائی ایئرکنڈیشنڈ انقلابی کو محنت سے بھلا کیا علاقہ ؟ چی گویرا کے بقول انقلاب کوئی سیب تو نہیں کہ خود ہی پک کے جھولی میں آن گرے گا ، اسے تو درخت سے توڑنا پڑتا ہے۔
کاسترو کے بقول انقلاب ماضی کے تہہ خانے میں بند مستقبل کو آزاد کرانے کا نام ہے۔لینن کے بقول انقلابی نظریے کے بغیر انقلابی تحریک ممکن ہی نہیں۔ماؤزے تنگ کے بقول انقلاب کسی ضیافت کے کھانے، فن ِ مضمون نگاری یا کشیدہ کاری کے ہنر میں طاق ہونے جیسی دلچسپ ، گداز ، نفیس شے نہیں بلکہ ایک طبقے کے ہاتھوں دوسرا طبقہ کلی طور پر الٹائے جانے کا نام ہے اور یہ کام سو فیصد شائستگی و نفاست کے ساتھ ہونا بہت مشکل ہے۔

پھر بھی اگر کسی روسو ، لینن ، ماؤ ، چی گویرا ، کاسترو یا خمینی کو انقلاب بطور غریب کی جورو ریڑھے پر بیٹھا بھیک مانگتے دیکھنے کی چاہ ہو ، اگر کسی کو اپنے کانوں سننا ہو کہ میں چاہوں تو چوبیس گھنٹے میں انقلاب آ سکتا ہے مگر میں نے اپنے کارکنوں کو ملکی مفاد میں بہت مشکل سے روکا ہوا ہے ، یا حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو چودہ اگست کو انقلاب آوے ہی آوے ، یا میں نے ناسازی ِ طبع کے سبب انقلاب دو ہفتے کے لیے ملتوی کردیا ہے ، یا پولیس ایسے ہی تشدد کرتی رہی تو پھر ہم انقلاب کیسے لائیں گے، یا اگر تمہیں انقلاب نہیں چاہیے تو میں واپس جارہا ہوں یا میں انقلاب لائے بغیر چین سے نہیں بیٹھوں گا یا ہمیں ہمارا انقلاب شرافت سے دے دو ورنہ ہم چھین لیں گے، یا ضلعی انتظامیہ کے انقلابی اقدامات سے رمضان میں اشیا کے نرخ کنٹرول کرلیے گئے، یا گوادر کاشغر کاریڈور کی تکمیل سے ملک میں انقلاب آجائے گا، یا حکومت بجلی کا بحران حل کرنے کے لیے انقلابی اقدامات کررہی ہے یا سیکریٹری ایجوکیشن کان کھل کے سن لیں اگر اگلے اڑتالیس گھنٹے میں ایڈہاک ٹیچرز کو مستقل نہ کیا گیا تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا اور اس کے نتیجے میں خدانخواستہ انقلاب آگیا تو ہم ذمے دار نہ ہوں گے، یا ذرا تمیز سے بات کیجیے آپ کسی للو پنجو سے نہیں اصغر انقلابی سے مخاطب ہیں ، یا اظفر تیرے خون سے انقلاب آئے گا، یا حکیم قابل پسوڑی کی صرف ایک گولی گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں اور ایک رات میں انقلابی قوتِ مردانہ حاصل کرکے ازدواجی زندگی میں خوشگوار انقلاب لے آئیں (محدود عرصے کے لیے تعارفی قیمت فی کورس صرف پانچ صد روپے )۔
اگر یہ سب تماشا اور تماش بین اپنی آنکھوں دیکھنے ، کانوں سننے اور پھر کپڑے پھاڑ کے جنگل کی جانب دوڑنے کی تمنا ہو تو ویلکم ٹو پاکستان ٹو تھاؤزنڈ فورٹین۔۔۔۔

بھاڑ میں جائے ٹینیسی ولیمز کہ جس نے بکواس کی کہ انقلاب کو ایسے خواب دیکھنے والے چاہئیں جو انھیں یاد بھی رکھ پائیں۔کیڑے پڑیں ارسلا گوئین جیسی انارکسٹ کی قبر میں کہ جس نے یہ جاہلانہ بات کی کہ تم انقلاب نہ کسی دکان سے خرید سکتے ہو نہ گھر میں بنا سکتے ہو، انقلاب یا تو تمہاری رگوں میں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔یہ سب انقلابی اور ان کے افکار اور ان کی جدوجہد ، قربانیاں اور اخلاص تمہیں مبارک ۔

ہمیں تو اپنے سونامی انقلابی عمران خان ، ٹیلی فونک انقلابی الطاف حسین، موٹر وے انقلابی شریف برادرز ، ٹویٹری انقلابی بلاول بھٹو زرداری ، کنٹینری انقلابی طاہر القادری، سرخ ( حویلی ) انقلابی شیخ رشید ، مہمل انقلابی چوہدری شجاعت ، آرمڈ چئیر انقلابی حمید گل ، احتیاطی انقلابی سراج الحق اور سہولتی انقلابی فضل الرحمان ہی بہت۔۔۔۔۔۔
اے روحِ ’’ انقلاب ’’ ہمیں ناموں سے نہ پہچان

کل اور کسی نام سے آجائیں گے ہم لوگ

شجیع کو داد شجاعت دیں.......

$
0
0


معلم اور سیاستدان، کیا ان دو شخصیتوں میں کوئی مماثلت ہے؟ کیا آپ پسند کریںگے کہ پاکستانی سیاستدان آپ کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائیں، اسکول یا کالج کی سطح پر ان کے استاد کے فرائض انجام دیں؟ اور کیا آپ کو اس بات کا یقین ہے کہ جب آپ کے بچے ان سیاستدانوں کے زیرسایہ تعلیم وتربیت پائیں گے تو وہ دیانت وامانت کے پیکر ہوں گے اور جب پاس آوٹ ہوں گے تو ان کے ہاتھوں میں جعلی نہیں بلکہ اصلی ڈگری ہو گی؟ ان سوالوں کے جواب کے لیے آپ یقینا پہلے پاکستانی سیاسی شخصیات کا جائزہ لینا پسند کریں گے۔
آپ ان کے اخلاق، گفتار، کردار، معاملات اور تعلیمی قابلیت پر نظر ڈالیں گے، آپ جلسے جلوسوں میں استعمال ہونے والی زبان سنیں گے، اسمبلی اجلاس کی روداد پڑھیں گے اور ٹیلی ویژن ٹاک شوز میں ان کا انداز گفتگو دیکھیں گے۔ اس جائزے کی روشنی میں سیاستدانوں کا جو عمومی چہرہ آپ کے سامنے آئے گا وہ کچھ ان صفات سے عبارت ہو گا: وعدہ خلاف، جعلی ڈگری ہولڈرز، مخالفین کے لیے ناشائستہ اور بسا اوقات گھٹیا و بازاری زبان کا استعمال، اختیارات کا غلط استعمال، بدلتی وفاداریاں اور کرپشن کے اسکینڈلز۔ اگر صرف کراچی کا جائزہ لیں توآپ کو چند ایک کے سوا ہر سیاسی جماعت میں ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں کی فوج نظر آجائے گی۔

غرض کراچی سے خیبرتک آپ ہرجماعت اور اس سے تعلق رکھنے والے ایک، ایک رکن قومی اسمبلی کے ماضی میں جھانکتے چلے جائیں اور تجزیہ کرتے جائیں۔اس جائزہ کے بعد آپ کس فیصلے پر پہنچیں گے؟ یقینا، آپ ہاتھ جوڑ کر کہیں گے کہ برائے مہربانی، ہمارے بچوں کے مستقبل کے واسطے سیاست اور تعلیم، سیاستدان اور استاد کو الگ رکھیں۔ اساتذہ تو والد ین کی مانند ہوتے ہیں، طلباء تو بسا اوقات ساری زندگی اپنے اساتذہ کے سحر سے نکل نہیں پاتے۔ رہے سیاستدان، یہ پہلے خود امانت اور دیانت کے پیکر بن جائیں، پہلے خود اپنی ڈگریوں کی تصدیق کرا لیں پھر قوم کے بچوں کو تعلیم دیں۔

گو ہم بھی آمریت کو ٹھوس وجوہات، ماضی کے تلخ تجربات اور ایوب، ضیاء و مشرف کے طویل اور تاریک ادوار کے سبب ملک کے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں اور سیاسی عمل تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے پریقین رکھتے ہیں مگر سیاستدانوں کو بہرحال اپنے بچوں کے معلم کا درجہ دینے کو تیار نہیں تھے، کم از کم چند روز پہلے تک ہمارا یہی تاثر تھا مگر گزشتہ ماہ بالا کوٹ میں پیش آنیوالے واقعے نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر نصر اللہ شجیع کی زیر نگرانی کراچی کے طلباء کا ایک گروپ مطالعاتی دورے کے دوران بالاکوٹ میں سید احمد شہید کی قبر پر حاضری کے بعد دریائے کنہار پہنچا، کچھ وقت گزارنے کے بعد نصراللہ شجیع نے، جو دراصل ان بچوں کے اسکول ٹیچر تھے، واپسی کی کال دی، اسی دوران چٹان پر بیٹھے ایک بچے سفیان کا پائوں پھسل گیا اور وہ ڈوبنے لگا، نصراللہ شجیع نے ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر بچے کو بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی مگر پانی کا بہائو اس قدر تیز تھا کہ وہ طلباء کے محبوب استاد اور 2002 سے 2007 کے درمیان ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے رکن سندھ اسمبلی کو بھی بہا لے گیا۔

ہم یہ خبر پڑھ کر اب تک حیران ہیں کہ کیا قوم کو مشکل وقت میں تنہا چھوڑکر برطانیہ اور دبئی کے دورے کرنیوالے سیاستدان قوم کے مستقبل پر اپنا آج اس طرح قربان کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا کوئی سیاستدان حقیقتاً اس قدر مثالی استاد بھی ہو سکتا ہے؟ اور سیاستدان تو چھوڑیے کیا کسی استاد کی بھی اپنے طلباء سے اس قدر گہری وابستگی ہو سکتی ہے؟ نصراللہ شجیع کی اس قربانی نے نہ صرف ہمیں بلکہ یہ خبر سننے والے ہر فردکو حیرت میں ڈال دیا، ہر شخص کے دل سے ایک لمحے کے لیے یہ دعا بے اختیار نکلی کہ اے اللہ! تو نصر اللہ شجیع کو سلامتی کے ساتھ واپس لے آ۔

ایک استاد کی اس عظیم قربانی پر طلباء کا دھاڑے مار مار کر رونا تو فطری امر تھا مگرجب ہم نے 70 کی دہائی سے جماعت اسلامی کی حریف جماعت پیپلز پارٹی کے کراچی سے سینیٹر سعید غنی کو سینیٹ اجلاس میں دعا کی درخواست کراتے، اے این پی کے رہنما شاہی سید اور مسلم لیگی وفد کو جماعت اسلامی کے دفتر میں اظہار تعزیت کرتے، اور غائبانہ نماز جنازہ میں تقریباً تما م ہی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو اداس دیکھا تو احساس ہوا کہ شہید حریف جماعتوں کے ارکان کے لیے بھی کس قدر محترم تھے۔
سوال یہ ہے کہ نصراللہ شجیع نے یہ قربانی کیوں دی؟ کراچی جیسے شہر میں جہاں جماعت اسلامی تین بار میئر کا انتخاب جیت چکی ہے، وہ خود بھی 2002 میں ایم کیوایم کے امیدوار کو شکست دے کر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے، اپنے حلقے کے عوام میں مقبول تھے، کم عمر بھی تھے، کراچی جماعت کے نائب امیرتھے، ایسے میں ان کا سیاسی مستقبل خاصا تابناک نظرآتا تھا مگر پھر کس چیز نے نصر اللہ شجیع کو اپنی جان دائوپر لگانے پر مجبور کردیا؟
ہم نے نصر اللہ شجیع کے ماضی پر نظر ڈالی تو وہ ہمیں دور طالب علمی سے ہی خطرات میں کودتے اور دوسرے کی خاطر لڑتے نظر آئے۔ جب شہر کراچی کے گلی محلے عصبیت کی آگ میں جلائے جا رہے تھے تو شجیع اور ان کے ساتھی جان ہتھیلی پہ رکھ کر مومنین تو آپس میں بھائی بھائی ہیں کا درس دے رہے تھے، جب جامعہ کراچی میں انتظامیہ فیسوں میں من مانا اضافہ کر رہی تھی تو طالب علم رہنما شجیع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انتظامیہ کے سامنے دیوار بن کر کھڑے تھے، جب سندھی قوم پرست کا طلباء ونگ تعلیمی اداروں میں توڑ دو توڑدو پاکستان توڑدو کے نعرے لگا رہا تھا اور بعض گروپ پاکستان کے جھنڈے جلا رہے تھے تو شجیع اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ، زندگی کی قیمت کیا لاالہٰ الااللہ ، جینا کیا مرنا کیا لاالہ الااللہ کے نعرے بلند کر رہے تھے گویا پاکستان کے تحفظ کو اپنے عقیدے کا حصہ قرار دے رہے تھے۔

عملی سیاست میں قدم رکھا تو ووٹرز فون کرکے بتاتے کہ فلاں گروپ نے بھتے کی پرچی بھیجی ہے، آپ بے دھڑک جواب دیتے کہ اب اگر بھتہ خوروں کا فون آئے تو انھیں میرا نمبر دے دینا اور کہنا کہ ان سے بات کرلو۔! کسی بے گناہ کی گرفتاری کے خبر ملتی تو بلاتاخیر تھانے پہنچ جاتے۔ ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ نصر اللہ شجیع کی ساری جدوجہد اور قربانیاں کسی دنیاوی عہدے یا شہرت کے حصول کے گرد نہیں بلکہ اس حلف کے گرد گھوم رہی تھی جو تو انھوں نے دورجوانی میں اٹھایا تھا: بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میراجینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔

نصر اللہ شجیع جن تعلیمات سے متاثر تھے آپ نے انھیں صرف اپنے قول کا نہیں بنایا بلکہ عمل کا حصہ بنایا۔ اور جب انسان کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو اور زندگی میں دو رنگی کے بجائے یک رنگی ہو، امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوں ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اللہ کا رنگ اختیار کر لیا ہے۔ کہو: اللہ کا رنگ اختیار کرو، اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنیوالے لوگ ہیں (البقرۃ:آیت۸۳۱)

نصراللہ شجیع کی ساری زندگی بھی دراصل اللہ کی بندگی اور اس کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کی خواہش کے ساتھ گزری، انھیں جب اور جہاں موقع ملا تو اس خواہش کا اظہار قول سے نہیں بلکہ عمل سے کر دکھایا۔ انھوں نے عارضی زندگی پر حیات ابدی کو ترجیح دی اور جانتے بوجھتے خونی دریا کی موجوں سے جا ٹکرائے۔ خواہش نیک تھی، جذبہ صادق تھا، عمل خالص تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے قربانی بھی قبول فرمائی۔

کلاسیکی ڈراما نگاری کا درخشاں نام - فاطمہ ثریا بجیا

$
0
0


پاکستان ٹیلی ویژن کے ڈراموں کا جب بھی ذکر نکلتا ہے، تو ایک بات جس کی طرف فوراً دھیان جاتا ہے،وہ ڈرامے کی تہذیبی تربیت کا پہلو ہے، جو موجودہ دور میںتقریباً عنقا ہوگیا۔ان ڈراموں کے ذریعے معاشرے کو اپنی اقدارکے بارے میں بتایا جاتا تھا،اب تو ڈرامے کے نام پر گھرکی اختلافی سیاست سکھائی جارہی ہے۔ پی ٹی وی کی سنہری تاریخ میں جن لوگوں نے تہذیبی تربیت کی،ان میں سب سے اہم شعبہ ڈرامانگاری تھا۔پی ٹی وی کے اہم ڈرامانگاروں کا ہم جائزہ لیں ،توان میں ایک اہم نام ’’فاطمہ ثریا بجیا‘‘کاہے۔

بجیا نے تھیٹر، ریڈیو اورٹیلی ویژن کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے۔ پی ٹی وی کے قیام کے بعد کراچی ،لاہور اوراسلام آباد مراکز کے لیے بہترین ڈراماسیریل تصنیف کیے۔کئی یادگار ڈراما سیریز لکھیں۔خصوصی مواقعے پر مختصر نوعیت کے ڈرامے بھی تخلیق کیے۔ریڈیو کے لیے بھی کرداروں کو کہانیوں میں پرویا۔تاریخی اور نامور ناولوں سے ماخوذ کرکے کئی شاندار کہانیوں کو ڈرامائی تشکیل دی۔جاپان کے کلاسیکی ادب سے کہانیوں کواخذ کر تھیٹر کے ڈراموں میں ڈھالا۔بجیا نے ایک متحرک اور تخلیقی زندگی بسر کی،جس کی کوئی تمنا ہی کرسکتا ہے۔

بجیا ان دنوں علیل ہیں۔گزشتہ مہینے وہ گھر کے غسل خانے میں گریں،جس کی وجہ سے ان کو چوٹیں آئیں اورپھردوران علالت ہی ان پر فالج کا اٹیک بھی ہوگیا،جس سے جسم کاایک حصہ متاثر ہوا ہے۔اسپتال میں کچھ دن رہنے کے بعد انھیں چھٹی دے دی گئی۔اب بات چیت کرنے لگی ہیں،مگر مکمل صحت یاب ہونے میں انھیں وقت لگے گا،ان کے لیے دعائوں کی ضرورت ہے۔بزرگوں کا سایہ سر پرسلامت رہے،تو رحمت بھی اپنا دروازہ بند نہیں کرتی۔بجیا اس وقت 84برس کی ہیں،مگر اس حادثے سے پہلے تک انھوں نے متحرک زندگی گزاری۔ان دنوں وہ اپنے بہن بھائیوں کے پاس ہیں،جہاں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے ۔بجیا کے خاندان میں انور مقصود، زہرہ نگاہ،زبیدہ آپا جیسے تخلیق کار بہن بھائی شامل ہیں، جنھیں اپنے ہنر میں کمال حاصل ہے۔

بجیا ان سینئر ڈراما نگاروں میں سے ایک ہیں،جن کی تحریروں میں ان کا باطن بھی جھلکتا ہے۔جس طرح انھوںنے زمانے کی نبض کو محسوس کیا،اسی طرح انھوں نے تحریروں کے ذریعے معاشرے کی تربیت کی۔وہ اپنی ذات میں سراپا سادگی ہیں۔ان سے جب بھی کوئی ملاقات کرتا ہے تو وہ اس کانام منصب پوچھے بنا سر پرہاتھ پھیرتی ہیں اور طویل عمرکی دعا دیتی ہیں۔ہمارے ہاں ایسے بزرگ اب خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔

بجیا کاگھر ان کی تہذیبی زندگی کی مجسم تصویر ہے۔مہمان خانے میں دیواروں پرآویزاں تصویریں ان کے آبائواجداد کا احوال دکھاتی ہیں۔برصغیر کے نامور خاندان کی چشم و چراغ فاطمہ ثریا بجیا کو اپنے تہذیبی پس منظر پر فخر ہے۔مطالعے کے کمرے میں الماریوں میں سجی کتابیں ان کی فکری سطح کا پتہ دیتی ہیں۔چائے اورکھانا کھلائے بغیر کسی کواپنے گھر سے نہیں جانے دیتیں،یہ باتیں کرتے ہوئے ایسامحسوس ہو رہا ہے کہ ہم کسی اور زمانے کی بات کر رہے ہیں،مگر یہ کسی اورکی نہیں عہدِ بجیا کی بات ہو رہی ہے۔

بجیا نے 60کی دہائی سے ڈرامے لکھنے شروع کیے۔بچوں اورخواتین کے لیے بھی لکھا،کئی ایک پروگرام پروڈیوس بھی کیے۔ان خدمات پر بجیا کو حکومت پاکستان نے ’’تمغہ حسن کارکردگی‘‘سے نوازا جب کہ جاپان کی طرف سے انھیں شاہی اعزاز’’دی آرڈر آف دی سیکرڈ ٹریژر‘‘دیا گیا۔اس کے علاوہ لاتعداد اعزازات ملے،مگر سب سے بڑھ کر وہ مقام ہے ،جو بجیا کے مداحوں کے دل میں ہے۔
میری پہلی ملاقات بجیا سے تب ہوئی،جب میں جامعہ کراچی میں طالب علم تھا اور ہم چند دوستوں نے مل کر ایک تھیٹر فیسٹیول میں حصہ لیا،جہاں مختلف جامعات کے ڈرامے پیش کیے گئے، وہاں میرے ہدایت کردہ ڈرامے کو دوسری پوزیشن اور بہترین اداکارکا اعزاز ملا تھا۔یہ اعزاز مجھے اورمیرے دوستوں کو بجیا کے ہاتھوں ملا۔اس کے بعد بجیا سے کافی عرصے تک ملاقات نہ ہوسکی۔اس دوران مجھے قونصل خانہ جاپان کی طرف سے ایک جاپانی کھیل کو اسٹیج پر دکھانے کی پیش کش کی گئی۔

زمانہ، طالب علمی میں جیب میں پیسے نہیں ہوتے اوراس طرح کی سرگرمیوں کے لیے پیسوں اورتعاون کی ضرورت ہوتی ہے،لہٰذا یہ پیشکش میرے لیے رحمت ثابت ہوئی۔مجھے انھوںنے بجیا کا دوسری جنگ عظیم کے تناظر میں لکھا ہوا ایک ڈرامے’’خالی گود‘‘ کا مسودہ دیا اور بجیا سے ملاقات بھی کروائی ۔یوں جاپان معلوماتی اور ثقافتی مرکز کے لیے میں نے اس ڈرامے کوبجیا کی اجازت سے ایڈیٹ کیا اور اس کی ہدایات بھی دیں۔آرٹس کونسل آف پاکستان،کراچی میں یہ کھیل پیش کیاگیا اور اسے بہت مقبولیت ملی۔

اس کے بعد میری تدوین کی ہوئی ایک کتاب میں پاکستان اورجاپان دونوں ممالک کے مصنفین کی تحریریں شامل تھیں،بالخصوص وہ جاپانی دانشورجنھیں اردو زبان لکھنے اور بولنے پر عبور حاصل تھا، پھر جاپان میں اردو زبان کی ایک صدی سے زیادہ کی روایت ہے،یہ سب کچھ حیران کن تھا۔بجیا نے اس سلسلے میں رہنمائی کی اور ان کا لکھا ہوا ڈراما میرے لیے جاپانی ادب میں دلچسپی کاباعث بن گیا۔ آرٹس کونسل آف پاکستان ،راولپنڈی میں اس وقت کے سفیرجناب’’ہیروشی اوئے‘‘ نے تقریب میں شرکت کی ،جب کہ کراچی میں قائم قونصل خانہ جاپان کے قونصل جنرل جناب’’ آکیرا اُووچی ‘‘نے بھی تقریب کا انعقاد کیا۔

یہ سب کچھ بجیا کے ایک ڈرامے کا ثمر تھا ۔بجیا سے محبت اورجاپان سے تعارف نے مجھے اُکسایا کہ میں بجیا کے دیگر ڈراموں پرکام کروں، وہ ڈرامے وقت کی گرد تلے دبے ہوئے تھے۔بجیا نے جاپان کے کلاسیکی ادب سے ان کہانیوں کو ماخوذ کرکے لکھااوریہ تمام ڈرامے جاپان معلوماتی اور ثقافتی مرکز کے محمد عظمت اتاکا کی نگرانی میںاسٹیج بھی کیے گئے تھے۔ان ڈراموں میں اپنے وقت کے بڑے اداکاروں نے کام بھی کیا۔

بجیا کی بیماری سے چند دن پہلے میں جب ان کے گھر گیا، حسب روایت انھوںنے چائے بھی پلائی اورکہنے لگیں ’’میں نے بہت کامیاب زندگی گزاری،مگر بس اب کچھ پتا نہیں کب بلاواآجائے،اسی لیے میں نے اپنی کتابیں غالب لائبریری کو دے دی ہیں۔‘‘بجیا کاخلوص دیکھیں،انھوںنے اپنی کتابیں غالب لائبریری کو دے دیں تاکہ نئی نسل اورعوام ان کتابوں سے مستفید ہوسکیں۔

میں نے جاپانی سفارت کاروں اوربجیا کی اجازت سے ان کے اصلی مسودے حاصل کیے، پھر بجیا کی اجازت سے ان کی تدوین کی۔جاپانی ادیب،جن کی کہانیوں سے یہ ڈرامے ماخوذ کرکے لکھے گئے تھے،ان کے مکمل تعارف پر بھی کام کیا۔اب بجیا کے ان ڈراموں پر مشتمل کتاب تیار ہے اورطباعت کے مراحل میں ہے۔اس پر جاپان اورپاکستان کی ممتاز شخصیات نے اپنے تاثرات بھی رقم کیے ہیں،جس سے قارئین یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان کی ادبی وسماجی اہمیت کیاہے۔بہت جلد یہ کتاب شایع ہوجائے گی۔پاکستان میں جاپانی ڈراموں کی پہلی کتاب ہوگی اوربجیا کے یہ ڈرامے جو نظروں سے اوجھل تھے،ان تک قارئین کی دوبارہ رسائی ہوجائے گی۔تھیٹر ،ریڈیواور ٹیلی ویژن سے وابستہ ہنرمند بھی ان ڈراموں سے استفادہ کرسکیں گے اورقارئین کو عالمی ادب کے مزاج سے واقف ہونے کا موقع ملے گا۔

فاطمہ ثریا بجیا پاکستان کا فخر ہیں۔ہم خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ایسے لوگ ملے جنہوں نے ہمارے ملک کو دنیا بھر میں متعارف کروایا۔ امید ہے عیدالفطر کے بعد اس کتاب کی تقریب اجرا کے موقع پر بجیا ہمارے ساتھ ہوں گی۔ہم سب مل کر اپنے فخر کو ان پر نچھاور کریں گے۔جاپان کو بھی بجیا پر فخر ہے اور پاکستان کا فخر بجیا ہیں۔دوممالک اوردوتہذیبیں ایک ہی شخصیت کی مداح ہیں،تاریخ اس نام’’فاطمہ ثریابجیا‘‘کو سنہری حروف میں یاد رکھے گی ۔

Fatima Surayya Bajia

Viewing all 6213 articles
Browse latest View live